
اسلام آباد – ایجنسیاں
پاکستان برقی گاڑیوں (ای ویز) کا استعمال اپنانے میں تیزی لانے پر ایک نئی توجہ کے ساتھ اپنی آٹو پالیسی پر نظرِثانی کر رہا ہے، نائب وزیرِ اعظم کے دفتر نے پیر کو کہا۔ ملک کی حکومت ایندھن کی درآمدات کم کرنے، مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور آلودگی سے پاک سفری سہولیات کی طرف منتقلی کے لیے کوشاں ہے۔
یہ جائزہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے موجودہ آٹو موٹیو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پلان (اے آئی ڈی ای پی) 2021-26کی میعاد ختم ہونے کے قریب ہے اور حکومت اس شعبے کو اپنی حالیہ شروع کردہ نیو انرجی وہیکل (این ای وی) پالیسی 2025-30 سے ہم آہنگ کرنے کے لیے آگے بڑھ رہی ہے جس کا مقصد ہے کہ 2030 تک گاڑیوں کی فروخت میں برقی اور دیگر نئی توانائی والی گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک بڑھایا جائے۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق پیر کو نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ملک کی آٹو اور آٹو پارٹس پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں آٹو سیکٹر میں نمو بہتر کرنے کے اقدامات پر بات ہوئی۔
ڈار کے دفتر نے ایک بیان میں کہا، "کمیٹی کو ای ویز کے استعمل کو فروغ دینے، ملکی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے، معاون حکومتی پالیسیوں کے ذریعے صنعت کی ترقی میں سہولت فراہم کرنے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، برآمدات بڑھانے اور پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کوششوں میں تعاون کرنے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔”
نیز کہا، "وزیرِ خارجہ نے ایک مسابقتی، اختراعی اور پائیدار آٹو موٹیو ایکو سسٹم تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا جو معاشی ترقی میں معاونت کرے، صنعتی صلاحیت بڑھائے، ہنرمند ملازمتیں پیدا کرے اور ایک مستقبل آفرین آٹو موٹیو سیکٹر کے ذریعے ماحولیاتی پائیداری کو بہتر کرے۔”
پاکستان کا ٹرانسپورٹ سیکٹر درآمد شدہ پیٹرولیم مصنوعات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جس کے باعث یہ ملک کے ایندھن کے درآمدی بل اور کاربن کے اخراج میں بڑا حصہ دار ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ این ای وی پالیسی کے تحت برقی نقل و حرکت کی طرف منتقلی سے سالانہ دو بلین لیٹر سے زیادہ ایندھن اور سالانہ تقریباً ایک بلین ڈالر زرِمبادلہ کی بچت ہو سکتی ہے۔ جبکہ اس سے کاربن کا اخراج بھی کم ہو گا۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں برقی گاڑیوں کی تعداد بڑھ کر 2025 کے وسط تک 80,000 سے زیادہ ہو گئی جو 2021 میں سینکڑوں میں تھی جس کی بڑی وجہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں میں اضافہ ہے۔ 60 سے زائد مینوفیکچررز نے مقامی طور پر برقی موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی تیاری کے لیے لائسنس حاصل کیے ہیں۔
آٹو پالیسی کے اگلے مرحلے کو حتمی شکل دینے کے لیے ڈار نے اب ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا کام صنعت کے متعلقین سے مشاورت اور ایک مسودہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔



