صحتتازہ ترین

مشرقی کانگو میں ایبولا وائرس کی تاحال پھیلتی وبا کے باعث انسانی ہلاکتوں کی تعداد اب 131 ہو گئی

یہ جان لیوا وائرس اس رفتار سے پھیل رہا ہے کہ اس پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی کہا ہے کہ اس وائرس کی وبا کا تیز رفتاری سے پھیلاؤ انتہائی پریشانی کا باعث ہے۔

ڈی پی اے کے ساتھ

افریقی ملک ڈیموکریٹک ریپبلک کانگو کے مشرق میں مہلک وائرس ایبولا کی ابھی تک مسلسل پھیلتی جا رہی وبا کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر اب 131 ہو گئی ہے، جبکہ اس وائرس کے مجموعی طور پر 500 سے زائد مشتبہ کیسز بھی ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

مشرقی کانگو میں بُونیا نامی شہر سے منگل 19 مئی کے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ایبولا وائرس متاثرہ خطے کے شہری مراکز میں مزید پھیلتا جا رہا ہے، جس پر ملکی اور بین الاقوامی سطحوں پر صحت عامہ پر نظر رکھنے والے اداروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

کانگو میں ایبولا وائرس کے مریضوں کی طبی دیکھ بھال کے ایک مرکز کے حفاظتی لباس پہنے ہوئے ا‍ور مصروف کار کارکن
کانگو میں ایبولا وائرس کے مریضوں کی طبی دیکھ بھال کے ایک مرکز کے حفاظتی لباس پہنے ہوئے ا‍ور مصروف کار کارکنتصویر: Jerome Delay/AP Photo/dpa/picture alliance

ایبولا وائرس کے درجنوں نئے مشتبہ کیسز

کانگو میں محکمہ صحت کے حکام نے منگل کے روز بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس ملک میں ایبولا وائرس کے 26 نئے مشتبہ کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

یہ جان لیوا وائرس اس رفتار سے پھیل رہا ہے کہ اس پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی کہا ہے کہ اس وائرس کی وبا کا تیز رفتاری سے پھیلاؤ انتہائی پریشانی کا باعث ہے۔

دریں اثنا اس وائرس کی وجہ سے نئی انسانی ہلاکتوں کے بعد اپنی نوعیت کی اس تازہ ترین وبا میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر اب 131 ہو گئی ہے۔ یہ سب اموات مشرقی کانگو میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

ایک الیکٹرانک مائیکروسکوپ کی مدد سے لی گئی ایبولا وائرس کی ایک تصویر
ایک الیکٹرانک مائیکروسکوپ کی مدد سے لی گئی ایبولا وائرس کی ایک تصویرتصویر: Frederick Murphy/CDC/AP Photo/picture alliance

اب تک کانگو میں اس وائرس کے 33 مصدقہ اور 516 مشتبہ کیسز دیکھنے میں آ چکے ہیں جبکہ ہمسایہ ملک یوگنڈا میں بھی ایبولا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی تشویش کا باعث بننے والی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے گزشتہ ہفتے کے روز اس نئی وبا کو، جس کا محور ایبولا وائرس کا ایک بہت کم نظر آنے والا اور بُندی بوگیو نامی مہلک اسٹرین ہے، بین الاقوامی سطح پر گہری تشویش کا سبب بنننے والی ایک پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا تھا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبریئسس نے اس ایمرجنسی کا اعلان اس بارے میں ایک ہنگامی کمیٹی کا اجلاس بلانے سے پہلے ہی کر دیا تھا۔

ایبولا وائرس کی یہ وبا اس لیے ماہرین کے لیے بہت بڑے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے کہ یہ وائرس اولین باقاعدہ تشخیص سے بھی پہلے بہت گنجان آباد علاقوں میں کئی ہفتوں سے خاموشی سے لیکن مسلسل پھیلتا رہ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں عوامی زندگی کو پہلے ہی مسلح تنازعات اور خونریزی کا سامنا ہے۔

اب تک 131 ہلاکتیں: ایبولا وائرس کے ہاتھوں مرنے والے ایک شخص کی تدفین کے موقع پر کیے جانے والے طبی حفاظتی انتظامات
اب تک 131 ہلاکتیں: ایبولا وائرس کے ہاتھوں مرنے والے ایک شخص کی تدفین کے موقع پر کیے جانے والے طبی حفاظتی انتظاماتتصویر: John Wessels/AFP

اس وائرس کی 2018ء سے لے کر 2020ء تک مشرقی کانگو ہی میں پھیلنے والی گزشتہ وبا آج تک کی دوسری سب سے ہلاکت خیز وبا ثابت ہوئی تھی، جو مجموعی طور پر تقریباﹰ 2,300 انسانوں کی موت کی وجہ بنی تھی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button