
By Voice of Germany Urdu News Team
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔ وہ وہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق، ’’وزیراعظم شہباز شریف ایران، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے، تاکہ خطے میں مکالمے اور پائیدار امن کے لیے پاکستان کے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا جا سکے۔‘‘
دوسری جانب، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ان اہم مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ، اوشا وینس کے ہمراہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً چھ بجے سوئٹزر لینڈ پہنچے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر اس وقت امریکہ سے روانہ ہوئے جب ایرانی سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا کہ ایران کے مذاکراتی نمائندے سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ تہران کے وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی کے علاوہ مرکزی بینک اور تیل کے شعبے کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔

جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل کہا کہ وہ ان مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے پیش رفت کے لیے پُرامید ہیں۔
وینس نے عندیہ دیا کہ وہ صرف ایک یا دو دن سوئٹزرلینڈ میں قیام کریں گے، جبکہ تفصیلی مذاکرات کی قیادت اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کریں گے۔
ان مذاکرات میں جے ڈی وینس کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ اس وقت امریکی نائب صدر پر عوامی توجہ میں اضافہ دیکھا جا رہا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ 2028 کے صدارتی انتخابات کی مہم میں فعال ہونے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ مذاکرات عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور انہیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ اور وینس کو اس معاہدے پر اپنی ہی جماعت کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے سخت گیر ارکان اس معاہدے کا موازنہ اوباما دور کے جوہری معاہدے سے کرتے ہوئے اسے ناپسندیدہ قرار دے رہے ہیں۔ اس معاہدے کے بارے میں ٹرمپ اور ریپبلکنز کا مؤقف رہا ہے کہ اس نے ایران کے جوہری پروگرام کو عملی طور پر ختم نہیں کیا۔

اس معاہدے کے تحت تہران کو فوری طور پر آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت ملے گی، جبکہ اس سے ایران کی ان اربوں ڈالر کے اثاثوں تک رسائی بھی ممکن ہو سکے گی جو اس وقت منجمد ہیں۔ مفاہمتی معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اپنے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کرے گا، جو خیال کیا جاتا ہے کہ ان جوہری تنصیبات کے نیچے موجود ہے جنہیں گزشتہ موسمِ گرما میں امریکی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
دریں اثناء ٹرمپ نے ہفتے کے روز یہ دھمکی بھی دی کہ اگر 60 دن میں ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ خود آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس عائد کرے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ رقم مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے ’’نگہبان فرشتہ‘‘ کے طور پر فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض ہوگی۔




