پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

پاکستان میں واپس آنے والے تارکینِ وطن اور محروم طبقات کی ذہنی بحالی کے لیے دو روزہ قومی تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر، ماہرین کا جامع حکمتِ عملی پر زور

پاکستانی معاشرے میں خاندان ایک مضبوط سماجی ادارہ ہے جو ذہنی دباؤ کا شکار افراد کو جذباتی سہارا فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے

قاسم بخاری-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان میں واپس آنے والے تارکینِ وطن، ممکنہ تارکینِ وطن اور معاشرے کے محروم و کمزور طبقات کو ذہنی صحت اور نفسیاتی و سماجی معاونت (Mental Health and Psychosocial Support – MHPSS) کی مؤثر فراہمی کے مقصد سے منعقدہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ کا بنیادی مقصد مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے شرکاء کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا تاکہ وہ ہجرت، جبری نقل مکانی اور سماجی مسائل سے متاثرہ افراد کی ذہنی و نفسیاتی بحالی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

ورکشاپ کے دوران ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ ہجرت صرف ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ یہ ایک ایسا انسانی تجربہ ہے جو افراد کی ذہنی، جذباتی اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ بیرون ملک سے واپس آنے والے متعدد افراد معاشی مشکلات، بے روزگاری، سماجی تنہائی، شناخت کے بحران اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں، جس کے باعث ان کی دوبارہ معاشرے میں شمولیت ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔

ذہنی صحت اور نفسیاتی معاونت پر عملی تربیت

ورکشاپ کے دوران شرکاء کو ذہنی صحت اور نفسیاتی و سماجی معاونت (MHPSS) کے بنیادی اصولوں، ہجرت سے وابستہ نفسیاتی مسائل، ہنگامی حالات میں نفسیاتی معاونت کے بین الاقوامی فریم ورک، سائیکولوجیکل فرسٹ ایڈ (Psychological First Aid – PFA)، مؤثر رابطہ کاری، ابتدائی نفسیاتی تشخیص اور مناسب ریفرل نظام کے حوالے سے تفصیلی تربیت فراہم کی گئی۔

ماہرین نے شرکاء کو عملی مشقوں، کیس اسٹڈیز، گروپ ڈسکشنز اور فرضی صورتحال (Simulation Exercises) کے ذریعے یہ سکھایا کہ متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردانہ رویہ کیسے اختیار کیا جائے، ان کی ذہنی کیفیت کا ابتدائی جائزہ کس طرح لیا جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں متعلقہ ماہرین یا اداروں تک کیسے پہنچایا جائے۔

ورکشاپ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ وطن واپس آنے والے تارکینِ وطن، ممکنہ تارکینِ وطن اور کمزور و محروم طبقات کی بحالی صرف معاشی معاونت سے ممکن نہیں بلکہ ان کی ذہنی، جذباتی اور سماجی بحالی بھی اتنی ہی ضروری ہے تاکہ وہ دوبارہ اعتماد کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کر سکیں۔

ڈاکٹر حمیرا جامی کا خطاب

اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائیکالوجی (NIP) کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حمیرا جامی نے کہا کہ پاکستان میں ہجرت سے متعلق ذہنی صحت کے مسائل پر مزید سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ برین ڈرین، ہنرمند افراد کی بیرون ملک منتقلی، اور بعد ازاں وطن واپسی کے بعد ان کی دوبارہ معاشرے میں شمولیت ایک پیچیدہ سماجی اور نفسیاتی مسئلہ بن چکا ہے، جس کے لیے مربوط قومی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔

ڈاکٹر حمیرا جامی نے کہا کہ بہت سے واپس آنے والے افراد اپنی تعلیم، مہارت اور تجربے کے باوجود مناسب روزگار اور مواقع نہ ملنے کی وجہ سے مایوسی، ذہنی دباؤ اور سماجی تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں انہیں صرف معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی معاونت کی بھی شدید ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد مختلف خدمات فراہم کرنے والے اداروں، سماجی کارکنوں، ماہرین نفسیات اور کمیونٹی لیڈرز کی استعداد کار کو مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند افراد کو بروقت سائیکولوجیکل فرسٹ ایڈ اور معیاری نفسیاتی و سماجی معاونت فراہم کر سکیں۔

ثقافتی اقدار اور خاندانی نظام کی اہمیت

ورکشاپ کے دوران ڈاکٹر جمیل ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان جیسے معاشرے میں کسی بھی بحالی پروگرام کی کامیابی اس وقت ممکن ہے جب اسے مقامی ثقافت، سماجی اقدار اور خاندانی نظام سے ہم آہنگ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں خاندان ایک مضبوط سماجی ادارہ ہے جو ذہنی دباؤ کا شکار افراد کو جذباتی سہارا فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر بحالی کے منصوبوں میں خاندان اور کمیونٹی کو فعال شریک بنایا جائے تو وطن واپس آنے والے تارکینِ وطن کا دوبارہ معاشرے میں انضمام زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہو سکتا ہے۔

سائیکولوجیکل فرسٹ ایڈ پر خصوصی سیشن

ورکشاپ میں ڈاکٹر نعیم اسلم نے سائیکولوجیکل فرسٹ ایڈ (PFA) پر ایک جامع اور عملی سیشن دیا۔ انہوں نے بتایا کہ قدرتی آفات، ہنگامی حالات، جبری نقل مکانی، بے گھر ہونے یا دیگر بحرانی صورتحال میں متاثرہ افراد کو فوری نفسیاتی مدد فراہم کرنا ان کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے شرکاء کو سکھایا کہ متاثرہ افراد کے ساتھ اعتماد پر مبنی رابطہ کیسے قائم کیا جائے، ان کے جذبات کو کس طرح سمجھا جائے، انہیں فوری ذہنی سکون کیسے فراہم کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر مناسب اداروں سے کس طرح منسلک کیا جائے۔

خدمات کے مؤثر نظام پر زور

ورکشاپ کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں ذہنی صحت اور نفسیاتی و سماجی معاونت کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرکاری اداروں، تعلیمی مراکز، سماجی تنظیموں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ وطن واپس آنے والے تارکینِ وطن، ممکنہ تارکینِ وطن اور دیگر کمزور طبقات کو صرف وقتی امداد فراہم کرنے کے بجائے ان کی طویل المدتی بحالی، روزگار، سماجی انضمام اور ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے مربوط پروگرام تشکیل دیے جائیں۔

اختتامی عزم

ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حاصل کردہ علم، مہارت اور تربیت کو عملی میدان میں بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان بھر میں ذہنی صحت اور نفسیاتی و سماجی معاونت کی خدمات کو مزید مؤثر، مربوط اور عوام دوست بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں اس نوعیت کی مزید تربیتی سرگرمیوں کے انعقاد سے نہ صرف خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا بلکہ وطن واپس آنے والے تارکینِ وطن، ممکنہ تارکینِ وطن اور محروم طبقات کو بہتر ذہنی، نفسیاتی اور سماجی سہولیات فراہم کرنے کے قومی نظام کو بھی مزید مستحکم بنایا جا سکے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button