مشرق وسطیٰتازہ ترین

بنجمن نیتن یاھو سے رابطہ کسی صورت ممکن نہیں:لبنانی صدر

مجھے امید ہے کہ میں واشنگٹن کا دورہ کر سکوں گا تاکہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کر کے انہیں لبنان کی حقیقی صورتحال سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کر سکوں"۔

By VOG Urdu News Team
لبنانی عوام کی نظریں اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے دوسرے دور پر لگی ہیں جو واشنگٹن میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس موقع پر لبنانی صدر جوزف عون نے واضح کیا کہ واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے رابطوں کا مرکز جنگ بندی اور اسرائیل کے ساتھ حالتِ جنگ کے خاتمے کی بنیاد پر مذاکراتی عمل کا آغاز ہے۔ وزیر اطلاعات پال مرقص کے مطابق صدر عون نے اشارہ دیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے ساتھ رابطے کا کوئی امکان سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
صدر عون نے کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ "آج شام واشنگٹن میں جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک ملاقات ہوگی جس میں گھروں کی تباہی روکنے اور شہریوں، عبادت گاہوں، میڈیا نمائندوں، طبی عملے اور تعلیمی شعبے پر حملوں کی بندش بھی شامل ہے۔ امریکہ میں لبنان کی سفیر ندی حمادہ معوض اس ملاقات میں یہی ایجنڈا لے کر جائیں گی اور ان نکات کے حصول کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں گی”۔
انہوں نے مزید کہا کہ "مثبت پہلو یہ ہے کہ پہلی بار لبنان کی فائل امریکی میز پر واپس آئی ہے، خاص طور پر وزیر خارجہ کی میز پر جو قومی سکیورٹی کے مشیر کا عہدہ بھی رکھتے ہیں۔ اگر معاملات درست سمت میں چلے تو اس سے معیشت کی بحالی اور تعمیرِ نو کے راستے کھلیں گے۔ مجھے امید ہے کہ میں واشنگٹن کا دورہ کر سکوں گا تاکہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کر کے انہیں لبنان کی حقیقی صورتحال سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کر سکوں”۔
صدر عون کا کہنا تھا کہ "ہم واشنگٹن میں ہونے والے کے اجلاس کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں جنگ اور تباہی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن ذریعہ اختیار کروں گا”۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک، جو سنہ 1948ء سے سرکاری طور پر حالتِ جنگ میں ہیں، 14 اپریل سنہ 2026ء کو واشنگٹن میں مذاکرات کا ایک دور کر چکے ہیں جو سنہ 1993ء کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی کوشش تھی۔
ان مذاکرات کے دو دن بعد امریکہ نے دس روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، اس جنگ میں لبنان میں 2400 سے زائد افراد جاں بحق اور دس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔
تاہم اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود اپنی خلاف ورزیاں جاری رکھیں اور دوسری جانب حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوجیوں کے خلاف کارروائیاں کیں، لیکن ان واقعات سے مذاکراتی عمل متاثر نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے گذشتہ ہفتے شائع کیے گئے جنگ بندی معاہدے کے متن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل اپنے خلاف ہونے والی یا منصوبہ بند کارروائیوں کے مقابلے میں "حقِ دفاع” محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے حکومت پر رعایتیں دینے کا الزام لگایا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے سیاسی اور عوامی اتفاقِ رائے حاصل نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ حزب اللہ نے گذشتہ 2 مارچ سنہ 2026ء کو لبنانی سرحد پر محاذ کھول دیا تھا، باوجود اس کے کہ حکومت ایک طرف ایران اور دوسری طرف اسرائیل و امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں ملوث ہونے سے انکاری تھی۔
تاہم لبنانی حکام نے بارہا دہرایا ہے کہ مذاکرات، جنگ اور امن کا فیصلہ صرف حکومت کا اختیار ہے اور مذاکرات کے انتخاب کا مقصد ملک کو مزید المیوں سے بچانا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button