
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
آج دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی امن، استحکام اور انسانی تحفظ کے لیے خدمات انجام دینے والے امن فوجیوں کی قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ اس موقع پر پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خدمات انجام دینے والے اپنے بہادر افسران، جوانوں اور خواتین اہلکاروں کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ فوجی اور سیکیورٹی اہلکار فراہم کرتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستانی امن دستے دنیا کے مختلف جنگ زدہ اور بحران زدہ خطوں میں قیامِ امن، انسانی امداد اور شہری تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستانی پیس کیپرز عالمی امن کی علامت
پاکستانی امن فوجی دستے اس وقت ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، جنوبی سوڈان، وسطی افریقی جمہوریہ، قبرص، مغربی صحارا اور صومالیہ سمیت مختلف ممالک میں اقوام متحدہ کے امن مشنز کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ امن دستے نہ صرف جنگ سے متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں بلکہ انسانی امداد، طبی سہولیات، انفراسٹرکچر کی بحالی، خواتین اور بچوں کے تحفظ اور مقامی آبادی کی فلاح و بہبود میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستانی پیس کیپرز اپنی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط، غیر جانبداری اور انسان دوستی کے جذبے کے باعث خصوصی مقام رکھتے ہیں۔
1960 سے عالمی امن کے لیے نمایاں کردار
پاکستان نے 1960 سے اب تک اقوام متحدہ کے 48 امن مشنز کے لیے تقریباً 2 لاکھ 37 ہزار فوجیوں کو دنیا کے 29 مختلف ممالک میں تعینات کیا ہے۔ یہ خدمات ایشیا، افریقہ، یورپ اور دیگر خطوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
پاکستانی امن دستوں نے کانگو، صومالیہ، لائبیریا، سیرا لیون، ہیٹی، بوسنیا، کمبوڈیا اور مشرقی تیمور سمیت کئی جنگ زدہ علاقوں میں قیام امن کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستانی فوجیوں نے نہایت مشکل حالات، شورش زدہ علاقوں اور محدود وسائل کے باوجود عالمی امن کے لیے اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں نبھائیں۔
خواتین امن دستوں کی شمولیت
پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خواتین اہلکاروں کی نمائندگی بڑھانے اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت پر خصوصی توجہ دی ہے۔
پاکستانی خواتین افسران اور اہلکار نہ صرف طبی، تعلیمی اور سماجی شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں بلکہ مقامی خواتین اور بچوں کے تحفظ اور اعتماد سازی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے حکام نے مختلف مواقع پر پاکستانی خواتین امن دستوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں عالمی امن کے فروغ میں ایک مثبت مثال قرار دیا ہے۔
183 پاکستانی جوانوں کی عظیم قربانیاں
اقوام متحدہ کے امن مشنز کے دوران اب تک 183 پاکستانی افسران اور جوان عالمی امن کی بحالی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔
یہ شہداء دنیا کے مختلف بحران زدہ علاقوں میں امن، استحکام اور انسانیت کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے شہید ہوئے۔ پاکستان ان عظیم قربانیوں کو قومی فخر اور عالمی امن کے لیے لازوال خدمات قرار دیتا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق پاکستانی پیس کیپرز کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان عالمی امن اور انسانی سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو انتہائی سنجیدگی سے نبھا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستانی خدمات کا اعتراف
اقوام متحدہ کے مختلف حکام اور عالمی رہنماؤں نے متعدد مواقع پر پاکستانی امن دستوں کی خدمات کو سراہا ہے۔
پاکستانی پیس کیپرز کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت، مقامی آبادی سے بہتر تعلقات اور بحرانوں کے دوران موثر کردار کے باعث کئی بین الاقوامی اعزازات بھی دیے جا چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستانی فوجی دستے نہ صرف سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے میں کامیاب رہے بلکہ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں اعتماد سازی، امن مذاکرات اور انسانی ہمدردی کے اقدامات میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
عالمی امن کے لیے پاکستان کا عزم
پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اقوام متحدہ کے امن مشنز میں بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
حکومتی اور عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ عالمی امن، بین الاقوامی تعاون اور انسانی تحفظ پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا اہم حصہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی مسلسل شرکت عالمی سطح پر اس کے مثبت تشخص، سفارتی کردار اور امن پسند پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
عالمی برادری کا خراجِ تحسین
اقوام متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر میں پاکستانی پیس کیپرز کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی امن فوجیوں نے ہر مشکل حالات میں انسانیت، امن اور استحکام کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں وہ عالمی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
پاکستانی قوم اپنے ان بہادر سپاہیوں پر فخر کرتی ہے جو دنیا کے مختلف خطوں میں امن کے سفیر بن کر انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔



