آبنائے ہرمز کشیدگی: ایران کا امریکی “پروجیکٹ فریڈم” پر تنقید، اسے “پروجیکٹ ڈیڈلاک” قرار دے دیا
اس سفارتی عمل کی جانب بھی تھا جس میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی
تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں عباس عراقچی نے امریکہ کے مجوزہ بحری اقدام “پروجیکٹ فریڈم” کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “پروجیکٹ ڈیڈلاک” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ خطے میں جاری تنازعے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔
فوجی راستہ نہیں، سفارت کاری ہی واحد حل
ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (formerly Twitter) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور اس کے باوجود پیش آنے والے عسکری واقعات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طاقت کے استعمال سے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے لکھا:
“کسی بھی سیاسی بحران کا فوجی حل نہیں نکل سکتا۔”
ان کا اشارہ اس سفارتی عمل کی جانب بھی تھا جس میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔
امریکہ اور اتحادیوں کے لیے وارننگ
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کہیں وہ دوبارہ کسی طویل اور پیچیدہ جنگی دلدل میں نہ پھنس جائیں۔
انہوں نے خاص طور پر United Arab Emirates کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسے بھی اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، کیونکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات تمام ممالک کو متاثر کر سکتے ہیں۔
“پروجیکٹ فریڈم” کیا ہے؟
ایرانی وزیر خارجہ کی تنقید دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ایک نئے بحری اقدام “پروجیکٹ فریڈم” پر ہے۔ اس منصوبے کا مقصد آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے باوجود عالمی تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے۔
United States Navy کے مطابق اس منصوبے پر 4 مئی سے عملدرآمد شروع ہو چکا ہے، جس کے تحت خلیج فارس میں موجود تجارتی جہازوں کو متبادل سمندری راستوں سے گزارنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
متبادل بحری راستے اور امریکی نگرانی
“پروجیکٹ فریڈم” کے تحت امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کے عملے کو ہدایت دی ہے کہ وہ روایتی راستوں کے بجائے عمان کے قریب سمندری حدود سے گزرنے کی کوشش کریں۔
اس عمل کے دوران امریکی بحریہ ان جہازوں کو حفاظتی اسکواڈ فراہم کر رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچاؤ یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے مصروف اور حساس بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
ایران کا مؤقف: مسئلے کا حل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے
ایران کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف مسئلے کا حل پیش کرنے میں ناکام رہیں گے بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ عباس عراقچی کے مطابق امریکہ کا یہ منصوبہ عملی طور پر “ڈیڈلاک” پیدا کرے گا، کیونکہ یہ بنیادی سیاسی تنازعات کو نظر انداز کر کے صرف عسکری اور حفاظتی پہلوؤں پر توجہ دے رہا ہے۔
عالمی سطح پر تشویش اور ممکنہ اثرات
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔
اگرچہ امریکہ اس منصوبے کے ذریعے عالمی تجارت کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایران کی جانب سے اس پر تنقید خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی کشمکش کو ظاہر کرتی ہے۔
نتیجہ: سفارت کاری یا کشیدگی؟
موجودہ صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف عالمی طاقتیں بحری راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران سفارتی حل پر زور دے رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر فریقین نے فوری طور پر مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات نہ کیے تو یہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔



