اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

پاکستان میں مقامی ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے اہم پیش رفت، وزارت دفاعی پیداوار کا نجی شعبے کے ساتھ مشترکہ مشاورتی اجلاس

سیکرٹری دفاعی پیداوار لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد چراغ حیدر نے شرکاء کو یقین دلایا کہ نجی شعبے کی سفارشات کو مستقبل کی قومی پالیسی سازی میں شامل کیا جائے گا تاکہ پاکستان میں ایک مضبوط، پائیدار اور خود کفیل ڈرون انڈسٹری قائم کی جا سکے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وزارت دفاعی پیداوار نے ملک میں مقامی سطح پر ڈرون ٹیکنالوجی اور بغیر پائلٹ فضائی نظام (UAS) کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے نجی شعبے کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی انٹرایکٹو سیشن منعقد کیا۔ یہ اجلاس ڈائریکٹوریٹ جنرل ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اسٹیبلشمنٹ میں منعقد ہوا جہاں جدید ڈرون ٹیکنالوجی، قومی دفاع، نگرانی کے نظام اور مستقبل کی جنگی ضروریات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت سیکرٹری دفاعی پیداوارلیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد چراغ حیدرنے کی، جبکہ اس میں بغیر پائلٹ فضائی نظام تیار کرنے والی نجی کمپنیوں، دفاعی ماہرین، انجینئرز، ریسرچرز اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور پاکستان میں جدید ڈرون ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا تھا۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حالیہ عالمی تنازعات اور جنگی حالات نے ڈرون ٹیکنالوجی کی اہمیت کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ جدید جنگ میں ڈرونز اب صرف نگرانی تک محدود نہیں رہے بلکہ انٹیلی جنس اکٹھا کرنے، سرحدی نگرانی، ہدف کی شناخت، درست حملوں اور الیکٹرانک وارفیئر میں بھی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی جنگوں میں بغیر پائلٹ نظام فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور وہ ممالک جو اس ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہوں گے، انہیں دفاعی برتری حاصل ہوگی۔
اجلاس میں شریک نجی کمپنیوں نے اپنے تجربات، تکنیکی چیلنجز، ریگولیٹری مسائل اور پالیسی سے متعلق تجاویز وزارت دفاعی پیداوار کے سامنے پیش کیں۔ صنعت سے وابستہ نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی سطح پر ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے حکومتی سرپرستی، مالی معاونت، جدید ٹیسٹنگ سہولیات اور واضح پالیسی فریم ورک ناگزیر ہیں۔
سیکرٹری دفاعی پیداوار لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد چراغ حیدر نے شرکاء کو یقین دلایا کہ نجی شعبے کی سفارشات کو مستقبل کی قومی پالیسی سازی میں شامل کیا جائے گا تاکہ پاکستان میں ایک مضبوط، پائیدار اور خود کفیل ڈرون انڈسٹری قائم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دفاعی ٹیکنالوجی میں نجی شعبے کے کردار کو انتہائی اہم سمجھتی ہے اور ریاستی ادارے اس شعبے میں ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزارت دفاعی پیداوار ریگولیٹری طریقہ کار کو آسان بنانے، ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر کی بہتری، تحقیق و ترقی کے فروغ اور مقامی کمپنیوں کو خریداری کے نظام میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تیار کردہ ڈرونز نہ صرف ملکی دفاعی ضروریات پوری کر سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں برآمدی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی صرف عسکری شعبے تک محدود نہیں بلکہ زراعت، قدرتی آفات کی نگرانی، شہری سکیورٹی، ماحولیاتی جائزوں، تیل و گیس کے انفراسٹرکچر کی نگرانی اور صنعتی سرویلنس میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پاکستان بروقت اس شعبے میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو یہ نہ صرف دفاعی بلکہ معاشی لحاظ سے بھی ایک اہم صنعت بن سکتی ہے۔
شرکاء نے عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور دیگر حالیہ تنازعات نے واضح کر دیا ہے کہ ڈرونز جدید جنگ کا بنیادی جزو بن چکے ہیں۔ کم لاگت، تیز رفتار تعیناتی اور درست ہدفی صلاحیت کے باعث دنیا بھر کی افواج روایتی جنگی نظام کے ساتھ ساتھ بغیر پائلٹ نظاموں پر تیزی سے انحصار بڑھا رہی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے مقامی سطح پر ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ مستقبل میں بیرونی انحصار کم کرنا قومی سلامتی کی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی پر عالمی پابندیوں، برآمدی کنٹرولز اور جغرافیائی سیاسی دباؤ کے ماحول میں مقامی دفاعی پیداوار کو مضبوط بنانا قومی ترجیح قرار دیا جا رہا ہے۔
اجلاس کے دوران تحقیق و ترقی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ شرکاء نے تجویز دی کہ جامعات، ریسرچ اداروں اور دفاعی صنعت کے درمیان روابط مضبوط کیے جائیں تاکہ مصنوعی ذہانت، خودکار نیویگیشن، سینسر ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک وارفیئر جیسے شعبوں میں مقامی مہارت پیدا کی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نوجوان انجینئرز اور ٹیکنالوجی ماہرین کی بڑی تعداد موجود ہے، جو مناسب سرپرستی ملنے پر عالمی معیار کی دفاعی مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی تناظر میں حکومت کی جانب سے نجی شعبے کو قومی دفاعی منصوبوں میں شامل کرنا ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ریاستی ادارے اور نجی ٹیکنالوجی کمپنیاں مل کر پاکستان میں جدید بغیر پائلٹ فضائی نظام کی تیاری کو تیز کریں گی تاکہ ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مقامی سطح پر تیار کردہ ڈرون ٹیکنالوجی مستقبل میں پاکستان کی دفاعی خود کفالت، قومی سلامتی اور تکنیکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان جدید جنگی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر حکومتی سرپرستی، نجی شعبے کی مہارت اور تحقیقاتی اداروں کی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں یکجا کیا گیا تو پاکستان مستقبل میں خطے کے اہم ڈرون ٹیکنالوجی مراکز میں شامل ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button