وجے حکومت تامل ناڈو میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب
اعتماد کے ووٹ کے دوران اسمبلی میں خاصی سیاسی ہلچل بھی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن جماعت اے آئی اے ڈی ایم کے کے تقریباً 25 ارکان نے وجے حکومت کے حق میں ووٹ دیا۔
بھارتی ریاست تامل ناڈو کے نومنتخب وزیر اعلیٰ جوزف وجے نے بدھ کو ریاستی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا، جس کے بعد ان کی حکومت نے مطلوبہ اکثریت ثابت کر دی۔
234 رکنی اسمبلی میں وجے کی حکومت کے حق میں 144 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ 22 اراکین نے مخالفت کی۔ پانچ ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی جماعت ’’تملگا ویٹری کژگم‘‘ (ٹی وی کے) 23 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں 108 نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری تھی، تاہم اسے واضح اکثریت کے لیے مزید 10 نشستوں کی ضرورت تھی۔
بعد ازاں اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل ہونے پر وجے نے گزشتہ اتوار وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

وجے نے 2024 میں فلمی دنیا چھوڑ کر سیاست میں قدم رکھا اور اپنی جماعت ٹی وی کے کی بنیاد رکھی۔ اپریل کے انتخابات ان کی جماعت کا پہلا انتخابی امتحان تھے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وجے کا سیاسی سفر ان کے فلمی کیریئر سے ملتا جلتا ہے، جہاں ابتدائی تنقید کے باوجود وہ بعد میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
اس انتخابی کامیابی کے ساتھ ہی وجے نے تامل ناڈو کی سیاست میں تقریباً 60 برس سے قائم دو بڑی جماعتوں دراوڑا منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) اور آل انڈیا انا دراوڑا منیترا کڑگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کی اجارہ داری کا خاتمہ کر دیا۔
اعتماد کے ووٹ کے دوران اسمبلی میں خاصی سیاسی ہلچل بھی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن جماعت اے آئی اے ڈی ایم کے کے تقریباً 25 ارکان نے وجے حکومت کے حق میں ووٹ دیا۔
اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وجے نے حمایت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور اپنی حکومت کو ’’عام لوگوں کی حکومت‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اس حکومت کو اقلیتی حکومت سمجھتا ہے تو انہیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ یہ حکومت اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے والی حکومت ہے۔
وجے نے کہا کہ ان کی حکومت خواتین، بچوں، بزرگوں، نوجوانوں، سرکاری ملازمین، اساتذہ اور محنت کش طبقے سمیت تمام طبقات کے لیے کام کرے گی۔



