ایران جنگ میں امریکہ کو بے تحاشہ نقصان، لڑاکا طیاروں سمیت 42 طیارے اور MQ-9 ریپر ڈرون کھو دیے
ایران جنگ میں امریکہ کو ہوئے بھاری نقصان سے متعلق چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے۔ سرکاری رپورٹ میں نقصان کی تفصیل دی گئی ہے۔

Published : May 20, 2026 at 9:07 AM IST
واشنگٹن: ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق، 28 فروری کو ایران کو نشانہ بنانے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن ایپک فیوری کے دوران کم از کم 42 امریکی طیارے بشمول لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کو نقصان پہنچا یا تباہ ہو گئے۔
کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی رپورٹ میں کہا گیا کہ نقصان شدہ یا تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد متعدد عوامل کی وجہ سے نظرثانی کے تابع رہ سکتی ہے، جس میں درجہ بندی، جاری جنگی سرگرمیاں اور انتساب شامل ہیں۔
ہوائی جہاز کے تباہ ہونے اور نقصانات میں چار F-15E اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے، ایک F-35A لائٹننگ II لڑاکا طیارہ، ایک A-10 تھنڈربولٹ II زمینی حملہ کرنے والا طیارہ، سات KC-135 Stratotanker فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے، ایک E-3 Sentry AWACS طیارہ، دو سپیشل ایئرکرافٹس H-350، ایک کمانڈر H-300، ایک خصوصی ایئر کرافٹ جولی گرین II ہیلی کاپٹر، چوبیس MQ-9 ریپر ڈرون اور ایک MQ-4C ٹریٹن ڈرون شامل ہیں۔
کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس)، جو کہ امریکی کانگریس اور کمیٹیوں کو پالیسی اور قانونی تجزیہ فراہم کرتا ہے، نے محکمہ دفاع اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی خبروں اور بیانات کو دیکھ کر نقصانات کو مرتب کیا ہے۔
12 مئی کو ہاؤس اپروپریشنز ذیلی کمیٹی کی سماعت کے دوران، پینٹاگون کے قائم مقام کمپٹرولر جولس ڈبلیو ہرسٹ تین نے گواہی دی کہ ایران میں فوجی کارروائیوں کے لیے محکمے کی لاگت کا تخمینہ 29 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
واضح رہے 28 فروری کو امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ جنگ کے دوران جو رپورٹس منظر پر آئی ہیں، اس کے مطابق ایران کو تو نقصان پہنچا ہی ہے تاہم اسرائیل اور امریکہ کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ایران نے مشرق وسطیٰ اور خیلجی ممالک میں امریکی ایئر بیسوں پر لگاتار حملے کیے اور انھیں بھاری نقصان پہنچایا۔ یہی نہیں ایران کی جانب سے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کئے جانے کے بعد پوری دنیا میں ایندھن کی قلت پیدا ہوگئی جو آج بھی برقرار ہے۔ امریکہ نے بھارت سمیت دیگر ممالک پر روس سے تیل خریدنے پر جو پابندی لگائی تھی اسے فی الحال ہٹا دیا ہے۔ ایران کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات کا تعطل کا شکار ہیں۔ ایران اپنی شرائط سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے اور امریکہ کا دباؤ ہر بار ناکام ثابت ہورہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ دونوں بھی جنگ دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہتے۔



