پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ خانم قائداعظم گولڈ میڈل سے نواز دی گئیں، تعلیمی و انتظامی خدمات کا شاندار اعتراف

ڈاکٹر عظمیٰ خانم نے ایک ایسے تعلیمی ماحول کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا جہاں طالبات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم، اعتماد، قائدانہ صلاحیت اور مثبت سوچ فراہم کی گئی۔

سید قاسم بخاری- پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

لاہور میں منعقدہ ایک پروقار اور باوقار تقریب میں ممتاز ماہرِ تعلیم اور پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ خانم کو تعلیم، قائدانہ صلاحیتوں اور انتظامی امور میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں قائداعظم گولڈ میڈل سے نواز دیا گیا۔ یہ اعزاز انہیں استحکامِ پاکستان سوسائٹی کی جانب سے پیش کیا گیا۔

تقریب میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ تعلیم، دانشوروں، سماجی شخصیات، تعلیمی اداروں کے سربراہان، اساتذہ، طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا ماحول انتہائی پرجوش اور علمی تھا جہاں مقررین نے پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ خانم کی تعلیمی خدمات، انتظامی بصیرت اور طالبات کی کردار سازی کے لیے ان کی مسلسل کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔


تعلیمی میدان میں غیرمعمولی خدمات کا اعتراف

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ خانم نے شعبہ تعلیم میں اپنی انتھک محنت، قائدانہ صلاحیتوں اور وژن کے ذریعے ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے بطور پرنسپل گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین وحدت کالونی لاہور ادارے کی تعلیمی اور انتظامی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ان کی قیادت میں کالج نہ صرف تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوا بلکہ ہم نصابی سرگرمیوں، ادبی مقابلوں، تحقیقاتی رجحانات اور طالبات کی ذہنی و فکری تربیت کے شعبوں میں بھی نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خانم نے ایک ایسے تعلیمی ماحول کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا جہاں طالبات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم، اعتماد، قائدانہ صلاحیت اور مثبت سوچ فراہم کی گئی۔


جدید تعلیمی رجحانات کے فروغ میں اہم کردار

تقریب کے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ خانم نے روایتی تدریسی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کروائیں۔ ان کی قیادت میں کالج میں:

  • جدید تدریسی طریقہ کار کو فروغ دیا گیا
  • ڈیجیٹل لرننگ کی حوصلہ افزائی کی گئی
  • طالبات کی تحقیقی صلاحیتوں کو ابھارا گیا
  • نظم و ضبط کے مؤثر نظام کو مضبوط بنایا گیا
  • ہم نصابی سرگرمیوں کو فعال کیا گیا

مقررین کے مطابق انہوں نے تعلیم کو صرف نصابی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے طالبات کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور سماجی شعور کی بیداری پر بھی خصوصی توجہ دی۔


خواتین کو بااختیار بنانے میں نمایاں کردار

تقریب کے دوران مقررین نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ خانم کی خدمات خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے بھی انتہائی قابلِ قدر ہیں۔ انہوں نے طالبات کو نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے بلکہ انہیں عملی زندگی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اعتماد اور رہنمائی بھی فراہم کی۔

مقررین کے مطابق ان کی سرپرستی میں طالبات نے مختلف تعلیمی، ادبی، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جس سے ادارے کی ساکھ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور تعلیم یافتہ عورت ہی معاشرے کی حقیقی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے اور ڈاکٹر عظمیٰ خانم نے اسی نظریے کو عملی شکل دینے کے لیے بھرپور خدمات انجام دی ہیں۔


قائداعظم گولڈ میڈل ایک اہم قومی اعزاز قرار

تقریب میں خطاب کرنے والے مختلف ماہرینِ تعلیم اور سماجی رہنماؤں نے کہا کہ قائداعظم گولڈ میڈل ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے شعبے میں غیرمعمولی خدمات انجام دی ہوں اور قومی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہو۔

انہوں نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ خانم کی علمی خدمات، بہترین انتظامی صلاحیتیں اور نوجوان نسل کی تربیت کے لیے ان کی کوششیں اس اعزاز کی مکمل حقدار تھیں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں مثبت قیادت، دیانت داری، وژن اور محنت کا جو معیار ڈاکٹر عظمیٰ خانم نے قائم کیا ہے، وہ دیگر تعلیمی منتظمین کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے۔


پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ خانم کا اظہارِ تشکر

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ خانم نے قائداعظم گولڈ میڈل ملنے پر خوشی اور فخر کا اظہار کیا اور استحکامِ پاکستان سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز ان کے لیے نہ صرف اعزاز بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ ان کے مطابق تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے اور ایک استاد کا اصل مقصد نئی نسل کی بہتر رہنمائی، اخلاقی تربیت اور قومی شعور کی بیداری ہے۔

انہوں نے کہا:

“یہ اعزاز میری ذات کے ساتھ ساتھ تمام اساتذہ اور طالبات کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ میں مستقبل میں بھی تعلیم کے فروغ، طالبات کی فکری تربیت اور قومی ترقی کے لیے اپنی خدمات جاری رکھوں گی۔”


تعلیمی حلقوں کی جانب سے مبارکباد

تقریب کے بعد مختلف تعلیمی و سماجی حلقوں کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ خانم کو قائداعظم گولڈ میڈل حاصل کرنے پر مبارکباد دی گئی۔ ماہرینِ تعلیم نے امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت اور تجربہ مستقبل میں بھی تعلیمی میدان میں مثبت تبدیلیوں کا باعث بنے گا۔

تعلیمی حلقوں کے مطابق ایسے اساتذہ اور منتظمین ہی ملک کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو اپنی صلاحیتوں، وژن اور محنت سے نئی نسل کو بہتر مستقبل کی جانب گامزن کرتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button