مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران کا امریکہ پر شدید تنقید، آبنائے ہرمز کشیدگی کے بعد سفارتی عمل خطرے میں

تہران کا واشنگٹن پر سفارت کاری سبوتاژ کرنے کا الزام

ایرانی ایجنسیاں

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک مرتبہ پھر امریکہ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن دانستہ طور پر خطے میں کشیدگی بڑھا کر سفارتی عمل کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے ایسنا کے مطابق عراقچی نے اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا کہ امریکہ کا “تباہ کن اور اشتعال انگیز رویہ” خطے میں امن کی کوششوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بنتا جا رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کے اطراف امریکی فوجی نقل و حرکت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی افواج کی سرگرمیوں اور جنگ بندی کی متعدد مبینہ خلاف ورزیوں نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا واشنگٹن واقعی سفارتی حل میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔

آبنائے ہرمز میں خطرناک جھڑپ نے صورتحال مزید سنگین بنا دی

یہ بیانات ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب جمعرات کی شب آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان شدید جھڑپ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر اشتعال انگیزی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 8 اپریل 2026ء کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد اب تک کا سب سے خطرناک اور سنگین تصادم تصور کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس کشیدگی کو فوری طور پر قابو نہ کیا گیا تو خطہ ایک بار پھر کھلی جنگ کی جانب جا سکتا ہے۔

فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

عراقچی کا ایکس پر سخت بیان، امریکہ پر “فوجی مہم جوئی” کا الزام

عباس عراقچی نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ جب بھی سفارت کاری آگے بڑھنے لگتی ہے، امریکہ یا اس کے اتحادی کوئی نہ کوئی فوجی کارروائی کر کے مذاکراتی ماحول کو خراب کر دیتے ہیں۔

انہوں نے دو اہم فوجی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ:

  • پہلا بڑا حملہ جون 2025ء میں اسرائیل کی جانب سے کیا گیا جس کے نتیجے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ شدید جنگ چھڑ گئی۔
  • دوسرا حملہ فروری 2026ء کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر کیا، جس نے خطے میں کشیدگی کو نئی سطح تک پہنچا دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ان حملوں نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ بیک وقت مذاکرات اور عسکری دباؤ کی دوہری پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

تہران کا ممکنہ جواب، مستقل جنگ بندی کی امیدیں

سفارتی حلقوں میں اس وقت سب سے زیادہ توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ تہران آج رات امریکہ کی حالیہ تجویز پر اپنا باضابطہ جواب جمع کرانے والا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس تجویز کا مقصد مستقل جنگ بندی کی بنیاد رکھنا اور مستقبل میں وسیع تر مذاکرات کا آغاز کرنا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ اگر جنگ بندی پائیدار ثابت ہوئی تو اگلے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے، علاقائی سلامتی اور خلیجی استحکام جیسے پیچیدہ معاملات پر باضابطہ بات چیت شروع ہو سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ مذاکرات مشرق وسطیٰ کی سیاست کا رخ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم باہمی اعتماد کی شدید کمی اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ٹرمپ کی محتاط امید، جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دو دنوں کے دوران کئی بیانات میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ جھڑپ کے باوجود جنگ بندی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں “مستحکم اور دیرپا امن” چاہتا ہے، تاہم انہوں نے ایران پر بھی کشیدگی کم کرنے کی ذمہ داری عائد کی۔

امریکی انتظامیہ کے بعض عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر تہران مثبت جواب دیتا ہے تو آئندہ چند ہفتوں میں براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ممکن ہے۔

پاکستان کا اہم سفارتی کردار

اس تمام بحران میں پاکستان ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے حالیہ ہفتوں کے دوران تہران، واشنگٹن اور دیگر علاقائی دارالحکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں تاکہ جنگ بندی کو مستقل شکل دی جا سکے۔

پاکستانی حکام نے محتاط انداز میں امید ظاہر کی ہے کہ فریقین مکمل جنگ سے گریز کریں گے، تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی بنیادی تنازعات اب بھی حل طلب ہیں۔ ذرائع کے مطابق خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں، اسرائیل کے کردار اور خلیجی سلامتی کے معاملات مذاکرات میں سب سے زیادہ پیچیدہ موضوعات ہیں۔

عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ

یورپی اور خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ متعدد ممالک نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کو مزید بڑھانے سے گریز کریں۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر موجودہ بحران کو سفارتی طریقے سے حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

مستقبل غیر یقینی، مذاکرات کا راستہ دشوار

اگرچہ دونوں جانب سے سفارت کاری جاری رکھنے کے اشارے مل رہے ہیں، لیکن حالیہ عسکری جھڑپوں نے واضح کر دیا ہے کہ اعتماد کا فقدان بدستور موجود ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن اس بحران کے مستقبل کا تعین کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

تہران کے ممکنہ جواب، واشنگٹن کے ردعمل اور خطے میں فوجی سرگرمیوں کی نوعیت اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا مشرق وسطیٰ ایک نئے امن معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے یا ایک اور بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button