یورپتازہ ترین

کیوں ایک ہفتے کے مظاہروں نے زیلنسکی کو ایک نوجوان فوجی سربراہ لانے پر مجبور کیا۔

ان کامیابیوں نے سیرسکی کو یوکرین کے نمایاں فوجی رہنماؤں میں شامل کر دیا، تاہم ان کی حکمت عملی پر مسلسل تنقید بھی ہوتی رہی۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

کیف: روس کے ساتھ جاری جنگ کے تیسرے سال میں یوکرین کی عسکری قیادت میں ایک اہم اور غیر معمولی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ملک کے اعلیٰ فوجی کمانڈر جنرل اولیکسینڈر سیرسکی کو عہدے سے ہٹا کر 43 سالہ جنرل میخائیلو دراپاتی کو یوکرین کی مسلح افواج کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ صرف فوجی حکمت عملی میں تبدیلی نہیں بلکہ یوکرین کی جنگی سوچ، قیادت کے انداز اور مستقبل کی دفاعی حکمت عملی میں ایک نئے دور کا آغاز بھی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری احتجاج، عسکری اصلاحات پر اختلافات، فوج میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تنازع اور حکومت کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی نے صدر زیلنسکی پر شدید دباؤ بڑھا دیا تھا۔

سیرسکی کی برطرفی کیوں اہم ہے؟

60 سالہ جنرل اولیکسینڈر سیرسکی کو یوکرین کی جنگ کے ابتدائی مرحلے کا ایک مؤثر کمانڈر سمجھا جاتا تھا۔ ان کی قیادت میں یوکرینی افواج نے 2022 میں روسی حملے کے آغاز پر کیف کا کامیاب دفاع کیا، بعد ازاں خارکیف کے وسیع علاقے روسی قبضے سے واپس لیے اور 2024 میں روس کے کرسک علاقے میں حیران کن کارروائی بھی انجام دی۔

ان کامیابیوں نے سیرسکی کو یوکرین کے نمایاں فوجی رہنماؤں میں شامل کر دیا، تاہم ان کی حکمت عملی پر مسلسل تنقید بھی ہوتی رہی۔

دفاعی ماہرین کے مطابق سیرسکی کی جنگی حکمت عملی بڑے پیمانے پر براہِ راست زمینی حملوں، مسلسل پیش قدمی اور ہر قیمت پر علاقے کا دفاع کرنے پر مبنی تھی، جس کے نتیجے میں یوکرینی فوج کو بھاری جانی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

سوویت طرزِ جنگ سے جدید جنگ کی طرف سفر

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیرسکی سوویت فوجی مکتبِ فکر کے نمائندہ افسر تھے، جن کی تربیت ایسے دور میں ہوئی جب جنگ کا انحصار بڑی تعداد میں فوجیوں، توپ خانے اور مسلسل زمینی حملوں پر ہوتا تھا۔

لیکن روس۔یوکرین جنگ نے ثابت کیا کہ جدید دور کی جنگ صرف روایتی فوجی طاقت سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ مصنوعی ذہانت، ڈرونز، روبوٹکس، سائبر ٹیکنالوجی، خودکار نظام اور حقیقی وقت میں حاصل ہونے والے ڈیٹا نے جنگ کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔

اسی پس منظر میں یوکرین کی فوج کے اندر نئی سوچ رکھنے والے افسران اور ٹیکنالوجی کے حامی حلقے مسلسل فوجی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

2023 کی جوابی کارروائی کی ناکامی

سیرسکی کی قیادت پر سب سے زیادہ تنقید 2023 کی ناکام جوابی کارروائی کے بعد سامنے آئی۔

اس آپریشن کے دوران یوکرین نے ایک ہی وقت میں مشرق میں باخموت اور جنوب میں زاپوریزیا کے محاذ پر روسی افواج کے خلاف حملے کیے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس حکمت عملی نے یوکرینی فوج کی طاقت دو مختلف محاذوں پر تقسیم کر دی، جس کا فائدہ روسی افواج کو پہنچا اور متوقع کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہی حکمت عملی بعد میں سیرسکی کے خلاف سب سے بڑا سیاسی اور عسکری نکتہ بن گئی۔

زلوزنی کی برطرفی سے سیرسکی تک

یاد رہے کہ سیرسکی کو اس وقت آرمی چیف بنایا گیا تھا جب مقبول ترین فوجی سربراہ جنرل والیری زلوزنی کو ان کے عہدے سے ہٹا کر برطانیہ میں یوکرین کا سفیر مقرر کر دیا گیا تھا۔

زلوزنی یوکرینی عوام میں بے حد مقبول تھے اور مختلف سرویز میں صدر زیلنسکی سے بھی زیادہ پسند کیے جاتے تھے۔

سیاسی مبصرین کا خیال تھا کہ ان کی غیر معمولی مقبولیت بھی ان کی برطرفی کی ایک بڑی وجہ بنی۔

اب تقریباً دو سال بعد یوکرین میں ایک مرتبہ پھر ویسی ہی صورتحال پیدا ہوئی اور فوجی قیادت میں ایک اور بڑی تبدیلی سامنے آگئی۔

احتجاج نے فیصلہ تیز کر دیا

حالیہ ہفتوں میں یوکرین کے وزیر دفاع میخائیلو فیدوروف اور جنرل سیرسکی کے درمیان فوجی اصلاحات کے معاملے پر شدید اختلافات سامنے آئے۔

35 سالہ فیدوروف جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈرون جنگ، روبوٹکس اور خودکار دفاعی نظام کے بڑے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

ان کا مؤقف تھا کہ محدود افرادی قوت رکھنے والے یوکرین کو روایتی جنگ کے بجائے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔

جب حکومت کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے تو صدر زیلنسکی کو خود دونوں رہنماؤں کے درمیان ثالثی کرنا پڑی۔

تاہم بعد ازاں فیدوروف کی برطرفی کی خبروں نے ملک بھر میں احتجاج کو جنم دیا اور ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق انہی عوامی مظاہروں نے زیلنسکی کو فوجی قیادت میں بڑی تبدیلی پر مجبور کیا۔

نئی نسل کے جنرل میخائیلو دراپاتی

نئے آرمی چیف 43 سالہ جنرل میخائیلو دراپاتی کو یوکرین کی فوج میں نئی نسل کے نمائندہ افسر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، تیز رفتار فیصلہ سازی، ڈرون آپریشنز، نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر یقین رکھتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ دراپاتی کی تقرری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یوکرین اب روایتی جنگ کے بجائے مستقبل کی جنگی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے۔

ڈرون اور روبوٹکس پر بڑھتا انحصار

گزشتہ دو برسوں کے دوران یوکرین نے ڈرون ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی کی ہے۔

یوکرینی ڈرونز نے روس کے اندر کئی فوجی اڈوں، اسلحہ ڈپوؤں، تیل ذخیرہ گاہوں اور فضائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے روس کو نمایاں نقصان پہنچا۔

اسی طرح جنگی روبوٹس، خودکار گاڑیاں، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نگرانی کے نظام اور جدید سینسرز کو بھی فرنٹ لائن پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی جانوں کے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔

کیا ٹیکنالوجی فوجیوں کی جگہ لے سکتی ہے؟

اگرچہ یوکرین جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے، تاہم عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ڈرون، روبوٹ اور مصنوعی ذہانت مکمل طور پر انسانی فوجیوں کی جگہ لے سکتے ہیں۔

روس کے ساتھ جاری طویل جنگ میں زمینی افواج کی اہمیت اب بھی برقرار ہے، تاہم جدید ٹیکنالوجی جنگ کے نتائج پر پہلے سے کہیں زیادہ اثرانداز ہو رہی ہے۔

زیلنسکی کے لیے ایک اور سیاسی امتحان

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت میں یہ تبدیلی صدر زیلنسکی کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے۔

اگر نئی قیادت جدید حکمت عملی کے ذریعے روسی افواج کے خلاف بہتر نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ زیلنسکی کی ایک بڑی سیاسی کامیابی ہوگی۔

تاہم اگر جنگی صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نہ آئی تو حکومت کو نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی محاذ پر بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یوکرین اس وقت ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس میں فوجیوں کی تعداد سے زیادہ اہمیت جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تیز رفتار معلومات، ڈرون جنگ اور مؤثر قیادت کو حاصل ہو چکی ہے۔ اسی لیے جنرل میخائیلو دراپاتی کی تقرری کو صرف ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ یوکرین کی پوری جنگی حکمت عملی میں ایک بنیادی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں میدانِ جنگ پر نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button