یورپی سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹس کی اسٹریٹیجک سربراہ سمانتھا برجیس کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی رفتار فوری اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ ان کے بقول، ”بڑھتا ہوا درجہ حرارت، جنگلاتی آگ اور خشک سالی جیسے مسائل یہ واضح کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ہماری موجودہ حقیقت ہے۔‘‘
ایک اور گرم ترین سال
یورپ کے کم از کم 95 فیصد حصے میں درجہ حرارت سالانہ اوسط سے زیادہ رہا۔ برطانیہ، ناروے اور آئس لینڈ میں بھی گزشتہ سال موسمِ گرما معمول سے کہیں زیادہ گرم تھا۔ کئی ممالک میں گرمی کی لہر 25 دن تک جاری رہی۔ ناروے، سویڈن اور فن لینڈ میں 21 دن تک غیر معمولی گرمی پڑی، جبکہ آرکٹک خطہ بھی متاثر ہوا، جہاں عام طور پر دو دن سے زیادہ گرمی کی توقع نہیں ہوتی۔ اسپین نے 1975ء کے بعد اپنی شدید ترین گرمی کی لہر کا سامنا کیا۔

رپورٹ کے مطابق کوئلے، گیس اور تیل کے اخراج نے زمین کی آب و ہوا کو اس حد تک بدل دیا ہے کہ 2019ء کے بعد سے یورپ کے دس گرم ترین سالوں میں سے پانچ اسی عرصے میں ریکارڈ ہوئے۔ سمندری درجہ حرارت بھی مسلسل چوتھے سال اپنی بلند ترین سالانہ اوسط تک پہنچا، جس سے سمندری حیاتیاتی تنوع کو شدید نقصان پہنچا اور بڑے پیمانے پر جانوروں کی اموات واقع ہوئیں۔
لانسیٹ کاؤنٹ ڈاؤن کے مطابق 2024ء میں یورپ میں گرمی سے ہونے والی اموات 63 ہزار تک پہنچ گئیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ 2014ء کے بعد سے گرمی سے متعلق اموات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل سیلسٹی ساؤلو کے مطابق، ”یورپ عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس کے سماجی، معاشی اور ماحولیاتی اثرات بہت دور رس ہوں گے۔‘‘
ایک ملین ہیکٹر جنگلات خاکستر
گزشتہ برس مئی میں براعظم کے نصف سے زیادہ حصے میں خشک سالی رہی۔ مٹی میں نمی کی سطح انتہائی کم رہی، جس سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہوئی اور جنگلاتی آتشزدگی کے خطرات بڑھ گئے۔
جنگلاتی آگ کے لحاظ سے بھی 2025ء تباہ کن سال ثابت ہوا۔ اس سال یورپ میں دس لاکھ ہیکٹر سے زیادہ رقبہ جل کر راکھ ہو گیا۔ یونان میں صرف 24 گھنٹوں میں 50 مختلف مقامات پر جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی، جو حالیہ برسوں کے بدترین واقعات میں سے ایک تھا۔
گھٹتی برف اور بڑھتی سطحِ سمندر
درجہ حرارت میں اضافہ برفانی علاقوں کے تیزی سے پگھلنے کا باعث بن رہا ہے۔ مارچ میں یورپ نے برف کا وہ رقبہ کھو دیا، جو فرانس، اٹلی، جرمنی، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کے مجموعی رقبے کے برابر تھا۔ آئس لینڈ میں 1976ء کے بعد برف پگھلنے کا سب سے بڑا سالانہ نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
گرین لینڈ میں بھی آئس شیٹ سے تقریباً 139 گیگاٹن برف پگھل گئی۔ گزشتہ پچاس برسوں میں گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کی برف پگھلنے سے سطحِ سمندر میں تین سینٹی میٹر اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ ہر اضافی سینٹی میٹر تقریباً 60 لاکھ افراد کو سیلاب کے خطرے سے دوچار کرتا ہے۔
ماحول دوست توانائی، امید کی ایک کرن
فوسل فیول نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کو تیز کر رہے ہیں بلکہ سیاسی کشیدگی کے اس دور میں توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ اس پس منظر میں عالمی توانائی تھنک ٹینک ایمبر کے مطابق 2025ء میں پہلی بار یورپی یونین میں ہوا اور شمسی ذرائعسے حاصل ہونے والی توانائی نے فوسل فیول سے پیدا ہونے والی توانائی کو پیچھے چھوڑ دیا۔

یہ مسلسل چوتھا سال ہے، جس میں شمسی توانائی میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ہنگری، قبرص، یونان، اسپین اور نیدرلینڈز میں شمسی توانائی اب بجلی کی مجموعی پیداوار کا کم از کم پانچواں حصہ فراہم کر رہی ہے۔
ایمبر کی سینئر توانائی تجزیہ کار بیٹریس پیٹرووچ کے مطابق، ”یہ سنگِ میل ظاہر کرتا ہے کہ یورپی یونین کس تیزی سے ماحول دوست توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ فوسل فیول پر انحصار عالمی عدم استحکام کو بڑھاتا ہے، اس لیے صاف توانائی کی طرف منتقلی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔‘‘



