مشرق وسطیٰتازہ ترین

اسرائیلی فوج نے تمام میدانوں میں نئی حقیقت پیدا کر دی، چیف آف اسٹاف ایال زامیر کا دعویٰ

مغربی کنارے کے دورے میں اسرائیلی فوجی قیادت کا سخت مؤقف

ایال زامیر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے خطے کے مختلف محاذوں پر ’’ایک نئی سکیورٹی حقیقت‘‘ قائم کر دی ہے اور فوج کسی بھی وقت دوبارہ وسیع جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

بدھ کے روز مغربی کنارے کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی چیف آف اسٹاف نے کہا کہ فوج مسلسل جنگی تیاری کی حالت میں ہے اور بیک وقت مختلف محاذوں پر دفاعی اور جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ، جنوبی لبنان اور مغربی کنارے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ اسرائیلی آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں میں بھی شدت دیکھی جا رہی ہے۔

’’بیت المقدس سے تہران تک ہر محاذ پر تیار ہیں‘‘

ایال زامیر نے کہا کہ اسرائیلی فوج ’’بیت المقدس سے مغربی کنارے اور تہران تک‘‘ ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی افواج دفاعی اقدامات کے ساتھ ساتھ حملہ آور کارروائیوں کے لیے بھی مکمل مستعد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج نے لبنان، غزہ اور دیگر محاذوں پر اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ایک نئی عسکری حقیقت پیدا کی ہے، جہاں روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

اسرائیلی چیف آف اسٹاف کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج مسلسل آپریشنز کر رہی ہیں اور حزب اللہ کے عسکری انفراسٹرکچر، اسلحہ مراکز اور جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

لبنان میں کارروائیاں اور حزب اللہ پر دباؤ

زامیر نے کہا کہ اسرائیلی فوج دریائے لیطانی کے اطراف اور جنوبی لبنان کے دیگر علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کا مقصد حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔

اس وقت جنوبی لبنان کے درجنوں قصبوں اور دیہات میں اسرائیلی فوجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق تقریباً 65 قصبے اور دیہات اسرائیلی کنٹرول یا نگرانی میں آ چکے ہیں۔

دوسری جانب لبنانی حکام اور حزب اللہ اسرائیلی حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے خبردار کر چکے ہیں کہ اگر حملے جاری رہے تو خطہ ایک بڑی جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔

غزہ میں ’’یلو لائن‘‘ کی توسیع

اسرائیلی چیف آف اسٹاف کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج نے غزہ میں نام نہاد ’’یلو لائن‘‘ یا ’’پیلی لکیر‘‘ کو مزید وسعت دے دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج اب غزہ کے تقریباً 65 فیصد حصے پر قابض یا کنٹرول قائم کر چکی ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جو شدید بمباری اور زمینی کارروائیوں کے باعث بڑی حد تک تباہ ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ میں کارروائیوں کا مقصد مسلح گروہوں کے نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر کو ختم کرنا ہے، جبکہ فلسطینی حکام کے مطابق مسلسل حملوں سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

مغربی کنارے میں کشیدگی میں اضافہ

مغربی کنارے میں حالیہ ہفتوں کے دوران اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں اور فوجی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق متعدد دیہات اور شہری علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے کئی مقامات پر چھاپے مار کارروائیاں بھی کیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے اور فلسطینی شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

زامیر نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج تمام محاذوں پر متحرک ہے اور مختلف بریگیڈز کو ایک محاذ سے دوسرے محاذ پر فوری منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ناحل بریگیڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں شدید لڑائی کے بعد اسے فوری طور پر مغربی کنارے میں تعینات کر دیا گیا۔

’’معرکہ ابھی ختم نہیں ہوا‘‘

اسرائیلی چیف آف اسٹاف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ جنگی صورتحال ابھی ختم نہیں ہوئی اور اسرائیلی فوج ضرورت پڑنے پر دوبارہ بڑے پیمانے پر لڑائی شروع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ان کے مطابق فوج مسلسل الرٹ حالت میں ہے اور مختلف محاذوں پر بیک وقت کارروائیاں انجام دے رہی ہے۔

زامیر نے کہا:
“ہم بلا وقفہ کام کر رہے ہیں، کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، اور فوج ہر وقت تیار ہے۔”

ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں پر قیاس آرائیاں

ایران کے حوالے سے بھی خطے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق تل ابیب، Donald Trump کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کے اندر مخصوص اہداف پر مشترکہ یا محدود حملے کیے جائیں۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکہ تہران کے ساتھ ایسا معاہدہ کر سکتا ہے جو اسرائیلی مفادات کے مطابق نہ ہو۔

اگرچہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ امریکی اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم مشرق وسطیٰ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

خطے میں بڑے تصادم کا خطرہ

سیاسی اور عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اس وقت بیک وقت غزہ، لبنان، مغربی کنارے اور ایران سے متعلق خطرات کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ خطے میں طاقت کے توازن میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔

عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی ممالک، بارہا فریقین سے تحمل اور جنگ بندی کی اپیل کر چکے ہیں، تاہم زمینی صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل، حزب اللہ اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button