تازہ ترینمشرق وسطیٰ

مکہ مکرمہ میں شدید گرمی، 15 لاکھ سے زائد عازمین حج سخت موسمی حالات کے باوجود مناسک کی تیاریوں میں مصروف

عازمین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گرمی غیر معمولی حد تک شدید ہے، تاہم روحانی جذبہ اور فریضۂ حج کی ادائیگی کا شوق انہیں تمام مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ دے رہا ہے۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

مکہ مکرمہ: مکہ مکرمہ میں حج کی آمد کے ساتھ ہی شدید گرمی عازمینِ حج کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے، جہاں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچنے کے باعث لاکھوں حجاج سخت موسمی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ دنیا بھر سے آنے والے 15 لاکھ سے زائد عازمین حج سورج کی تپش سے بچنے کے لیے چھتریوں، پانی کے اسپرے، ٹھنڈے مقامات اور مسلسل پانی پینے کا سہارا لے رہے ہیں۔

حج 24 مئی سے 29 مئی تک جاری رہے گا، اور سعودی حکام نے اس سال شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں تاکہ گزشتہ برس پیش آنے والے المناک واقعات سے بچا جا سکے، جب شدید گرمی کے باعث 1300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

شدید گرمی میں عبادات کا جذبہ برقرار

مکہ مکرمہ، مسجد الحرام اور دیگر مقدس مقامات پر لاکھوں عازمین حج انتہائی گرم موسم کے باوجود روحانی جوش و جذبے کے ساتھ عبادات اور مناسک کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ حجاج کی بڑی تعداد دن کے اوقات میں دھوپ سے بچنے کے لیے سفید چھتریاں استعمال کر رہی ہے جبکہ کئی مقامات پر پانی کے اسپرے اور ٹھنڈک فراہم کرنے والے خصوصی نظام بھی نصب کیے گئے ہیں۔

عازمین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گرمی غیر معمولی حد تک شدید ہے، تاہم روحانی جذبہ اور فریضۂ حج کی ادائیگی کا شوق انہیں تمام مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ دے رہا ہے۔

سعودی حکومت کے خصوصی انتظامات

سعودی عرب کی حکومت نے اس سال گرمی کی شدت سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق 2024 میں شدید گرمی کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے بعد مقدس مساجد اور حج مقامات پر سایہ دار علاقوں کو پانچ گنا تک بڑھا دیا گیا ہے۔

حکام نے مسجد الحرام، عرفات، منیٰ اور مزدلفہ سمیت اہم مقامات پر اضافی شیڈز، کولنگ سسٹمز، ٹھنڈے پانی کی فراہمی اور ایمرجنسی طبی مراکز قائم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں طبی اہلکار، ایمبولینسیں اور ریسکیو ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔

ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے ہدایات

سعودی وزارتِ صحت نے عازمین حج کو بار بار پانی پینے، دھوپ میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے، ہلکے کپڑے پہننے اور چھتریوں کا استعمال کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق شدید گرمی میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، سانس اور دل کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خصوصاً بزرگ افراد اور دائمی بیماریوں میں مبتلا حجاج زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

حکام نے حجاج کو دوپہر کے اوقات میں زیادہ دیر تک دھوپ میں رہنے سے بچنے اور ممکنہ حد تک سایہ دار مقامات پر قیام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

گزشتہ سال کے المناک واقعات کے بعد سخت نگرانی

گزشتہ برس حج کے دوران شدید گرمی نے کئی ممالک کے عازمین کو متاثر کیا تھا اور 1300 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ بیشتر اموات ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور شدید تھکن کے باعث ہوئیں، جس کے بعد عالمی سطح پر سعودی انتظامات اور موسمی خطرات پر بحث شروع ہو گئی تھی۔

اسی پس منظر میں اس سال سعودی حکومت نے حج انتظامات میں نمایاں بہتری لانے کے لیے اضافی فنڈز، جدید ٹیکنالوجی اور طبی سہولیات پر خصوصی توجہ دی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور اسمارٹ مانیٹرنگ

سعودی حکام نے اس سال ہجوم اور موسم کی نگرانی کے لیے جدید اسمارٹ ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بڑھا دیا ہے۔ مختلف مقامات پر ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز، کیمرے اور ہیٹ سینسرز نصب کیے گئے ہیں تاکہ ہجوم، درجہ حرارت اور طبی ایمرجنسی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔

اس کے علاوہ موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے عازمین کو موسم، راستوں، طبی سہولیات اور ہنگامی ہدایات سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

دنیا بھر سے آنے والے عازمین

اس سال دنیا کے مختلف ممالک سے لاکھوں مسلمان حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچے ہیں۔ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک ہی مقصد کے تحت مکہ مکرمہ میں جمع ہیں، جس سے عالمِ اسلام کے اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی کی منفرد تصویر سامنے آ رہی ہے۔

متعدد عازمین نے سعودی حکومت کی جانب سے کیے گئے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے باوجود سہولیات میں بہتری محسوس کی جا رہی ہے، خصوصاً پانی، کولنگ سسٹمز اور سایہ دار مقامات کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کی موسمیاتی تبدیلی پر تشویش

ماہرینِ موسمیات اور ماحولیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مستقبل میں حج جیسے بڑے اجتماعات کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں شدید گرمی، ہیٹ ویوز اور موسمی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جدید انفراسٹرکچر، ماحول دوست منصوبہ بندی اور صحت کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی تاکہ لاکھوں عازمین کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button