گزشتہ رات اصل میں ایران کے مبینہ حملوں کا اصل ہدف کیا تھا ؟،خلیجی کشیدگی میں نیا موڑ
دفاعی و توانائی ماہرین کے مطابق ایران نے براہِ راست کسی فوجی اڈے یا شہری علاقے کو نشانہ بنانے کے بجائے ایک نہایت اہم اسٹریٹجک تنصیب کو ہدف بنایا
رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان گزشتہ رات ہونے والے مبینہ حملوں نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں متحدہ عرب امارات کے ساحلی شہر فجیرہ کو ہدف قرار دیا جا رہا تھا، تاہم اب سامنے آنے والی معلومات اس سے مختلف تصویر پیش کر رہی ہیں۔
فجیرہ نہیں، اسٹریٹجک پائپ لائن اصل ہدف؟
دفاعی و توانائی ماہرین کے مطابق ایران نے براہِ راست کسی فوجی اڈے یا شہری علاقے کو نشانہ بنانے کے بجائے ایک نہایت اہم اسٹریٹجک تنصیب کو ہدف بنایا۔ اطلاعات کے مطابق نشانہ بننے والی تنصیب “اے ڈی سی او پی” (Abu Dhabi Crude Oil Pipeline) ہے، جو 2012 میں ایک خاص مقصد کے تحت تعمیر کی گئی تھی۔
یہ پائپ لائن تقریباً 406 کلومیٹر طویل ہے اور اسے اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ ابوظہبی آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باوجود روزانہ تقریباً 15 لاکھ بیرل تیل کی برآمد جاری رکھ سکے۔ ماہرین اسے ایک طرح کی “انشورنس پالیسی” قرار دیتے ہیں، جو خلیجی تیل کی ترسیل کو متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔
آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کی حکمت عملی پر وار
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پائپ لائن کو نشانہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ایران نے براہِ راست آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے بجائے ان متبادل راستوں کو نقصان پہنچانے کی حکمت عملی اپنائی ہے، جو اس اہم سمندری گزرگاہ کے بائی پاس کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
یہ حکمت عملی عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم تیل گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
سعودی پائپ لائن پر حالیہ حملہ: ایک تسلسل؟
اس تناظر میں ماہرین سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر 8 اپریل کو ہونے والے حملے کو بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دے رہے ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں روزانہ تقریباً 7 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تھی۔
اگر ان دونوں واقعات کو جوڑ کر دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف 30 دنوں کے اندر خلیج میں موجود دو بڑے بائی پاس راستوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔
نئی عسکری حکمت عملی یا پیغام؟
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ ایک نئی نوعیت کی حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں براہِ راست بڑے تصادم سے گریز کرتے ہوئے حساس معاشی اور توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کے تحت آبنائے ہرمز کو بند کیے بغیر ہی عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کیا جا سکتا ہے، کیونکہ متبادل راستوں کی تباہی خود بخود سپلائی چین کو مفلوج کر دیتی ہے۔
عالمی توانائی مارکیٹ پر ممکنہ اثرات
توانائی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس نوعیت کے حملے جاری رہے تو عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ خلیجی خطہ پہلے ہی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کا شکار ہے، اور اس طرح کے واقعات عالمی معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
حقیقت اور قیاس آرائیاں: احتیاط ضروری
تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق متعلقہ حکومتوں یا بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں مصدقہ معلومات کا انتظار ضروری ہے، کیونکہ غلط یا نامکمل معلومات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
نتیجہ: بدلتی ہوئی جنگی و معاشی حکمت عملی
حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی صرف روایتی فوجی محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی اس کا مرکز بنایا جا رہا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری دنیا کو اس کے معاشی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس صورتحال میں عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور توانائی کے محفوظ و مستحکم بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔



