یورپاہم خبریںتازہ ترین

برلن پرائیڈ حملہ بظاہر ’دہشت گردانہ حملہ‘ تھا، ایک خاتون ہلاک،29 زخمی،جرمن وزیر داخلہ

ملزم پہلے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگاہ میں تھا اور اس کے برلن میں اسلام پسند حلقوں سے روابط تھے، تاہم حملے کے مخصوص محرکات کی تحقیقات جاری ہیں

اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز، اے پی کے ساتھ

جرمن دارالحکومت برلن میں پرائیڈ فیسٹیول میں گاڑی کے ذریعے لوگوں کو روندنے پر مبنی ایک مشتبہ حملے میں ایک خاتون ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

جرمنی کے وفاقی وزیر داخلہ الیکسانڈر ڈوبرنٹ نے کہا ہے کہ برلن میں پرائیڈ (کرسٹوفر اسٹریٹ ڈے) تقریب کے قریب ہونے والا مہلک حملہ بظاہر ’’اسلام پسند دہشت گردی‘‘ کا واقعہ تھا۔ ان کے مطابق ہفتے کی رات ہونے والے اس حملے میں ایک خاتون ہلاک ہوئی جبکہ زخمیوں کی تعداد بڑھ کر 29 ہو گئی ہے۔

حکام کے مطابق اس حملے کا مرکزی ملزم21 سالہ لبنانی پس منظر رکھنے والا جرمن شہری عبدل بی ہے اور وہ تاحال مفرور ہے۔ پولیس نے اس کے خلاف وارنٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ مسلح اور انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے شہری خود اسے پکڑنے کی کوشش نہ کریں بلکہ کوئی اطلاع ملنے پر  فوری طور پر پولیس سے رابطہ کریں۔

تحقیقات کے مطابق ملزم نے پہلے ٹیئرگارٹن پارک میں پرائیڈ تقریب کے اختتامی اجتماع کے قریب ایک سفید وین ہجوم پر چڑھا دی، جس کے بعد وہ گاڑی سے نکل فرار ہو گیا۔ اسی دوران بظاہر متعدد افراد چاقو سے کیے حملوں میں زخمی بھی ہو گئے۔ پولیس نے بتایا کہ حملے کے بعد گاڑی ایک درخت سے ٹکرا گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم پہلے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگاہ میں تھا اور اس کے برلن میں اسلام پسند حلقوں سے روابط تھے، تاہم حملے کے مخصوص محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اتوار کو پولیس نے برلن کے شونے برگ نامی علاقے میں ایک اپارٹمنٹ پر بھی چھاپہ مارا گیا، مگر ملزم وہاں موجود نہیں تھا۔

برلن حملے کے بعد ایمسٹرڈم اور ہیمبرگ میں پرائیڈ تقریبات کی سکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ

ایمسٹرڈیم میں پرائیڈ پریڈ میں شریک دو افراد
ایمسٹرڈیم میں گزشتہ روز پرائیڈ پریڈ کا ایک منظرتصویر: Romy Arroyo Fernandez/ZUMA Press/IMAGO

برلن میں پرائیڈ تقریب کے قریب ہونے والے مہلک حملے کے بعد نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈم نے ورلڈ پرائیڈ تقریبات کے لیے اضافی سکیورٹی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ میئر فیمکے ہالسما نے کہا کہ جہاں ضرورت محسوس ہوگی وہاں حفاظتی انتظامات مزید سخت کیے جائیں گے۔ پولیس، پراسیکیوٹرز اور شہری انتظامیہ مل کر سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔

ورلڈ پرائیڈ کو ایل جی بی ٹی آئی کیو+ کمیونٹی یعنی مختلف جنسی اور صنفی میلانات و رجحانات رکھنے والے افراد  کی دنیا کی سب سے بڑی بین الاقوامی تقریبات میں شمار کیا جاتا ہے اور اس سال پہلی مرتبہ اس کی میزبانی ایمسٹرڈم کر رہا ہے۔ تقریبات کا آغاز ہفتے کے روز نیدرلینڈز کی ملکہ میکسیما کی موجودگی میں ہوا، جبکہ اب تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔  آئندہ ہفتے ہونے والی مشہور کینال پریڈ میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔

ڈچ وزیر اعظم روب ژیٹن نے برلن حملے کو ’’ہولناک تشدد‘‘ قرار دیتے ہوئے جرمن چانسلر فریڈرش میرس اور جرمن عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مشکل وقت میں ہم اپنے جرمن ہمسایوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔‘‘

ادھر جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں بھی اگلے ہفتے ہونے والی پرائیڈ پریڈ کے لیے سکیورٹی منصوبے پر دوبارہ غور کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہیمبرگ کے وزیر داخلہ اینڈی گروٹے نے کہا کہ محبت، یکجہتی اور آزادی کی تقریب پر حملہ دراصل کھلے اور جمہوری معاشرے پر حملہ ہے، تاہم ایسے واقعات کے باوجود ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

برلن حملہ، جرمن پارلیمان پر پرچم سرنگوں

جرمن پارلیمان کی عمارت
جرمن پارلیمان کی اسپیکر نے پرچم سرنگوں کرنے کا اعلان کیاتصویر: Michael Nguyen/NurPhoto/picture alliance

برلن میں کرسٹوفر اسٹریٹ ڈے (پرائیڈ) تقریب پر ہونے والے مہلک حملے کے ایک روز بعد جرمن پارلیمان (بنڈس ٹاگ) کی صدر ژولیا کلوکنر نے پارلیمنٹ کی عمارت پر پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دیا۔ ہفتے کی رات ٹیئرگارٹن پارک میں ہونے والے حملے میں ایک خاتون ہلاک جبکہ دیگر 16 افراد زخمی ہوئے تھے۔

کلوکنر نے کہا کہ آزادی، مساوات اور تنوع کے لیے کھڑے ہونے والے لوگوں پر حملہ دراصل جرمنی کے جمہوری معاشرے اور انسانی وقار پر حملہ ہے۔ ان کے بقول جرمن آئین ہر شخص کو خوف سے آزاد زندگی گزارنے اور اپنے نظریات کے اظہار کا حق دیتا ہے، اس لیے دہشت گردی، انتہاپسندی اور نفرت کو ملک میں جڑیں نہیں پکڑنے دی جائیں گی۔

ادھر پولیس اتوار کو بھی ٹیئرگارٹن کے علاقے میں حادثے کا شکار گاڑی کے اطراف شواہد اکٹھے کرنے اور 21 سالہ مشتبہ ملزم کی تلاش میں مصروف ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ اور برلن کے میئر کائی ویگنر نے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے میڈیا کو بریفنگ دینے کا اعلان کیا۔

متاثرین کی یاد میں اتوار کی سہ پہر برلن کے سینٹ ماریئن چرچ میں دعائیہ تقریب بھی منعقد کی جا رہی ہے، جہاں بشپ کرسٹیان شٹیبلائن خطاب کریں گے۔ چرچ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والی خاتون، زخمیوں، متاثرہ خاندانوں اور تمام متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اس تقریب میں شرکت کریں۔

چانسلر میرس کا برلن برائیڈ فیسٹیول پر مشتبہ حملے کے ذمہ داروں کو سزا دلانے کا عزم

جرمن چانسلر میرس
میرس نے اس واقعے کو ’’ہولناک حملہ‘‘ قرار دیاتصویر: Markus Schreiber/AP Photo/picture alliance

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے برلن پرائیڈ فیسٹیول پر مشتبہ حملے کو ’’ہولناک حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود اور وزیر داخلہ الیکسانڈر ڈوبرنٹ تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں اور ذمہ داروں کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ برلن کے میئر کائی ویگنر نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک پرامن، برداشت اور تنوع کی علامت تقریب پر حملہ ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے مرکزی اسٹیج پر موجود شرکاء سے فوری طور پر گھروں کو واپس جانے کی اپیل کی، جس پر لوگوں نے پرامن انداز میں عمل کیا۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور بڑی تعداد میں ایمبولینسیں، امدادی ٹیمیں اور پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا ہے، جب جرمنی گزشتہ چند برسوں کے دوران عوامی مقامات پر گاڑیوں اور چاقوؤں سے ہونے والے متعدد مہلک حملوں کے باعث پہلے ہی سکیورٹی خدشات کا سامنا کر رہا ہے، جس سے عوامی تقریبات کے تحفظ پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

 برلن پرائیڈ فیسٹیول حملہ، مشتبہ حملہ آور کی تلاش جاری

اس واقعے کے بعد پولیس تفتیش میں مصروف ہے
مشتبہ حملہ آور کی تلاش جاری ہےتصویر: Annegret Hilse/REUTERS

جرمنی میں برلن کے پرائیڈ فیسٹیول کے قریب وین حملے کے بعد پولیس نے 21 سالہ مشتبہ شخص عبدل بی کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق حملے میں ایک خاتون ہلاک جبکہ کم از کم 16 افراد زخمی ہوئے، جن میں تین کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص ممکنہ طور پر مسلح اور خطرناک ہے، اس لیے عوام اسے خود پکڑنے کی کوشش نہ کریں۔

پولیس کے مطابق مشتبہ شخص برلن میں اسلام پسند حلقوں سے تعلق رکھنے کے حوالے سے پہلے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علم میں تھا، تاہم اس کے حملے کے محرکات ابھی واضح نہیں۔ چانسلر فریڈرش میرس نے اس واقعے کو ’’سماج پر حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جرمنی اپنی آزادی کا دفاع کرتا رہے گا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک سفید وین ٹیئر گارٹن پارک میں لوگوں پر چڑھ دوڑی۔ واقعے کے بعد برلن کا پرائیڈ فیسٹیول فوری طور پر ختم کر دیا گیا جبکہ پولیس حملہ آور کی تلاش میں مصروف ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق مشتبہ حملہ آور عبدل بی کے بارے میں پولیس کو پہلے سے معلوم تھا اور اسے مئی میں ہی جووینائل ڈٹینشن سے رہا کیا گیا تھا۔

اخبار بلڈ کے مطابق ریاستی سکیورٹی اداروں کے پاس 21 سالہ ملزم کے بارے میں ’’وسیع معلومات‘‘ موجود ہیں، جن کا تعلق ’’مذہبی نظریات‘‘ اور انتہا پسند اسلام سے روابط سے جوڑا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button