پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

وفاقی محتسب کی مداخلت سے شہری کو 29 سال بعد انصاف مل گیا، ہاؤسنگ سوسائٹی نے پلاٹ الاٹ کر دیا

ذرائع کے مطابق اس دوران مرزا حبیب اللہ خان شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار رہے اور بعد ازاں انہیں فالج کا عارضہ بھی لاحق ہو گیا۔ بیماری کے باوجود وہ اپنے حق کے حصول کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وفاق محتسب کی مؤثر مداخلت کے نتیجے میں ایک شہری کو تقریباً 29 سال بعد اس کا قانونی حق مل گیا، جب کے آر ایل ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی نے طویل انتظار کے بعد درخواست گزار کو متبادل پلاٹ الاٹ کرکے اس کا قبضہ بھی دے دیا۔ اس پیش رفت کو وفاقی محتسب کے ادارے کی جانب سے عوامی مسائل کے حل اور شہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مرزا حبیب اللہ خان، جو ضلع رحیم یار خان کے ایک نواحی گاؤں کے رہائشی ہیں، نے 1997 میں روات اسلام آباد میں واقع کے آر ایل ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں دس مرلے کا ایک پلاٹ خریدا تھا۔ انہوں نے پلاٹ کی تمام واجبات اور اقساط مکمل طور پر ادا کر دی تھیں، جس کے بعد سوسائٹی کی جانب سے انہیں قبضہ لیٹر بھی جاری کر دیا گیا۔ تاہم اس کے باوجود انہیں عملی طور پر پلاٹ کا قبضہ فراہم نہیں کیا گیا۔
درخواست گزار کے مطابق وہ کئی دہائیوں تک مختلف دفاتر اور متعلقہ حکام کے چکر لگاتے رہے، لیکن ان کی داد رسی نہ ہو سکی۔ انہوں نے متعدد بار سوسائٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا، درخواستیں دیں اور قانونی تقاضے پورے کیے، مگر انہیں مسلسل ٹال مٹول کا سامنا کرنا پڑا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ نہ صرف مالی بلکہ انسانی المیے کی شکل اختیار کر گیا۔
ذرائع کے مطابق اس دوران مرزا حبیب اللہ خان شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار رہے اور بعد ازاں انہیں فالج کا عارضہ بھی لاحق ہو گیا۔ بیماری کے باوجود وہ اپنے حق کے حصول کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ کمزور صحت کے باوجود سوسائٹی اور مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے رہے، لیکن ان کی مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی گئیں۔
بالآخر ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد انہوں نے وفاق محتسب سے رجوع کیا، جہاں ان کی درخواست کو تنازعات کے غیر رسمی حل کے پروگرامIRD (تنازعات کا غیر رسمی حل) کے تحت باقاعدہ طور پر درج کیا گیا۔ وفاقی محتسب کے دفتر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی سے رپورٹ طلب کی۔
وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ کی نگرانی میں کیس کی متعدد سماعتیں ہوئیں، جن میں شکایت کنندہ کے مؤقف، ادائیگیوں کے ریکارڈ، الاٹمنٹ دستاویزات اور سوسائٹی کے موقف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی محتسب نے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹاتے ہوئے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ درخواست گزار کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔
طویل سماعتوں اور قانونی جانچ پڑتال کے بعد بالآخر سوسائٹی انتظامیہ نے 31 مارچ 2026 کو مرزا حبیب اللہ خان کو سوسائٹی کے بلاک-D میں دس مرلے کا ایک کارنر پلاٹ نمبر 362 الاٹ کر دیا اور اس کا قبضہ بھی فراہم کر دیا گیا۔ اس پیش رفت کے بعد درخواست گزار نے 4 مئی 2026 کو وفاقی محتسب کے نام اپنے شکریے کا خط ارسال کیا، جس میں انہوں نے تصدیق کی کہ انہیں تقریباً 29 سال بعد اپنا حق مل گیا ہے۔
مرزا حبیب اللہ خان نے اپنے خط میں وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ اور متعلقہ افسران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی محتسب کا ادارہ موجود نہ ہوتا تو شاید وہ زندگی بھر اپنے حق سے محروم رہتے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی سنجیدہ کوششوں کے باعث سوسائٹی کو بالآخر انہیں متبادل پلاٹ فراہم کرنا پڑا۔
قانونی اور سماجی حلقوں نے اس کیس کو پاکستان میں عوامی شکایات کے حل کے حوالے سے ایک اہم مثال قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق شکایات ملک بھر میں ہزاروں شہریوں کو متاثر کر رہی ہیں، جہاں لوگ برسوں تک اپنی جمع پونجی لگانے کے باوجود پلاٹوں کے قبضے یا بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس نے ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ ہاؤسنگ سیکٹر میں شفافیت، مؤثر نگرانی اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ شہریوں کو طویل قانونی جنگ اور ذہنی اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کے مطابق وفاقی محتسب جیسے ادارے عوام اور سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب عوامی حلقوں نے بھی وفاقی محتسب کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ادارے عام شہریوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوتے ہیں، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو مالی یا قانونی وسائل نہ ہونے کے باعث عدالتوں میں طویل مقدمات لڑنے کی سکت نہیں رکھتے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کیس اس بات کی واضح مثال ہے کہ اگر ادارے مؤثر انداز میں کام کریں تو دہائیوں سے زیر التوا مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور آئینی اداروں سے رجوع کرنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ انصاف کی فراہمی کا عمل مزید مضبوط ہو سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button