سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،فارن آفس کے ساتھ
پاکستان نے یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی، سفارت کاری اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی ذرائع کسی بھی صورت دیرپا اور پائیدار امن فراہم نہیں کر سکتے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مسلسل فوجی کشیدگی نہ صرف انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے بلکہ علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے بھی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔
انہوں نے حالیہ دنوں میں یوکرین تنازعے میں شدت اور بڑھتے ہوئے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی جانوں کا نقصان بڑھ رہا ہے جبکہ امن کی کوششیں مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہیں۔
پاکستان کا اصولی مؤقف
سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے قانون (IHL) کی مکمل پاسداری پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ تمام فریقین پر لازم ہے کہ وہ شہری آبادی، سفارتی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں۔
پاکستانی مندوب نے زور دیتے ہوئے کہا:“حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اس تنازعے کا واحد حل مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن ذرائع میں مضمر ہے۔”
انہوں نے کہا کہ جنگ اور عسکری کارروائیاں صرف تباہی،انسانی المیے اور عدم استحکام کو جنم دیتی ہیں جبکہ پائیدار امن صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
فوری جنگ بندی کا مطالبہ
پاکستان نے سلامتی کونسل کے فورم پر تمام فریقین سے فوری اور مکمل جنگ بندی پر اتفاق کرنے کی اپیل کی تاکہ بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مسلسل لڑائی خطے کے عوام کے مصائب میں اضافہ کر رہی ہے اور امن کے امکانات کو مزید دور کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا:“دشمنی کے تسلسل کے ساتھ ہر گزرتا دن خطے کے لوگوں کے مصائب کو مزید گہرا کرتا ہے اور فریقین کو انتہائی ضروری امن سے مزید دور لے جاتا ہے۔”
پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری کو تنازعے کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کی اہمیت
پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے احترام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ممکنہ حل میں تمام متعلقہ فریقوں کے جائز سیکیورٹی خدشات اور مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے ایسے جامع مذاکرات ناگزیر ہیں جو تمام فریقین کے تحفظات کو متوازن انداز میں حل کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے اپنے خطاب میں ایک متوازن اور سفارتی مؤقف اپناتے ہوئے جنگ بندی، مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
امریکی سہولت کاری کی حمایت
سفیر عاصم افتخار احمد نے امید ظاہر کی کہ امریکی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل جلد دوبارہ شروع ہوگا تاکہ تنازعے کے پرامن حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں اور علاقائی فریقین کو سفارتی راستہ اختیار کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی کیونکہ موجودہ صورتحال عالمی معیشت، توانائی، خوراک کی فراہمی اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت
پاکستان نے یوکرین تنازعے کے جامع، پائیدار اور پرامن حل کے لیے جاری تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
سفیر عاصم نے یاد دلایا کہ پاکستان نے گزشتہ برس فروری میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کے حق میں ووٹ دیا تھا، جو تنازعے کے پرامن حل اور سفارتی کوششوں کے فروغ سے متعلق تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل، بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے اور مستقبل میں بھی یہ پالیسی جاری رہے گی۔
عالمی برادری کے لیے اہم پیغام
تجزیہ کاروں کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کا حالیہ مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلام آباد یوکرین جنگ کے حوالے سے عسکری حل کے بجائے سفارتی اور سیاسی راستے کو ترجیح دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کو یہ پیغام دیا ہے کہ موجودہ دور کے پیچیدہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام میں پوشیدہ ہے۔
پاکستان نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عالمی امن، بین الاقوامی استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اپنا مثبت اور تعمیری کردار جاری رکھے گا۔



