پنجاب میں آبادی کے مؤثر انتظام، خاندانی بہبود اور ماں و بچے کی صحت کے فروغ کے لیے ایڈووکیسی ورکشاپ کا انعقاد
محکمہ صحت و آبادی عوام تک بہتر خدمات کی فراہمی، آگاہی کے نظام کو مؤثر بنانے، اور خصوصاً پسماندہ علاقوں میں تولیدی صحت کی سہولیات تک رسائی بڑھانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے
قاسم بخاری -پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
ڈائریکٹوریٹ جنرل پاپولیشن ویلفیئر، محکمہ صحت و آبادی پنجاب کے زیرِ اہتمام آج پی سی ہوٹل لاہور میں’’پارلیمنٹیرینز، وزراء، ترقیاتی شراکت داروں اور اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایڈووکیسی ورکشاپ‘‘کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا مقصد پنجاب میں آبادی کے مؤثر انتظام، متوازن خاندانی نظام، اور ماں و بچے کی صحت کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشوں کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
اس اہم ورکشاپ میں اراکینِ اسمبلی، ترقیاتی اداروں کے نمائندگان، محکمہ صحت و آبادی کے افسران، میڈیا نمائندگان، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے پائیدار آبادیاتی منصوبہ بندی، خاندانی بہبود کے اقدامات، اور آبادی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
تقریب میں صوبائی وزیر صحت و آبادی پنجاب خواجہ عمران نذیر، وزیراعلیٰ پنجاب کی کوآرڈینیٹر برائے آبادی سائرہ افضل تارڑ، اور سیکرٹری محکمہ صحت و آبادی پنجاب نادیہ ثاقب نے خصوصی شرکت کی۔
دیگر ممتاز شرکاء میں ڈاکٹر عزیز رب، پارلیمانی سیکرٹری اسماء ناز، کنول لیاقت، پولیو کوآرڈینیٹر عظمیٰ کاردار، رشدہ لودھی، ذکیہ شاہنواز خان، موتیہ بیگم، ملک خالد کھوکھر، ملک شہباز کھوکھر، نرگس فیض، سلطان احمد باجوہ سمیت 40 سے زائد اراکینِ اسمبلی اور معروف میڈیا شخصیت منیزہ ہاشمی شامل تھیں۔
مقررین نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی صحت، تعلیم، معیشت، ماحولیات اور مجموعی سماجی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی اور عوام کے بہتر معیارِ زندگی کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ خاندانی منصوبہ بندی اور بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ ماں اور بچے کی اموات میں کمی، خواتین کی بہتر صحت، خاندانوں کے استحکام، اور معاشی بہتری کے لیے نہایت اہم ہیں۔ مقررین کے مطابق عوامی آگاہی میں اضافہ، معیاری تولیدی صحت کی سہولیات تک رسائی، اور مضبوط سیاسی عزم آبادی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے بنیادی عناصر ہیں۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے اس موقع پر حکومتِ پنجاب کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں، منتخب نمائندوں، ترقیاتی شراکت داروں اور میڈیا کے ساتھ قریبی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مثبت سماجی رویوں کے فروغ اور ذمہ دارانہ خاندانی طرزِ عمل کے لیے مشترکہ کاوشیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی کوآرڈینیٹر برائے آبادی سائرہ افضل تارڑ نے خاندانی منصوبہ بندی، ماں اور بچے کی صحت سے متعلق آگاہی کے فروغ میں ایڈووکیسی اور کمیونٹی انگیجمنٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ورکشاپ میں شریک اراکینِ اسمبلی اور دیگر شراکت داروں کی شرکت کو خوش آئند قرار دیا۔
سیکرٹری محکمہ صحت و آبادی پنجاب نادیہ ثاقب نے کہا کہ محکمہ صحت و آبادی عوام تک بہتر خدمات کی فراہمی، آگاہی کے نظام کو مؤثر بنانے، اور خصوصاً پسماندہ علاقوں میں تولیدی صحت کی سہولیات تک رسائی بڑھانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔
ورکشاپ کے دوران شرکاء نے اپنی تجاویز بھی پیش کیں اور عوامی آگاہی مہمات، کمیونٹی موبلائزیشن، اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کے حوالے سے اہم سفارشات مرتب کیں۔
ورکشاپ کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب اور پاکستان کو صحت مند، خوشحال اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے آبادی کے متوازن انتظام، خاندانی بہبود، اور ماں و بچے کی صحت کے فروغ کے لیے مشترکہ آگاہی اور ایڈووکیسی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔



