
ایرانی امریکی معاہدے سے نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات میں اضافہ
ان کی لیکوڈ پارٹی انہیں ایک ایسے سخت گیر رہنما کے طور پر پیش کرتی ہے، جس نے اسرائیل کے دشمنوں کو ناکوں چنے چبوا دیے۔
روئٹرز کے ساتھ
نیتن یاہو کو پہلے ہی بدعنوانی کے الزامات، داخلی سیاسی تنازعات اور حماس کے حملے کے دوران سکیورٹی ناکامیوں پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اب انہیں ووٹروں کے سامنے ایران اور لبنان کی جنگوں سے نمٹنے اور اسرائیل کے سب سے اہم اتحادی امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی جواب دہ ہونا پڑے گا۔
اس وقت 76 سالہ نیتن یاہو نے اسی ہفتے تصدیق کر دی کہ وہ دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسرائیلی قانون کے مطابق نئے انتخابات کا اعلان اکتوبر تک ہونا ضروری ہے۔
رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومتی اتحادی جماعتوں کو انتخابات میں شکست کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم بہت سے اسرائیلی مبصرین اب بھی یہ امکان رد نہیں کرتے کہ وہ ایک بار پھر مختلف جماعتوں کو ساتھ ملا کر نئی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

مستقل کامیابیوں کا فقدان
اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیر اعظم نیتن یاہو، جنہیں ان کے حامی کبھی ‘کنگ بی بی‘ کے نام سے پکارتے تھے، حالیہ اسرائیلی تاریخ کے سب سے بااثر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ تاہم ناقدین کی نظر میں وہ شدید عوامی غصے اور تنقید کا مرکز بھی ہیں۔
ان کی لیکوڈ پارٹی انہیں ایک ایسے سخت گیر رہنما کے طور پر پیش کرتی ہے، جس نے اسرائیل کے دشمنوں کو ناکوں چنے چبوا دیے۔
تاہم سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے اور بعد ازاں جاری جنگوں کے باعث ان کی سخت گیر رہنما کی شبیہ کو نقصان پہنچا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیل نے بعض فوجی کامیابیاں حاصل کیں، لیکن نیتن یاہو کوئی فیصلہ کن اور دیرپا فتح حاصل نہیں ہو سکی۔
غزہ پٹی اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد گزشتہ کئی دہائیوں میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس نے جنگی حکمت عملی اور حکومتی پالیسیوں پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اگرچہ غزہ پٹی میں جنگ کے آغاز پر بیشتر اسرائیلی عوام نے حکومتی موقف کی حمایت کی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نیتن یاہو کی جنگی حکمت عملی پر تنقید میں بھی اضافہ ہوا۔ کئی نمایاں سابق فوجی کمانڈروں اور یرغمالیوں کے اہل خانہ نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ جنگ کے لیے کوئی واضح اور جامع اسٹریٹیجک منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہی تھی۔
اسرائیلی حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپیڈ نے امریکی ایرانی معاہدے کے بعد کہا، ”نیتن یاہو جنگ ہار گئے۔ نیتن یاہو نتائج دینے میں ناکام رہے، اور فیصلہ کن لمحے پر وہ بکھر گئے۔‘‘
نیتن یاہو ایسی تنقید کو اسرائیل کی کامیابیوں کو کم تر دکھانے کی مہم قرار دیتے ہیں۔ نیتن یاہو کا موقف ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں نے اسرائیل کو سنگین خطرات سے محفوظ رکھا۔
لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگ کے باوجود اسرائیل اپنے بنیادی سیاسی اور سکیورٹی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

مغرب اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی خلیج
اگرچہ نیتن یاہو نے اسرائیل کے لیے مغربی حمایت حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن ان کے تعلقات متعدد امریکی صدور اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ کشیدہ بھی رہے ہیں۔
رپورٹوں کے مطابق جون میں ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔
یہ صورت حال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک اقتدار میں رہنے والے وزیر اعظم نیتن یاہو کو نہ صرف داخلی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی پوزیشن پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور متنازعہ ہو چکی ہے۔



