تعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر، ڈی جی پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس
نوجوان معاشرے میں تبدیلی کا سب سے بڑا محرک ہیں اور اگر انہیں درست سمت دی جائے تو وہ منشیات کے خلاف ایک مضبوط دیوار بن سکتے ہیں۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور: Punjab Counter Narcotics Force کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر مظہر اقبال نے Kinnaird College for Women University کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پرنسپل ڈاکٹر ارم انجم، فیکلٹی ممبران اور طالبات سے ملاقات کی اور تعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمے کے لیے مشترکہ کردار کی اہمیت پر زور دیا۔
“یوتھ اگینسٹ ڈرگز” سیمینار اور آگاہی واک
دورے کے دوران کالج کی اینٹی ڈرگ اینڈ ٹوبیکو سوسائٹی کے زیر اہتمام “یوتھ اگینسٹ ڈرگز” کے عنوان سے ایک آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں ڈی جی سی این ایف نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔ بعد ازاں انہوں نے طالبات اور اساتذہ کے ہمراہ منشیات کے خلاف آگاہی واک میں بھی شرکت کی۔
اپنے خطاب میں بریگیڈیئر مظہر اقبال نے کہا کہ نوجوان معاشرے میں تبدیلی کا سب سے بڑا محرک ہیں اور اگر انہیں درست سمت دی جائے تو وہ منشیات کے خلاف ایک مضبوط دیوار بن سکتے ہیں۔
پنجاب میں منشیات کا بڑھتا رجحان: تشویشناک اعداد و شمار
انہوں نے بتایا کہ Drug Abuse Control Council of Pakistan کے مطابق ملک میں منشیات کے عادی افراد میں تقریباً 45 فیصد کا تعلق پنجاب سے ہے، جن کی عمریں 15 سے 34 سال کے درمیان ہیں۔ ان میں بڑی تعداد طلبہ کی ہے، جس میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں شامل ہیں۔
ڈی جی سی این ایف نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بروقت آگاہی اور نگرانی نہ ہونے کی صورت میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
تعلیمی اداروں کا کردار اور خاموشی کا مسئلہ
بریگیڈیئر مظہر اقبال نے کہا کہ وہ صوبے بھر کے سینکڑوں تعلیمی اداروں کا دورہ کر چکے ہیں، تاہم اکثر اداروں کی جانب سے منشیات فروشی یا استعمال کے حوالے سے کوئی شکایت سامنے نہیں آتی۔
ان کا کہنا تھا کہ:
“جب تک اداروں کی انتظامیہ اور طلبہ خود آگے بڑھ کر مسائل کی نشاندہی نہیں کریں گے، اس وقت تک تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک بنانا ممکن نہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ منشیات فروشوں کی نشاندہی کرنے سے ادارے کی ساکھ متاثر نہیں ہوتی بلکہ خاموشی اختیار کرنا اصل نقصان کا سبب بنتا ہے۔
والدین اور طلبہ کے لیے اہم ہدایات
ڈی جی سی این ایف نے طلبہ کو ہدایت کی کہ اگر وہ اپنے اردگرد کسی ساتھی کو منشیات کی لت میں مبتلا دیکھیں تو فوری طور پر اس کے والدین یا اساتذہ کو آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ شکایت نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ اقدام ہے۔
انہوں نے والدین کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کی صحبت، سرگرمیوں اور خریداریوں پر نظر رکھیں، خصوصاً ایسی اشیاء پر جو بظاہر عام لگتی ہیں لیکن نشہ آور ہو سکتی ہیں۔
منشیات کی ترسیل میں نئی تکنیکیں اور کارروائیاں
بریگیڈیئر مظہر اقبال نے انکشاف کیا کہ حالیہ کارروائیوں میں بعض ڈیلیوری سروسز کو بھی منشیات کی ترسیل میں ملوث پایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی این ایف ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کر رہی ہے اور کسی قسم کی سفارش یا رعایت قبول نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے زور دیا کہ:
“نہ کسی بے گناہ کو سزا دی جا رہی ہے اور نہ ہی کسی مجرم کو چھوڑا جا رہا ہے۔”
اہم کامیابیاں اور آپریشنز
ڈی جی سی این ایف کے مطابق گزشتہ سات ماہ کے دوران پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس نے 1140 آپریشنز کے دوران 2.34 ارب روپے مالیت کی 21.7 ٹن منشیات قبضے میں لیں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے کے تمام 9 ڈویژنز میں سی این ایف کے دفاتر قائم کیے جا چکے ہیں اور فورس بیک وقت تمام اضلاع میں سرگرم عمل ہے۔
قانون سازی اور پالیسی اقدامات
بریگیڈیئر مظہر اقبال نے بتایا کہ Government of Punjab نشہ آور ادویات اور نکوٹین پاؤچز (nicotine pouches) کی فروخت پر پابندی کے لیے قانون سازی کر رہی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو نشے کی لت سے بچانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ منشیات کے خاتمے کے لیے اپنے قوانین نافذ کریں۔ اس سلسلے میں Punjab Control of Narcotics Substances Act 2025 کے تحت سی این ایف اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔
سی این ایف لوگو اور مشن کی وضاحت
ڈی جی سی این ایف نے طلبہ کو ادارے کے مشن اور لوگو کی علامتی اہمیت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ:
- گول دائرہ اتحاد اور جامع حکمت عملی کی علامت ہے
- عقاب کا سانپ کو تھامنا خیر و شر کی کشمکش کی نمائندگی کرتا ہے
- پانچ سفید لکیریں اور گندم کی بالیاں پنجاب کے پانچ دریاؤں اور زرعی ورثے کی علامت ہیں
مکالماتی سیشن اور اختتامی سرگرمیاں
سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کا ایک مکالماتی سیشن منعقد ہوا، جس میں طالبات اور فیکلٹی ممبران نے بھرپور شرکت کی۔ ڈی جی سی این ایف نے نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات اور اساتذہ میں اعزازی کیپس تقسیم کیں۔
آخر میں منشیات کے خلاف آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں طالبات نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے منشیات سے پاک معاشرے کے عزم کا اظہار کیا۔
نتیجہ: مشترکہ جدوجہد ہی کامیابی کی ضمانت
ماہرین کے مطابق منشیات کے خلاف جنگ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس میں تعلیمی اداروں، والدین، طلبہ اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہی مشترکہ کوششیں پاکستان کے نوجوانوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل فراہم کر سکتی ہیں۔





