
سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں گرفتار دہشت گرد کے اہم انکشافات، تنظیمی بھرتیوں، تربیتی کیمپوں اور حملوں سے متعلق دعوے سامنے آگئے
ملزم کے مطابق تربیت کے دوران اسلحہ چلانے، بارودی مواد استعمال کرنے، گھات لگا کر حملے کرنے اور کارروائی کے بعد شناخت چھپانے اور فرار ہونے کے مختلف طریقے سکھائے گئے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: سکیورٹی فورسز کے ایک حالیہ آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے ایک مبینہ دہشت گرد نے اپنے اعترافی بیان میں دہشت گرد تنظیم کی مبینہ سرگرمیوں، بھرتی کے طریقہ کار، تربیتی کیمپوں اور بلوچستان میں ہونے والی مختلف کارروائیوں سے متعلق اہم دعوے کیے ہیں۔ حکام کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت حبیب اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع خضدار کی تحصیل اورناچ کے علاقے سیراندوہ کا رہائشی بتایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار ملزم کے بیان کی روشنی میں دہشت گردی کے نیٹ ورک اور اس کے مبینہ سہولت کاروں کے حوالے سے تحقیقات کو مزید وسعت دی جا رہی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دستیاب شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی کر رہے ہیں۔
دہشت گرد تنظیم میں بھرتی کا دعویٰ
حکام کے مطابق حبیب اللہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اسے دہشت گرد تنظیم نے مالی مشکلات اور جھوٹے وعدوں کا سہارا لے کر اپنے ساتھ شامل کیا۔
اس کے مطابق ابتدائی طور پر اسے چنل دشت منتقل کیا گیا جہاں اس کی ذہن سازی کی گئی، جبکہ بعد ازاں اسے سرگڑھ کیمپ بھیجا گیا جہاں اسے عسکری تربیت فراہم کی گئی۔
ملزم کے مطابق تربیت کے دوران اسلحہ چلانے، بارودی مواد استعمال کرنے، گھات لگا کر حملے کرنے اور کارروائی کے بعد شناخت چھپانے اور فرار ہونے کے مختلف طریقے سکھائے گئے۔
حملوں میں مبینہ شرکت
گرفتار شخص نے دعویٰ کیا کہ وہ مختلف مواقع پر دہشت گرد گروہوں تک اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد، خوراک اور ادویات پہنچاتا رہا۔
اس نے مزید دعویٰ کیا کہ وہ سنارو کیمپ، خضدار، نال اور بیلہ سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والی متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں شریک رہا، جبکہ ہر کارروائی سے قبل اسے تنظیم کی جانب سے ہدایات، اسلحہ اور رابطہ کاری فراہم کی جاتی تھی۔
ملزم کے مطابق کارروائی مکمل ہونے کے بعد تنظیم کی جانب سے مالی معاوضہ بھی دیا جاتا تھا۔
مالی لالچ کا اعتراف
حکام کے مطابق حبیب اللہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ مختلف حملوں میں شرکت کے عوض اسے مالی ادائیگیاں کی گئیں۔
اس کے مطابق خضدار اور بیلہ میں ہونے والی کارروائیوں کے بعد اسے 25 ہزار، 25 ہزار روپے بطور معاوضہ دیے گئے۔
اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خضدار میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو شہری جاں بحق ہوئے تھے۔
ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جبکہ متعلقہ ادارے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا طریقہ
حبیب اللہ کے بیان کے مطابق دہشت گرد تنظیم مبینہ طور پر ایسے نوجوانوں کو نشانہ بناتی تھی جو بے روزگاری، مالی مشکلات یا سماجی مسائل کا شکار ہوتے تھے۔
اس نے دعویٰ کیا کہ نوجوانوں کو بہتر مستقبل، مالی معاونت اور مختلف وعدوں کے ذریعے تنظیم میں شامل کیا جاتا، تاہم بعد ازاں انہیں تنظیم چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔
ملزم کے مطابق اگر کوئی شخص تنظیم سے الگ ہونے کی کوشش کرتا تو اسے مبینہ طور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتیں۔
کیمپوں کی صورتحال
گرفتار شخص نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ تربیتی کیمپوں میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی تھی۔
اس کے مطابق کھانے پینے اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے قریبی دیہات سے سامان حاصل کیا جاتا تھا، جبکہ کیمپوں میں موجود افراد کو انتہائی سخت حالات کا سامنا رہتا تھا۔
تحقیقات جاری
سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم کے بیان کی روشنی میں دہشت گرد نیٹ ورک، مبینہ سہولت کاروں، رابطہ کاروں اور تربیتی مراکز کے حوالے سے مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور شواہد کی بنیاد پر دیگر ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال
حالیہ برسوں میں بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے متعدد واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا، شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا اور صوبے میں امن و استحکام برقرار رکھنا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے بعض ادارے اور مبصرین ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات، عدالتی عمل اور گرفتار افراد کے اعترافی بیانات کی آزادانہ جانچ کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہیں۔
ریاست کا مؤقف
حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے جاری رہیں گی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے لیے پرعزم ہیں۔
گرفتار ملزم کے بیان کو بھی جاری تحقیقات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، اور متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا قانونی تقاضوں کے مطابق جائزہ لیا جائے گا تاکہ حقائق کو شواہد کی بنیاد پر عدالت کے سامنے پیش کیا جا سکے۔




