سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز ،آئی ایس پی آر کے ساتھ
6 اور 7 مئی کی شب پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک غیر معمولی اہمیت کی حامل رات کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ “مارکۂ حق” کی پہلی برسی کے موقع پر پوری قوم بالخصوص پاک فضائیہ اپنے اُن تاریخی کارناموں کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے جنہوں نے نہ صرف دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا بلکہ قومی اعتماد، عسکری خود انحصاری اور دفاعی صلاحیتوں پر یقین کو بھی نئی طاقت بخشی۔
یہ تاریخی موقع اس عزم کی علامت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مسلسل جدید خطوط پر استوار کر رہی ہیں۔ بالخصوص پاک فضائیہ نے گزشتہ برسوں کے دوران جدید جنگی حکمتِ عملی، سمارٹ ٹیکنالوجیز، نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر اور ملٹی ڈومین آپریشنز میں مہارت حاصل کر کے اپنی فضائی طاقت کو ایک نئی جہت دی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور جنگی حکمتِ عملی کا کامیاب امتزاج
مارکۂ حق کے دوران پاک فضائیہ نے جدید ترین دفاعی نظاموں، ریئل ٹائم انٹیلی جنس، الیکٹرانک وارفیئر، مربوط فضائی نگرانی اور ہدف پر انتہائی درست حملوں کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ آپریشن نہ صرف وسعت کے اعتبار سے غیر معمولی تھا بلکہ جدید فضائی جنگ کے نئے معیارات بھی قائم کر گیا۔
جدید فضائی حکمتِ عملی کے تحت دشمن کی نقل و حرکت، اس کے مواصلاتی نظام اور اس کی جارحانہ تیاریوں پر گہری نظر رکھی گئی، جبکہ بروقت اور مربوط ردِعمل کے ذریعے دشمن کو واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان کی فضائی حدود ناقابلِ تسخیر ہیں۔
عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ نے مستقبل کی جنگی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے “فیوچر ریڈی ایئر پاور” بننے کی سمت میں تیز رفتار پیش رفت کی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت، خودکار دفاعی نظام، جدید ریڈار، ڈرون ٹیکنالوجی اور خلل ڈالنے والی نئی ٹیکنالوجیز کا مؤثر استعمال شامل ہے۔
ملٹی ڈومین آپریشنز میں مہارت: پاک فضائیہ کی نئی شناخت
مارکۂ حق نے یہ واضح کر دیا کہ جدید جنگیں صرف روایتی محاذوں تک محدود نہیں رہیں۔ زمینی، فضائی، بحری، سائبر اور الیکٹرانک محاذ اب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاک فضائیہ نے ملٹی ڈومین آپریشنز میں اپنی مہارت کے ذریعے اس بدلتے ہوئے جنگی ماحول میں اپنی برتری ثابت کی۔
ماہرین کے مطابق فضائیہ کی یہی ہمہ جہت صلاحیت پاکستان کے دفاع کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ مربوط آپریشنل حکمتِ عملی اور جدید جنگی تیاری نے پاک فضائیہ کو خطے کی ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد فضائی قوت کے طور پر مستحکم کیا ہے۔
قومی اعتماد اور جذبۂ حب الوطنی میں اضافہ
مارکۂ حق کی کامیابی نے پاکستانی قوم کے اندر اعتماد، حوصلے اور جذبۂ حب الوطنی کو نئی روح بخشی۔ اس کامیابی نے نہ صرف دفاعی اداروں پر عوامی اعتماد کو مزید مضبوط کیا بلکہ نوجوان نسل میں بھی وطن کے دفاع کے جذبے کو فروغ دیا۔
ملک بھر میں پہلی برسی کے موقع پر مختلف تقریبات، سیمینارز، خصوصی دعائیہ اجتماعات اور عسکری تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جہاں شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کا دفاعی نظریہ: امن، وقار اور خودمختاری
پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ ایک امن پسند ریاست ہے اور اس کی مسلح افواج کا بنیادی مقصد خطے میں امن، استحکام اور تزویراتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ عسکری قیادت کے مطابق پاکستان جنگ نہیں چاہتا، تاہم اگر اس کی خودمختاری، سلامتی یا علاقائی سالمیت کو چیلنج کیا گیا تو بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
دفاعی مبصرین کے مطابق پاکستان کی عسکری حکمتِ عملی ہمیشہ “امن کے ساتھ وقار” کے اصول پر قائم رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج دفاعی تیاری کو صرف قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔
ابھرتے ہوئے خطرات اور پاکستان کی دفاعی تیاری
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی جغرافیائی سیاسی حالات، جدید ہتھیاروں کی دوڑ اور مخالف قوتوں کی جارحانہ صلاحیتوں کے تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج مکمل طور پر چوکس ہیں۔ عسکری قیادت اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ مستقبل کی جنگیں ٹیکنالوجی، معلومات اور رفتار کی بنیاد پر لڑی جائیں گی۔
اسی تناظر میں پاک فضائیہ مسلسل اپنی جنگی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کر رہی ہے۔ جدید طیارے، جدید ریڈار سسٹمز، ایئر ڈیفنس نیٹ ورک، سائبر صلاحیتیں اور مربوط آپریشنل ڈھانچہ اس تیاری کا حصہ ہیں۔
عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان کی افواج مستقبل کے میدانِ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت، درستگی اور عزم کے ساتھ دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
پاک فضائیہ: قوم کے اعتماد اور طاقت کی علامت
مارکۂ حق کی پہلی برسی پر پوری قوم پاک فضائیہ کے افسران، جوانوں، انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور معاون عملے کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے، جن کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاک فضائیہ آج نہ صرف پاکستان کے دفاع کی علامت ہے بلکہ قومی وقار، طاقت اور خود اعتمادی کی بھی نمائندہ بن چکی ہے۔
شہداء اور غازیوں کو سلام
مارکۂ حق کے دوران وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔ ان کی قربانیاں ہمیشہ قوم کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی جبکہ غازیوں کی جرات، بہادری اور عزم آنے والی نسلوں کے لیے مثال ہے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
قوم اس عہد کی تجدید کرتی ہے کہ وطنِ عزیز کے دفاع، سلامتی اور خودمختاری پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم ہر خطرے کے مقابلے کے لیے متحد، پُرعزم اور تیار ہیں۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد!



