
کالعدم ایکشن کمیٹی کا لاشوں کی سیاست اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا ڈرامہ فاش
اس منظم حکمتِ عملی کا مقصد سوشل میڈیا پر گمراہ کن تاثر پیدا کرنا، ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات عائد کرنا اور عوامی ہمدردی حاصل کرنا ہے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد:کالعدم ایکشن کمیٹی کے خلاف یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ اپنے احتجاجی مقاصد میں ناکامی اور عوامی حمایت حاصل نہ کر پانے کے بعد تنظیم نے سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے کے لیے مبینہ طور پر جعلی لاشوں کا ڈرامہ رچایا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ احتجاج کے دوران بعض افراد نے اپنے جسموں پر سرخ رنگ کا مائع لگا کر خود کو زخمی یا مردہ ظاہر کیا تاکہ ریاستی اداروں کے خلاف منفی تاثر پیدا کیا جا سکے۔
دعووں کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں کے دوران عوام کی محدود شرکت اور مطلوبہ عوامی ردعمل نہ ملنے کے بعد تنظیم نے ہمدردی حاصل کرنے اور سوشل میڈیا پر اپنی مہم کو تقویت دینے کے لیے ایسے مناظر تخلیق کیے جن میں متعدد افراد زمین پر لیٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان افراد کے جسموں پر سرخ رنگ کا مائع لگا ہوا تھا، جسے مبینہ طور پر خون کا تاثر دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ جیسے ہی پولیس اہلکار ان افراد کے قریب پہنچتے ہیں، زمین پر پڑے ہوئے بعض افراد اچانک اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، جس کے بعد یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ مبینہ "لاشیں” درحقیقت زندہ افراد تھے اور پورا منظر ایک منصوبہ بندی کے تحت فلمایا گیا تھا۔ ویڈیو کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے، جہاں اس پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
ان دعوؤں کے مطابق اس مبینہ حکمت عملی کا مقصد ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد الزامات کو تقویت دینا، عوامی جذبات کو مشتعل کرنا اور سوشل میڈیا پر ایسا تاثر پیدا کرنا تھا کہ احتجاج کے دوران بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ معاشرے میں بے اعتمادی اور انتشار بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایسے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ احتجاجی سیاست میں پروپیگنڈے اور غلط معلومات کے استعمال کی ایک تشویشناک مثال ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی یا احتجاجی تحریک کی ساکھ اس وقت متاثر ہوتی ہے جب حقائق کی بجائے مبینہ طور پر ڈرامائی مناظر اور غیر مصدقہ معلومات کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کی جائے۔
دوسری جانب، اس معاملے پر کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس خبر کے وقت تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح، وائرل ویڈیو کی آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے، اس لیے ویڈیو میں کیے گئے دعوؤں کی صحت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔
ماہرین ابلاغیات کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں ایسی ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے پھیل جاتی ہیں، اس لیے کسی بھی حساس واقعے کے حوالے سے رائے قائم کرنے سے قبل مستند ذرائع سے معلومات کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ غیر مصدقہ مواد کو شیئر کرنے سے گریز کریں اور صرف تصدیق شدہ معلومات پر انحصار کریں۔
مبصرین کے مطابق احتجاج، سیاسی اختلاف اور اظہارِ رائے ہر جمہوری معاشرے کا حصہ ہیں، تاہم اگر کسی بھی فریق کی جانب سے غلط معلومات، گمراہ کن مواد یا منظم پروپیگنڈے کا سہارا لیا جائے تو اس سے نہ صرف عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ قانون کی حکمرانی، سماجی ہم آہنگی اور قومی استحکام پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے ایسے دعوؤں کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔



