مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران میں اقتدار کا بدلتا منظرنامہ: کیا مذہبی قیادت کی جگہ عسکری اشرافیہ لے رہی ہے؟

اقتدار کی یہ منتقلی گزشتہ دو دہائیوں سے بتدریج جاری تھی، لیکن حالیہ جنگ نے اس عمل کو نمایاں طور پر تیز کر دیا ہے

تہران: ایران میں جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی و عسکری تبدیلیوں نے ملک کے اقتدار کے ڈھانچے کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حالات نہ صرف ایران کی داخلی سیاست کو تبدیل کر رہے ہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ کے بنیادی نظریاتی ڈھانچے کو بھی ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہے ہیں، جہاں مذہبی قیادت کے مقابلے میں سکیورٹی اور عسکری ادارے زیادہ طاقتور حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران کے سیاسی اور معاشی نظام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، تاہم حالیہ جنگ نے اس ادارے کے اثر و رسوخ میں غیرمعمولی اضافہ کر دیا ہے۔ بعض ماہرین کے نزدیک ایران اس وقت ایک ایسی تاریخی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں مذہبی قیادت بظاہر برقرار رہنے کے باوجود عملی اختیارات فوجی اور سکیورٹی اشرافیہ کے ہاتھوں میں منتقل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

پاسداران انقلاب کا بڑھتا ہوا اثر

1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والی پاسداران انقلاب کا بنیادی مقصد انقلاب اور اسلامی نظام کا تحفظ تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ محض ایک فوجی قوت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ایران کے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی ڈھانچے میں گہری جڑیں مضبوط کر لیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاسداران انقلاب سے وابستہ اور اس کے زیراثر کمپنیوں کا نیٹ ورک ایران کی معیشت کے بڑے حصے پر اثر انداز ہے۔ تیل، گیس، تعمیرات، ٹیلی کمیونیکیشن، بین الاقوامی تجارت اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں میں اس ادارے کے وسیع مفادات موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی طاقت نے پاسداران انقلاب کو سیاسی فیصلہ سازی میں بھی غیرمعمولی حیثیت عطا کر دی ہے۔

جنگ نے تبدیلی کے عمل کو تیز کر دیا

اگرچہ بعض مبصرین کے مطابق اقتدار کی یہ منتقلی گزشتہ دو دہائیوں سے بتدریج جاری تھی، لیکن حالیہ جنگ نے اس عمل کو نمایاں طور پر تیز کر دیا ہے۔

جرمنی میں مقیم ایرانی سیاسی تجزیہ کار اور مصنف فراز سرکوہی کے مطابق جنگی حالات کے باعث ایران کی اسٹریٹیجک اور آپریشنل قیادت عملی طور پر فوجی کمانڈرز اور جنگی ہیڈکوارٹرز کے سپرد کر دی گئی ہے۔

ان کے مطابق ہنگامی صورتحال میں قومی سلامتی اور دفاعی معاملات سے متعلق اہم فیصلے عسکری قیادت کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سکیورٹی اداروں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔

تاہم فراز سرکوہی اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ ایران مکمل طور پر ایک فوجی آمریت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ولایت فقیہ کا ادارہ اب بھی نظام کا بنیادی ستون ہے اور اس کی آئینی و نظریاتی حیثیت برقرار ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری اور نئے سوالات

28 فروری 2026 کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کی مجلس خبرگان کی جانب سے ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیے جانے کی اطلاعات نے اندرون اور بیرون ملک نئی بحث کو جنم دیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس تقرری نے ایران کے اقتدار کے حقیقی مراکز کے بارے میں کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مذہبی قابلیت یا روایتی فقہی مرتبے کے بجائے طاقت کے توازن اور سکیورٹی اداروں کے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔

دی ہیگ انسٹی ٹیوٹ فار جیوپالیٹکس سے وابستہ محقق ڈیمن گولریز کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ایران کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے اقتدار کے ڈھانچے میں مذہبی جواز کے مقابلے میں سیاسی مفادات اور طاقت کے مراکز زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا پس منظر

56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای اگرچہ ایک مذہبی شخصیت ہیں، تاہم انہوں نے نہ تو ایران کے اعلیٰ مذہبی مراتب میں نمایاں مقام حاصل کیا اور نہ ہی انتخابی سیاست میں کوئی بڑا کردار ادا کیا۔

اس کے باوجود ان کے سکیورٹی اداروں خصوصاً پاسداران انقلاب کے ساتھ روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔

ایران۔عراق جنگ کے دوران انہوں نے 1987 میں پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کی اور محمد رسول اللہ ڈویژن کے تحت حبیب ابن مظاہر بٹالین میں خدمات انجام دیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق یہی عسکری نیٹ ورک بعد میں ایسے بااثر حلقوں میں تبدیل ہوا جنہوں نے ایران کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ نیٹ ورک سپریم لیڈر کے دفتر کے ساتھ بھی مضبوطی سے جڑ گیا اور اقتدار کے ایوانوں میں اس کا اثر بڑھتا گیا۔

حقیقی طاقت کس کے پاس؟

ڈیمن گولریز کے مطابق اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای رسمی طور پر سپریم لیڈر کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن عملی طور پر اقتدار کا مرکز فوجی اور سکیورٹی شخصیات کے ایک طاقتور نیٹ ورک کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔

ان کے بقول مجتبیٰ خامنہ ای کی حیثیت ایک ایسے مذہبی اور نظریاتی چہرے کی ہو سکتی ہے جو موجودہ نظام کو قانونی اور مذہبی جواز فراہم کرے، جبکہ انتظامی اور سکیورٹی فیصلوں میں اصل کردار پاسداران انقلاب اور اس سے وابستہ شخصیات ادا کریں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2009 کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای نے فوجی کمانڈرز کے درمیان رابطہ کاری اور بسیج ملیشیا کی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بسیج ایک نیم فوجی تنظیم ہے جو پاسداران انقلاب کے ماتحت کام کرتی ہے اور ماضی میں حکومت مخالف احتجاجی تحریکوں کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے۔

مذہبی اداروں سے فوجی مراکز تک

بعض مبصرین کے مطابق ایران میں طاقت کا مرکز بتدریج مذہبی مدارس، فقہی اداروں اور روایتی مذہبی قیادت سے نکل کر فوجی بیرکوں اور سکیورٹی مراکز کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق یہ عمل اچانک نہیں بلکہ کئی برسوں سے جاری ہے، تاہم موجودہ جنگی حالات نے اسے مزید نمایاں بنا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے مذہبی رہنما اور آیات عظام بدستور معاشرے میں احترام اور اثر و رسوخ رکھتے ہیں، لیکن سیاسی اور ریاستی معاملات میں ان کی فیصلہ ساز حیثیت پہلے کے مقابلے میں کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

ایران کا مستقبل کس سمت جا رہا ہے؟

ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ ایران مکمل طور پر ایک فوجی ریاست میں تبدیل ہو جائے گا یا نہیں، تاہم بیشتر مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ سکیورٹی اداروں اور پاسداران انقلاب کا کردار مستقبل میں مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایران ایک ایسے ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں مذہبی قیادت رسمی اور علامتی حیثیت برقرار رکھے گی، جبکہ حقیقی اختیارات عسکری اور سکیورٹی اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہوں گے۔

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اسلامی جمہوریہ کا نظریاتی ڈھانچہ اب بھی اتنا مضبوط ہے کہ وہ مکمل عسکری غلبے کو محدود رکھ سکتا ہے۔

تاہم ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ حالیہ جنگ نے ایران کے اقتدار کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے اور آنے والے برسوں میں یہ تبدیلی نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button