صحتتازہ ترین

امریکہ میں سائکلوسپوریاسس کے ہزاروں کیسز، آلودہ آئس برگ لیٹش وباء کی بڑی وجہ قرار؛ صحت حکام کی عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

متاثرہ خوراک کھانے کے بعد علامات ظاہر ہونے میں عموماً سات دن تک لگ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے وباء کا اصل ذریعہ تلاش کرنا کافی مشکل ہو جاتا ہے

واشنگٹن: امریکہ میں خوراک سے پھیلنے والی ایک خطرناک آنتوں کی بیماری سائکلوسپوریاسس (Cyclosporiasis) کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں ہزاروں افراد اس خوردبینی پیراسایئٹ سے متاثر ہو چکے ہیں۔ امریکی صحت کے ادارے اس وباء کی وجوہات کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں، جبکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ٹیلر فارمز (Taylor Farms) کی جانب سے فراہم کی جانے والی کٹی ہوئی آئس برگ لیٹش (Iceberg Lettuce) کو بیماری کے ممکنہ اہم ذریعہ کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق متاثرہ لیٹش کی بڑی مقدار پہلے ہی مارکیٹ میں فروخت ہو چکی تھی اور امکان ہے کہ اسے صارفین استعمال بھی کر چکے ہیں، جس کے باعث آئندہ دنوں میں مزید کیسز سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سائکلوسپوریاسس کیا ہے؟

سائکلوسپوریاسس ایک آنتوں کا انفیکشن ہے جو Cyclospora cayetanensis نامی ایک خوردبینی پیراسایئٹ (Parasite) کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہ پرجیوی انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتا اور صرف خوردبین کے ذریعے پاخانے کے نمونوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بیماری عام طور پر ایسے کھانے یا پانی کے استعمال سے پھیلتی ہے جو اس پیراسایئٹ سے آلودہ ہو۔

طبی ماہرین کے مطابق متاثرہ خوراک کھانے کے بعد علامات ظاہر ہونے میں عموماً سات دن تک لگ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے وباء کا اصل ذریعہ تلاش کرنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔

بیماری کی علامات

ماہرین کے مطابق سائکلوسپوریاسس کی عام علامات میں شامل ہیں:

  • شدید اور مسلسل اسہال
  • پیٹ میں درد اور مروڑ
  • متلی اور قے
  • بھوک میں کمی
  • شدید تھکن
  • وزن میں کمی
  • پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن)
  • ہلکا بخار

اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو بیماری کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے اور بعض مریضوں میں بار بار لوٹ بھی سکتی ہے۔

کیسز میں غیر معمولی اضافہ

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے مطابق امریکہ میں ہر سال موسم بہار اور گرمیوں کے دوران سائکلوسپوریاسس کے کیسز میں اضافہ دیکھا جاتا ہے، تاہم رواں سال صورتحال معمول سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔

سی ڈی سی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس سیزن میں اب تک 11,500 سے زائد مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

ان میں:

  • 4,173 کیسز لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے تصدیق شدہ ہیں۔
  • تقریباً 7,400 مزید کیسز اضافی لیبارٹری تجزیے سے گزر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کا تعلق بھی امریکہ میں پھیلنے والی اسی وباء سے ہے۔

صحت حکام کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے مریض اسپتال نہیں جاتے یا ان کا ٹیسٹ نہیں ہو پاتا۔

پانچ ریاستیں سب سے زیادہ متاثر

سی ڈی سی نے اس وقت پانچ ریاستوں کو وباء کا مرکز قرار دیا ہے:

  • مشی گن
  • اوہائیو
  • انڈیانا
  • کینٹکی
  • ویسٹ ورجینیا

ریاست وار کیسز

مشی گن میں سب سے زیادہ 7,171 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ:

  • اوہائیو میں 1,244
  • انڈیانا میں 594
  • ویسٹ ورجینیا میں 195
  • کینٹکی میں 192 کیسز سامنے آئے ہیں۔

صحت حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار مسلسل بڑھ رہے ہیں اور روزانہ نئے مریض رپورٹ ہو رہے ہیں۔

41 ریاستوں تک بیماری پھیلنے کی تصدیق

سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ رواں سیزن کے دوران امریکہ کی 41 ریاستوں میں کم از کم ایک مقامی سائکلوسپوریاسس کیس رپورٹ کیا جا چکا ہے۔

اگرچہ بعض ریاستیں، جن میں کیلیفورنیا اور نیو جرسی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں کیسز کی تعداد معمول کے موسمی رجحانات کے مطابق ہے، لیکن مڈویسٹ کے علاقوں میں صورتحال تشویشناک حد تک سنگین ہو چکی ہے۔

وباء کا ممکنہ ذریعہ کیا ہے؟

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA)، سی ڈی سی اور مختلف ریاستی صحت کے محکمے مشترکہ طور پر متعدد تحقیقات کر رہے ہیں۔

اب تک کی تحقیقات میں دو بڑے وبائی کلسٹر سامنے آئے ہیں، جن میں سب سے بڑا مڈویسٹ ریاستوں سے متعلق ہے۔

صحت حکام کے مطابق اس مخصوص وباء سے اب تک 1,644 تصدیق شدہ کیسز منسلک کیے جا چکے ہیں۔

ٹیلر فارمز کی آئس برگ لیٹش زیرِ تفتیش

مشی گن کے محکمہ صحت نے دو ہزار سے زائد متاثرہ افراد کے انٹرویوز مکمل کرنے کے بعد کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایک چیز مسلسل سامنے آئی ہے۔

حکام کے مطابق انتہائی مضبوط شواہد موجود ہیں کہ وباء کا تعلق ٹیلر فارمز کی جانب سے فراہم کی جانے والی کٹی ہوئی آئس برگ لیٹش سے ہے۔

یہ لیٹش امریکہ کی متعدد ریاستوں میں ٹیکو بیل (Taco Bell) کے ریستورانوں میں استعمال کی گئی تھی۔

متاثرہ مصنوعات واپس منگوا لی گئیں

تحقیقات کے بعد ٹیلر فارمز کی متعلقہ لیٹش کو مارکیٹ سے واپس منگوانے (Recall) کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر متاثرہ مصنوعات پہلے ہی فروخت اور استعمال کی جا چکی ہیں، اس لیے آئندہ چند ہفتوں میں مزید مریض سامنے آ سکتے ہیں۔

سی ڈی سی کی عوام کو ہدایت

سی ڈی سی نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹیلر فارمز ڈی میکسیکو کی فراہم کردہ کٹی ہوئی آئس برگ لیٹش ہرگز استعمال نہ کریں، خصوصاً اگر وہ درج ذیل ریاستوں میں موجود ٹیکو بیل ریستورانوں میں پیش کی گئی ہو:

  • انڈیانا
  • کینٹکی
  • مشی گن
  • اوہائیو
  • ویسٹ ورجینیا

اگر کسی شخص نے ایسی لیٹش استعمال کی ہے اور اس میں اسہال یا دیگر علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر طبی معائنہ کرایا جائے۔

رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کا بیان

امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات کے سیکریٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے وباء پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے صورتحال پر قابو پا لیا ہے۔

تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ بیماری کی علامات ایک ہفتے بعد ظاہر ہوتی ہیں، اس لیے وباء کا مکمل خاتمہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

پیراسایئٹ کا سراغ لگانا کیوں مشکل ہے؟

صحت حکام کے مطابق سائکلوسپورا کی شناخت انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔

اس کی وجوہات میں شامل ہیں:

  • پرجیوی انتہائی چھوٹا ہوتا ہے۔
  • خوراک میں اس کی لیبارٹری جانچ مشکل ہوتی ہے۔
  • مریض اکثر کئی ہفتوں بعد بیمار ہوتے ہیں۔
  • متاثرہ افراد کو یاد نہیں رہتا کہ انہوں نے بیماری سے قبل کون سی خوراک استعمال کی تھی۔

اسی لیے وباء کے اصل ذریعہ تک پہنچنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

ماہرین کی احتیاطی ہدایات

طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ:

  • تمام تازہ سبزیوں اور پھلوں کو اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔
  • صرف محفوظ اور صاف پانی پئیں۔
  • اگر کسی مخصوص خوراک کے بارے میں ری کال جاری کی جائے تو اسے ہرگز استعمال نہ کریں۔
  • مسلسل اسہال یا پانی کی کمی کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

بڑھتی ہوئی تشویش

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سائکلوسپوریاسس کی موجودہ وباء امریکہ میں حالیہ برسوں کے بڑے خوراک سے پھیلنے والے صحت عامہ کے بحرانوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ اگرچہ تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابتدائی شواہد واضح طور پر آلودہ آئس برگ لیٹش کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی بروقت آگاہی، متاثرہ خوراک کی واپسی اور احتیاطی تدابیر پر عمل ہی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button