
جب دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی ،28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ آگ میں جل رہا تھا۔ آبنائے ہرمز بند، تیل200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خطرہ، اور تیسری عالمی جنگ کا سایہ منڈلا رہا تھا۔ ایسے میں ایک ملک خاموشی سے ثالثی کے لیے آگے بڑھا وہ ملک پاکستان تھا۔ 18 جون 2026ء کو "Islamabad Memorandum of Understanding” پر دستخط ہوئے تو دنیا نے سکون کا سانس لیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی فتح تھی۔پاکستان نے ناممکن کو ممکن بنادیا امریکہ اور ایران کے درمیان 48 سال سے جاری سرد و گرم جنگ، سفارتی تعلقات کا نہ ہونا، اور باہمی عدم اعتماد کی 4 دہائیوں سے زائد عرصہ کی دیوار کو گرانا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ ان تزویراتی حالات میں ایران کا مؤقف تھا کہ”میزائل اور ایٹمی پروگرام پر کوئی بات نہیں ہو گی” جبکہ امریکہ کی شرط تھی کہ "یورینیم ایران سے باہر جائے اور ایران جوہری ھتھیار نہ بناۓ” دوسری طرف اسرائیل لبنان میں جارحانہ جنگی کارروائیاں جاری رکھنا چاہتا تھا۔پاکستان نے ان تینوں گتھیوں کو سلجھایا۔ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے چار ماہ "شٹل ڈپلومیسی” کی۔ خود سفارتکاروں نے مانا کہ”مذاکرات میں ایسے لمحات آئے جب لگا سب کچھ ختم ہو جائے گا۔لیکن پاکستان سب سنبھال لیا پاکستان کی کوششیں "رائیگاں” نہیں گئیں، بلکہ عالمی سطح پر ان کا اعتراف ہو رہا ہے 60 دن کی جنگ بندی نافذ، فوری اثر سے آبنائے ہرمز کھل گئی تیل کی قیمتیں 30% کم، عالمی معیشت بحران سے بچ گئی
عالمی امن کے نام کا اعزاز پاکستان نے اپنے نام کیا معاہدے کا سرکاری نام "Islamabad Memorandum of Understanding” رکھا گیا ٹرمپ نے کہا: "پاکستان نے بہت اہم کردار ادا کیا” امریکی صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر پزیشکیان دونوں نے پاکستانی ثالثی کو سراہا ایرانی وزارت خارجہ: "پاکستان کے بغیر یہ ممکن نہ تھا” جبکہ معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر کارروائیاں روکنے کی شق شامل اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں بھی کمی آئی۔ 300 ارب ڈالر کے ایرانی انفراسٹرکچر فنڈ میں پاکستانی کمپنیوں کو ترجیح دی جائے گی الحمدللہ ! پاکستان خطے کا معاشی حب بننے کے راستے پر گامزن ہو چکا ہے اس تاریخی کامیابی کا سہرا ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر: امریکی فوجی قیادت سے ذاتی تعلقات اور "بیک چینل” ڈپلومیسی کے ذریعے پینٹاگون کو جنگ کے نقصانات پر قائل کیا۔ "خاموش سپاہی” کا کردار ادا کیا۔وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف: پارلیمنٹ میں کہا: "پاکستان نے امت مسلمہ کو تقسیم سے بچایا”۔ قطر اور سعودی عرب کو ساتھ ملا کر سفارتی محاذ سنبھالا۔پاکستان میں اپوزیشن نے پروپیگنڈا کیا کہ "جنیوا میں تقریب نہ ہو سکی تو پاکستان ناکام ہو گیا”۔ حقیقت اس کے برعکس ہے: اصل مقصد اور ہدف تقریب نہیں، معاہدہ تھا:،تقریب منسوخ اس لیے ہوئی کیونکہ دستخط پہلے ہی ہو چکے تھے۔ کام 60 دن پہلے مکمل ہو گیا۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان نے”پہلا راؤنڈ” جیت لیا:* جنگ رک گئی، تیل بحال ہوا، پاکستان کا نام بنا۔ یہی اصل کامیابی ہے۔لیکن اصل امتحان اب بھی باقی ہے: اگلے 60 دن میں حتمی ڈیل ہوئی تو پاکستان "مستقل ثالث” بن جائے گا۔ میچ ابھی ختم نہیں ہوا "پاکستان نے سب کو حیران کر دیا امریکی نائب صدر جے ڈی وئینس نے کہا: "ہم الفاظ پر نہیں، عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان نے عمل کر کے دکھایا”۔یورپ کے G7 ممالک نے تسلیم کیا کہ پاکستان کے بغیر تیل کا بحران یورپ کو لے ڈوبتا۔چین و روس دونوں نے پاکستان کی "غیر جانبدار ثالثی” کی تعریف کی مسلم دنیا کی نمائندہ تظیم OIC نے قرارداد پاس کی کہ "پاکستان نے امت کو بڑی جنگ سے بچایا” اس سب باوجود اندرونی محاذ: کامیابی کو کیش کرانے کا چیلنج درپیش ہے افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں کچھ حلقے اسے "ناکامی” بنا کر پیش کر رہے ہیں۔اپوزیشن کا منفی بیانیہ ہے کہ تقریب نہ ہوئی تو کیا فائدہ؟حقیقت میں اگرحکومت اس سفارتی کامیابی کا فائدہ عوام تک درست طریقے سے نہ پہنچا سکی تو سیاسی نقصان ہو سکتا ہے۔ دنیا مان رہی ہے، لیکن اپنے لوگوں کو منانا باقی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ "Islamabad MOU” کو قومی تاریخ کا حصہ بنائے، سفارتی کامیابی پر”گولڈن پیپر” جاری کرے، اور دنیا کو بتائے کہ 48 سالہ دشمنی ختم کرانا معمولی بات نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کام ختم نہین ہوا اگلے 60 دن: اصل جنگ باقی ہے*
معاہدہ "وینٹی لیٹر” پر ہے۔ ٹرمپ کے بیانات "bomb the hell out of them” ڈیموکلس کی تلوار ہیں۔ اگر ایران نے IAEA کو رسائی دی اور یورینیم ڈاؤن بلینڈ شروع کیا تو اگست 2026ء تک حتمی ڈیل ہو جائے گی۔ ان شاء اللہ ! کامیابی کی صورت میں پاکستان خطے کا سب سے بڑا سفارتی مرکز بن کر ابھرے گا۔ اقوام متحدہ میں مستقل نشست کا دعویٰ مضبوط ہو گا۔ خدانخواستہ بالفرض محال ناکامی کی صورت میں جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، مگر الزام پاکستان پر نہیں آئے گا کیونکہ اس نے "ناممکن کو ممکن” کر دکھایا۔
دنیا کو پاکستان پر فخر ہے
پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف ایٹمی طاقت نہیں، "امن کی طاقت” بھی ہے۔ 48 سال سے جاری امریکہ-ایران کشیدگی کو روکنا، تیسری عالمی جنگ ٹالنا، اور عالمی معیشت کو تباہی سے بچانا – یہ کارنامہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔دنیا آج پاکستان کی شکر گزار ہے۔ جیسا کہ ایک تجزیہ کار نے کہا: "پاکستان نے پہلا راؤنڈ جیت لیا ہے۔ میچ ابھی ختم نہیں ہوا، لیکن دنیا کو امید ہے کہ پاکستان کبھی مایوس نہیں کرے گا”۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔ پاکستان عالمی امن کا چیمپئن زندہ باد۔



