مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران کی امریکہ کو نئی تجاویز، جنگ کے مکمل خاتمے پر زور

اس سے قبل امریکہ نے ایران کو 9 نکات پر مشتمل اپنی تجاویز پیش کی تھیں، جنہیں ایران نے مسترد کرتے ہوئے 14 نکاتی متبادل پلان پیش کیا ہے۔

ایجنسیاں

ایران نے امریکہ کو ارسال کردہ اپنی تازہ تجاویز میں واضح کیا ہے کہ وہ محض عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ ایک جامع معاہدے کے ذریعے جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ان تجاویز میں دونوں ممالک کے درمیان تمام تنازعات کو 30 دن کے اندر حل کرنے کی شرط شامل کی گئی ہے۔


جامع معاہدے کی پیشکش، صرف جنگ بندی نہیں

ایرانی حکام کے مطابق نئی تجاویز کا بنیادی مقصد وقتی جنگ بندی کے بجائے ایک مستقل اور پائیدار امن قائم کرنا ہے۔ ان تجاویز میں سکیورٹی، معاشی اور علاقائی امور کو ایک ساتھ حل کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں کشیدگی دوبارہ نہ بڑھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی جزوی یا محدود معاہدے کے بجائے ایک مکمل فریم ورک چاہتا ہے، جس میں تمام بنیادی مسائل کا احاطہ کیا جائے۔


امریکی ردعمل: شکوک و شبہات برقرار

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم انہوں نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا کہ کوئی حتمی معاہدہ ہو سکے گا۔

اس سے قبل امریکہ نے ایران کو 9 نکات پر مشتمل اپنی تجاویز پیش کی تھیں، جنہیں ایران نے مسترد کرتے ہوئے 14 نکاتی متبادل پلان پیش کیا ہے۔


ایران کے اہم مطالبات کیا ہیں؟

نیم سرکاری خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق ایران کی تجاویز میں درج ذیل اہم مطالبات شامل ہیں:

  • ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ
  • امریکی بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ
  • خطے سے امریکی افواج کی واپسی
  • تمام محاذوں پر جنگی کارروائیوں کا خاتمہ
  • لبنان میں اسرائیل کی کارروائیوں کا رکنا

ایران کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔


جنگ بندی برقرار، مذاکرات جاری

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، تاہم گزشتہ تین ہفتوں سے جنگ بندی بظاہر قائم ہے اور پسِ پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک نازک موقع ہے جہاں معمولی پیش رفت بھی بڑے معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔


پاسداران انقلاب کا سخت مؤقف

دوسری جانب پاسداران انقلاب نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس صرف دو راستے ہیں:

"یا تو وہ ایران کے خلاف ایک ناممکن فوجی کارروائی کا انتخاب کرے، یا اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ایک بری ڈیل قبول کرے۔”

یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔


آبنائے ہرمز پر ایران کا دوٹوک مؤقف

ایرانی پارلیمان کے نائب اسپیکر علی نیکزاد نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

انہوں نے کہا:

"آبنائے ہرمز اسلامی جمہوریہ ایران کی ملکیت ہے اور ہم اسے جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں لے جائیں گے۔”

یاد رہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ میں جہازوں کو نشانہ بنانے اور دھمکیوں کے ذریعے عملی طور پر نقل و حرکت محدود کر دی تھی۔


امریکی ردعمل: بحری ناکہ بندی

جواب میں امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی تجارتی راستوں پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔


خطے اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔


نتیجہ: فیصلہ کن مرحلہ قریب؟

ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجاویز ایک بڑے سفارتی بریک تھرو کی بنیاد بن سکتی ہیں، تاہم امریکہ کے شکوک و شبہات اور دونوں ممالک کے سخت مؤقف اس عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ مذاکرات ایک جامع امن معاہدے کی صورت اختیار کرتے ہیں یا خطہ ایک بار پھر کشیدگی کی نئی لہر کی طرف بڑھتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button