مشرق وسطیٰتازہ ترین

تہران نے امریکہ اور اسرائیل پر مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر دیا، مزید اقدامات کی دھمکی

تہران کا کہنا ہے کہ اگر عالمی طاقتیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتیں تو خطے میں استحکام قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

تہران: ایران نے لبنان میں جاری اسرائیلی فضائی کارروائیوں اور جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے ردعمل میں ہفتہ کے روز آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام جنگ کے خاتمے سے متعلق طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کی شرائط پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث اٹھایا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کا فیصلہ ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے کیا گیا۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے طے شدہ معاہدے کی پہلی شق پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ایران کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔


ایران کا مؤقف: دشمن کی وعدہ خلافی برداشت نہیں کی جائے گی

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جو جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت کشیدگی میں کمی اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی ضمانت دی گئی تھی، تاہم عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔

ایرانی حکام نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ان کا "پہلا ردعمل” ہے اور اگر مفاہمتی معاہدے کی مزید خلاف ورزیاں جاری رہیں تو مستقبل میں مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا:

"معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے اور مخالف فریق کو اپنی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرانے کے لیے ایران تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔”


امریکہ پر بھی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

ایران نے اپنے بیان میں امریکہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ واشنگٹن نے معاہدے کی بنیادی شقوں پر عمل درآمد میں ناکامی دکھائی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکہ نے معاہدے کے ابتدائی نکات پر عمل نہ کر کے نہ صرف وعدہ خلافی کی بلکہ خطے میں اعتماد سازی کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا۔

تہران کا کہنا ہے کہ اگر عالمی طاقتیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتیں تو خطے میں استحکام قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔


آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار سمندری راستے سے منتقل کی جاتی ہے۔ اس تنگ آبی گزرگاہ کے ذریعے خلیجی ممالک کی توانائی کی برآمدات عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بھی متوقع ہے۔


اسرائیل کا ردعمل: حملے حزب اللہ کی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے

دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے ایران اور لبنان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں کیے گئے تازہ فضائی حملے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیوں کے جواب میں کیے گئے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی فوجیوں اور عسکری تنصیبات پر 50 سے زائد راکٹ داغے، جس کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے راکٹ لانچنگ سائٹس، اسلحہ کے ذخائر اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا۔

آئی ڈی ایف کے بیان میں کہا گیا:

"اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے، تاہم اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو درپیش کسی بھی خطرے کو ختم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔”

اسرائیلی حکام نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان میں کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔


حزب اللہ کا مؤقف: اسرائیلی پیش قدمی کا جواب دیا گیا

حزب اللہ نے اپنے الگ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے محدود کارروائیاں کیں۔

تنظیم کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے باوجود بعض علاقوں میں پیش قدمی کی کوشش کی، جس کے جواب میں مزاحمتی کارروائی کی گئی۔

تاہم حزب اللہ نے یہ بھی کہا کہ وہ جمعہ کی دوپہر سے جنگ بندی کی مکمل پابندی کر رہی ہے اور اس کے بعد کسی نئی جارحانہ کارروائی کا آغاز نہیں کیا گیا۔


جنوبی لبنان میں جانی نقصان میں اضافہ

ادھر جنوبی لبنان کے نبطیہ ضلع میں جاری اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

لبنانی ذرائع کے مطابق تازہ حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 16 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک لبنانی فوجی اہلکار بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ متعدد عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔


خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ

علاقائی اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں مشرق وسطیٰ میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران، اسرائیل، امریکہ اور خطے کے دیگر فریقین کے درمیان سفارتی رابطے بحال نہ ہوئے تو نہ صرف علاقائی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سفارتی حلقوں کی نظریں اب آنے والے دنوں میں امریکہ، ایران، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ممکنہ ردعمل پر مرکوز ہیں، کیونکہ موجودہ صورتحال پورے خطے کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button