پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی نواز شریف میڈیکل سٹی میں سات جدید ہسپتالوں کے قیام کی منظوری

انسٹیٹیوٹ آف سرجیکل آرتھوپیڈک اینڈ میڈیکل ری ہیب، چلڈرن ہسپتال فور، برن سینٹر اور جینیٹک ڈیزیز انسٹیٹیوٹ سمیت متعدد میگا منصوبوں کا آغاز

انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ میں جدید طبی سہولیات پر مشتمل متعدد بڑے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان منصوبوں کے تحت انسٹیٹیوٹ آف سرجیکل آرتھوپیڈک اینڈ میڈیکل ری ہیبلیٹیشن، چلڈرن ہسپتال فور، پلاسٹک ری کنسٹرکٹیو سرجری اینڈ برن سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف جینیٹک اینڈ بلڈ ڈیزیز، سنٹر آف ایکسی لینس نرسنگ اینڈ مڈوائفری، انسٹیٹیوٹ آف آپتھلمولوجی اور انفیکشن ڈیزیز ہسپتال قائم کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ خصوصی اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) سے متعلق مختلف ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبے بھر میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے نجی شعبے کی شمولیت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر غور کیا گیا۔


نواز شریف میڈیکل سٹی میں 1519 بستروں پر مشتمل سات جدید ہسپتال

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نواز شریف میڈیکل سٹی کے منصوبے کے تحت مرحلہ وار سات بڑے ہسپتال تعمیر کیے جائیں گے جن میں مجموعی طور پر 1519 بستروں کی گنجائش ہوگی۔

حکام کے مطابق یہ منصوبہ پنجاب کے صحت کے نظام میں انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور اس سے نہ صرف لاہور بلکہ پورے صوبے کے مریضوں کو عالمی معیار کی طبی سہولیات میسر آئیں گی۔

میڈیکل سٹی میں خصوصی نوعیت کے ادارے قائم کیے جا رہے ہیں جہاں پیچیدہ سرجریوں، جینیاتی بیماریوں، ہڈیوں اور جوڑوں کے امراض، بچوں کی صحت، آنکھوں کے امراض، انفیکشنز اور برن کیسز کے علاج کے لیے جدید ترین سہولیات فراہم کی جائیں گی۔


پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کی فعالیت پر وزیراعلیٰ کا اظہار اطمینان

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس کے دوران 19 سال بعد پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے مکمل طور پر فعال ہونے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان، سیکرٹری فنانس مجاہد شیر دل اور پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ذیشان حنیف کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث ادارہ فعال ہوا اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں نجی شعبے کی شمولیت وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سے ترقیاتی عمل میں تیزی آئے گی۔


پنجاب بھر میں 110 ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

اجلاس میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں مجوزہ 110 ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت مختلف شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے کر بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں ترقیاتی منصوبے مکمل کرنا چاہتی ہے۔

حکام کے مطابق اس وقت متعدد منصوبوں پر عملی کام جاری ہے جبکہ کئی منصوبے مختلف مراحل میں ہیں۔


پہلی مرتبہ طلبہ کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہاسٹلز کا منصوبہ

اجلاس کے دوران پنجاب میں پہلی بار پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت طلبہ کے لیے جدید ہاسٹلز قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔

اس منصوبے کا مقصد تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو معیاری اور محفوظ رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے، خصوصاً ان طلبہ کے لیے جو دور دراز علاقوں سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔


روڈز، بس اسٹینڈز، ٹرکنگ ٹرمینلز اور فوڈ اسٹریٹس کے منصوبے زیر غور

اجلاس میں مختلف انفراسٹرکچر منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع، جدید ٹرکنگ ٹرمینلز، بس اسٹینڈز، ماڈل بازاروں اور فوڈ اسٹریٹس کے قیام کے منصوبے شامل ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں سے شہری سہولیات میں بہتری آئے گی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔


چار منصوبے مکمل، 27 کی فزیبلٹی تیار

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت چار منصوبے کامیابی کے ساتھ مکمل اور فعال ہو چکے ہیں۔

اسی طرح 27 منصوبوں کی فزیبلٹی رپورٹس تیار کی جا چکی ہیں جبکہ دیگر متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے تاکہ انہیں جلد عملی شکل دی جا سکے۔

حکام نے امید ظاہر کی کہ نجی شعبے کے تعاون سے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔


وزیراعلیٰ کے چار بڑے فلیگ شپ منصوبے بھی شامل

بریفنگ کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پلان میں وزیراعلیٰ پنجاب کے چار بڑے فلیگ شپ منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔

ان منصوبوں میں:

  • نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ میں ایف ایم ڈی پروڈکشن پلانٹ
  • ٹائم ٹریول پارک لاہور
  • شریمپ فارمنگ پراجیکٹ
  • مائنز ٹو میٹل چنیوٹ منصوبہ

شامل ہیں۔

حکام کے مطابق یہ منصوبے صحت، سیاحت، زراعت اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔


ترقی کا سفر ہر صورت جاری رہے گا، مریم نواز شریف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں ترقی اور خوشحالی کا سفر ہر صورت جاری رکھا جائے گا اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا بنیادی مقصد نجی شعبے کو ترقیاتی عمل کا حصہ بنانا ہے تاکہ عوام کو جدید سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکومت صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، صنعت اور زراعت سمیت تمام شعبوں میں جدید اور پائیدار ترقیاتی منصوبے متعارف کرا رہی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے وژن کے تحت تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے گا اور پنجاب کو ترقی، سرمایہ کاری اور جدید سہولیات کے حوالے سے ملک کا مثالی صوبہ بنایا جائے گا۔


صحت کے شعبے میں ایک نئی پیش رفت

ماہرین کے مطابق نواز شریف میڈیکل سٹی اور اس کے تحت قائم ہونے والے خصوصی طبی ادارے پنجاب کے صحت کے نظام میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔ ان منصوبوں سے نہ صرف مریضوں کو جدید علاج معالجے کی سہولیات میسر آئیں گی بلکہ میڈیکل ریسرچ، نرسنگ ایجوکیشن اور اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے شعبوں میں بھی نئی راہیں کھلیں گی۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد پنجاب جدید طبی سہولیات، میڈیکل ایجوکیشن اور ہیلتھ ریسرچ کے حوالے سے خطے کے اہم مراکز میں شامل ہو سکے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button