ایران جنگ کے اخراجات 25 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، امریکی سیاست اور معیشت پر اثرات نمایاں
امریکہ اور ایران کے درمیان یہ کشیدگی 28 فروری کو کھلی جنگی صورت اختیار کر گئی تھی۔ تاہم 8 اپریل کو دونوں ممالک کے درمیان ایک "نازک" جنگ بندی طے پائی، جو تاحال برقرار ہے۔
مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز
واشنگٹن: امریکہ اور Iran کے درمیان جاری کشیدگی اور محدود جنگی کارروائیوں پر اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ انکشاف پہلی بار امریکی محکمہ دفاع Pentagon کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے کیا گیا، جس کے بعد اس جنگ کے مالی بوجھ اور سیاسی اثرات پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق پینٹاگون کے کمپٹرولر Jules Hurst نے ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک جنگ پر 25 ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس رقم کا بڑا حصہ گولہ بارود،جنگی ساز و سامان،عسکری آپریشنزپر صرف کیا گیا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس رقم میں جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے اخراجات بھی شامل ہیں یا نہیں۔
امریکی کانگریس میں اس انکشاف کے بعد سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سینیئر ڈیموکریٹ رہنما ایڈم سمتھ نے کہا”ہم کافی عرصے سے جنگی اخراجات کے بارے میں سوال اٹھا رہے تھے، اب جا کر ہمیں کچھ وضاحت ملی ہے۔”
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو اپنی پارلیمانی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت چیلنج درپیش ہے۔
امریکہ میں حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ عوامی سطح پر غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ سروے کے مطابق صرف 34 فیصد امریکی اس جنگ کی حمایت کرتے ہیں.اپریل کے وسط میں یہ شرح 36 فیصد تھی.
ماہرین کے مطابق جنگ کے اخراجات اور اس کے معاشی اثرات نے عوامی رائے کو متاثر کیا ہے، جس کا سیاسی فائدہ Democratic Party کو مل سکتا ہے۔
اس جنگ میں اب تک امریکہ کے 13 فوجی ہلاک اورسینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
مزید برآں، جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں:ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،کھاد اور دیگر اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئی
ہو گئی ہیں، جس کا اثر امریکی معیشت سمیت عالمی مارکیٹ پر بھی پڑا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان یہ کشیدگی 28 فروری کو کھلی جنگی صورت اختیار کر گئی تھی۔ تاہم 8 اپریل کو دونوں ممالک کے درمیان ایک "نازک” جنگ بندی طے پائی، جو تاحال برقرار ہے۔
جنگ کے دوران امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں ہزاروں فوجی تعینات کیے،تین بحری بیڑے خطے میں بھیجے گئے.یہ اقدامات خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کیے گئے۔
جنگ کے آغاز کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگی اخراجات، جانی نقصان اور معاشی دباؤ نے عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے، جو آئندہ انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ پر بڑھتے ہوئے اخراجات اور اس کے سیاسی و معاشی اثرات امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ اگرچہ جنگ بندی فی الحال برقرار ہے، تاہم اس تنازع کے طویل المدتی اثرات نہ صرف امریکی سیاست بلکہ عالمی معیشت اور علاقائی استحکام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔



