لاہور کو چائلڈ فرینڈلی سٹی بنانے کا عزم،پاکستان کی 40 فیصد سے زائد آبادی بچوں پر مشتمل ہے،سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں
انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے باعث شہری زندگی متاثر ہو رہی ہے اور بچوں کی نشوونما بھی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ لاہور کو چائلڈ فرینڈلی سٹی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ بچوں کو محفوظ، صحت مند اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی 40 فیصد سے زائد آبادی بچوں پر مشتمل ہے، اس لیے شہری منصوبہ بندی میں بچوں کی ضروریات کو مرکزی حیثیت دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ایم او یو کی تقریب اور اہم شراکت دار
یہ خیالات انہوں نے لاہور میں یونیسف اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان چائلڈ فرینڈلی سٹی منصوبے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اظہار کیے۔
تقریب میں ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق اور یونیسف پاکستان کی نمائندہ پرنیل آئرنسائیڈ نے معاہدے پر دستخط کیے۔
اس موقع پر صوبائی وزیر پرائمری صحت خواجہ عمران نذیر، وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد، چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ، چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو سارہ احمد اور چیئرپرسن پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی جہاں آرا وٹو بھی شریک تھیں۔
تاریخی پیش رفت اور عالمی اہداف
سپیکر ملک محمد احمد خاں نے اس اقدام کو تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاہور اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کا پہلا چائلڈ فرینڈلی شہر بننے کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پائیدار ترقی کے عالمی اہداف (SDGs) کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
ان کے مطابق شہری ترقی صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ بچوں کے محفوظ مستقبل، معیاری تعلیم، بہتر صحت اور سماجی نشوونما سے جڑی ہوئی ہے۔
شہری مسائل اور چیلنجز کی نشاندہی
انہوں نے لاہور کو درپیش بنیادی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے کئی علاقوں میں اب بھی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔
- فٹ پاتھ کی کمی
- صاف پانی کی عدم دستیابی
- ٹریفک قوانین پر عملدرآمد میں کمزوری
انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے باعث شہری زندگی متاثر ہو رہی ہے اور بچوں کی نشوونما بھی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔
حکومتی اقدامات اور نجی شعبے کی اہمیت
سپیکر نے وزیراعلیٰ پنجاب کے “ستھرا پنجاب پروگرام” کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات شہر کی بہتری کے لیے نہایت اہم ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بڑے منصوبوں کی کامیابی کے لیے نجی شعبے کی شمولیت بھی ضروری ہے۔
انہوں نے “سیف سٹی” جیسے منصوبوں کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ نہ صرف سیکیورٹی بلکہ بچوں کی سماجی اور ذہنی نشوونما پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں، اگرچہ ان کا قیام ایک مشکل عمل ہے۔
بچوں کے حقوق اور قانون سازی
سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کر رہی ہے۔
انہوں نے خاص طور پر کم عمری کی شادی کے خلاف قانون کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ:
- چائلڈ رائٹس کاکس فعال کردار ادا کر رہا ہے
- خصوصی افراد کے حقوق کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں
- ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی وقت کی ضرورت ہے
شفافیت اور ایکسیسبیلٹی پر زور
انہوں نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ شہر میں ایکسیسبیلٹی کو یقینی بنانے کے لیے:
- اسکولوں
- ہسپتالوں
- پارکوں
- دیگر عوامی مقامات
کا جامع آڈٹ کیا جائے۔
مزید برآں، منصوبے کی شفافیت کے لیے اہداف اور ٹائم لائنز عوام کے سامنے لانے کی بھی ہدایت کی گئی۔
سماجی شمولیت اور مثبت پہلو
تقریب میں سائن لینگویج کی شمولیت کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچوں کی جانب سے سائن لینگویج میں قومی ترانے کی پیشکش معاشرتی شمولیت کی ایک بہترین مثال ہے۔
مستقبل کا وژن
سپیکر ملک محمد احمد خاں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر اس منصوبے پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو لاہور نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک ماڈل چائلڈ فرینڈلی شہر بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں پر سرمایہ کاری درحقیقت ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، جو معاشی ترقی اور سماجی استحکام کی بنیاد بنتی ہے۔



