سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کی پائیدار ترقی، روزگار کے مواقع میں اضافے اور عوامی خوشحالی کے لیے صنعت و حرفت کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور بیرونی سرمایہ کاری کے حصول کو قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھا گیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت مختلف شعبوں میں اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور کاروبار دوست پالیسیوں کے ذریعے ملکی معیشت کو ایک مضبوط اور مستحکم بنیاد فراہم کرے گی۔
یہ بات انہوں نے سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور معیشت کی مجموعی بہتری کے لیے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ناگزیر
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے صنعتی شعبے کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی پالیسیوں پر کام کر رہی ہے جن کے ذریعے نہ صرف ملکی پیداوار میں اضافہ ہو بلکہ پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی بھی بہتر بنائی جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے اور معاشی خود انحصاری کے حصول کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ صنعتکاروں اور برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں۔
سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اصلاحات پر زور
وزیراعظم نے کہا کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنا حکومت کی پالیسی کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے قواعد و ضوابط کو آسان، شفاف اور سرمایہ کار دوست بنایا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کو خطے میں ایک پرکشش سرمایہ کاری مرکز کے طور پر متعارف کرایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں جاری اصلاحات کا مقصد صرف قلیل مدتی نتائج حاصل کرنا نہیں بلکہ ان اصلاحات کو طویل المدتی معاشی فوائد اور عوامی فلاح کے تناظر میں مرتب کیا جا رہا ہے۔
توانائی کے متبادل ذرائع پر جامع حکمت عملی
اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں جاری اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شمسی، ہوا اور دیگر قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے تاکہ ملک کو سستی، ماحول دوست اور پائیدار توانائی کے ذرائع فراہم کیے جا سکیں۔
وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ توانائی کے شعبے میں جدید عالمی رجحانات اور ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سازی کی جائے تاکہ توانائی کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
الیکٹرک وہیکل پالیسی وقت کی اہم ضرورت قرار
وزیراعظم نے اجلاس میں الیکٹرک وہیکلز (EVs) کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی بچت، ایندھن کی درآمدی لاگت میں کمی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کے فروغ کے لیے ایک جامع اور مؤثر الیکٹرک وہیکل پالیسی ناگزیر ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے نہ صرف شہریوں کو کم لاگت سفری سہولیات میسر آئیں گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور توانائی کے مؤثر استعمال کو بھی فروغ ملے گا۔
جدید ٹیکنالوجی کا فروغ حکومت کی ترجیح
وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی کو معیشت کے مختلف شعبوں میں شامل کرنے کے لیے تمام متعلقہ وزارتیں، ماہرین اور نجی شعبے کے نمائندے باہمی مشاورت کے ذریعے جامع سفارشات مرتب کریں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت، جدید صنعتی نظام اور تکنیکی اختراعات مستقبل کی معیشت کا بنیادی ستون ہیں، لہٰذا پاکستان کو عالمی ترقی کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔
وزارتوں کے درمیان ہم آہنگی پر زور
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ مؤثر ترقیاتی پالیسیوں کی تشکیل اور کامیاب نفاذ کے لیے تمام وزارتوں اور اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں جاری اصلاحات اس وقت ہی مطلوبہ نتائج دے سکتی ہیں جب تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں اور قومی ترقی کے اہداف کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے جائیں۔
شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی تمام اصلاحاتی کوششوں کا بنیادی مقصد شفافیت، جوابدہی اور بہترین طرز حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر پالیسی اور ترقیاتی اقدام میں شفافیت اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ قومی وسائل کا بہترین استعمال ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد، معاشی استحکام اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کو ہر فیصلے میں مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔
مختلف پالیسی تجاویز پر بریفنگ
اجلاس کے دوران متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے حکام نے مختلف زیر غور پالیسی تجاویز، اصلاحاتی منصوبوں، سرمایہ کاری کے مواقع، توانائی کے شعبے میں مجوزہ اقدامات اور صنعتی ترقی کے پروگراموں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
حکام نے وزیراعظم کو مختلف منصوبوں کی پیش رفت، درپیش چیلنجز اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں آگاہ کیا، جبکہ اجلاس میں ان تجاویز پر تفصیلی غور و خوض بھی کیا گیا۔
اعلیٰ حکومتی شخصیات کی شرکت
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ سمیت متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور عوامی فلاح کے لیے اصلاحات کے عمل کو تیز تر بنائے گی تاکہ پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔



