تمام سٹیک ہولڈرز کو لڑکیوں کی تعلیم حوالے سے اپنی ذمہ داریاں سمجھنی ہوں گی۔ وزیر تعلیم
صوبائی وزیر تعلیم کی لندن میں ایجوکیشن ورلڈ فورم میں دنیا بھر کے ہم مناصب سے گفتگو ،گرلز ایجوکیشن پر توجہ معاشی اور سماجی استحکام کی ضمانت ہے۔رانا سکندر حیات
سید عاطف ندیم -پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے لندن میں منعقد ہونے والے 22 ویں ایجوکیشن ورلڈ فورم میں دنیا بھر کے وزرائے تعلیم، محکمہ تعلیم کے افسران اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے گفتگو کرتے ہوئے گرلز ایجوکیشن کو موضوع بنایا اور کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ وقت کی بنیادی اور ناگزیر ضرورت ہے۔
انہوں نے ایجوکیشن ورلڈ فورم کی جانب سے پنجاب حکومت کے بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کئے گئے اقدامات اور اصلاحات کو سراہنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے مزید کہا کہ گرلز ایجوکیشن پر توجہ معاشی اور سماجی استحکام کی ضمانت ہے۔ رانا سکندر حیات نے تمام سٹیک ہولڈرز کو لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہ تعلیمی مسائل سرحدوں سے بالاتر ہیں اور ان کا حل عالمی اشتراک میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں لڑکیوں کی تعلیم کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور طالبات کو تعلیم کے لیے لاکھوں روپے کی اسکالرشپس فراہم کی جا رہی ہیں۔ وزیر تعلیم پنجاب نے کہا کہ تعلیمی میدان میں لڑکیاں نمایاں کارکردگی دکھا رہی ہیں اور کئی شعبوں میں لڑکوں سے آگے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ پنجاب میں لڑکوں کے 62 فیصد کے مقابلے میں لڑکیوں کی کامیابی کی شرح 75 فیصد سے زائد ہے۔ اسٹیم مقابلہ جات سمیت مختلف ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی طالبات کی کارکردگی نمایاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں اساتذہ کی مجموعی تعداد کا نصف سے زائد حصہ خواتین پر مشتمل ہے، جو تعلیم کے شعبے میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ویژن ہے کہ لڑکیوں کو قیادت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کا اعزاز پنجاب کو حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں گزشتہ اور رواں مالی سال کے دوران ڈویلپمنٹ بجٹ میں لڑکیوں کے لیے خصوصی تعلیمی مواقع اور ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ ایجوکیشن ورلڈ فورم میں عالمی سطح پر تعلیمی اصلاحات، چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ورلڈ ایجوکیشن فورم نے پنجاب حکومت کے تعلیمی اقدامات اور اصلاحات کی تعریف بھی کی۔



