آبنائے ہرمز میں پھر چھڑی جنگ، امریکی اور ایرانی جہازوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، ایران نے امریکی بحریہ کے جہازوں کو نشانہ بنایا
ٹروتھ سوشل پر، ٹرمپ نے کہا کہ امریکی اور ایرانی جہازوں میں فائرنگ کے تبادلے کے باوجود جنگ بندی معاہدہ برقرار ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات (مقامی وقت) کو تصدیق کی کہ دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی بحری افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حملے کے باوجود، تین امریکی جہازوں نے کامیابی کے ساتھ سمندری راستے کو عبور کیا۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں، ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ کے تین جہاز آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے۔ انہوں نے بتایا کہ راستے میں ایرانی فورسز نے ان پر فائرنگ کی۔ "تینوں ڈسٹرائر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، لیکن ایرانی حملہ آوروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔”
یہ پیش رفت ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ کمانڈ کی ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر متعدد پوسٹس کے بعد ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی بحریہ نے جنوبی ایران میں جاسک کی بندرگاہ کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس سے ایرانی بحریہ نے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بناتے کر جوابی کارروائی کی۔
پاسداران انقلاب نے الزام لگایا کہ اس آپریشن میں امریکی ڈسٹرائر جہازوں پر جہاز شکن بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور خودکش ڈرون استعمال کیے گئے۔ آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری جہازوں کو کافی نقصان پہنچا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امریکی بحری جہاز بعد میں آبنائے ہرمز سے پیچھے ہٹ گئے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں، پاسداران انقلاب نے کہا کہ، "انٹیلی جنس نگرانی سے پتہ چلتا ہے کہ اس حملے میں امریکہ کو خاصا نقصان پہنچا ہے، اور اس کے تین حملہ آور جہاز آبنائے ہرمز کے علاقے سے عجلت میں بھاگ گئے۔”
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے جہاز مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور کہا کہ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روک دیا گیا۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ، "ہمارے ڈسٹرائر جہازوں پر میزائل داغے گئے، اور انہیں آسانی سے مار گرایا گیا۔ اسی طرح، ڈرون قریب آئے اور درمیانی ہوا میں ناکارہ کر دیے گئے۔ ٹرمپ نے کہا، وہ (ایرانی ڈرون) بہت خوبصورتی سے سمندر میں گرے، جیسے کوئی تتلی اپنی قبر میں گر رہی ہو۔
ٹرمپ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایرانی کو کافی نقصان پہنچا۔ انھوں نے کہا کہ، واقعے کے دوران کئی چھوٹی کشتیاں تباہ ہوئیں۔امریکی صدر نے ایران کی موجودہ قیادت پر کڑی تنقید کی اور تناؤ بڑھنے پر مزید جوابی کارروائی کی تنبیہہ کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران جلد ہی کسی معاہدے پر راضی نہ ہوا تو اسے مستقبل میں اس سے بھی زیادہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر نے کہا کہ، "ایک عام ملک ان تخریب کاروں کو گزرنے دیتا، لیکن ایران کوئی عام ملک نہیں ہے۔ اس کی قیادت پاگلوں کے ہاتھ میں ہے، اگر انہیں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا موقع ملتا تو وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ایسا کریں گے- لیکن انہیں یہ موقع کبھی نہیں ملے گا۔”
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا کہ، "جس طرح آج ہم نے انہیں بھگا دیا، اسی طرح ہم مستقبل میں اور بھی زیادہ طاقت اور پرتشدد طریقے سے ان کو بھگا دیں گے اگر وہ جلد ہی کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرتے ہیں! ہمارے تین ڈسٹرائر جہاز، اپنے شاندار عملے کے ساتھ، اب ہماری بحری ناکہ بندی میں دوبارہ شامل ہو جائیں گے- جو کہ حقیقت میں ‘اسٹیل کی دیوار’ ہے۔”



