انٹرٹینمینٹتازہ ترین

نیٹ فلکس سے 11 ملین ڈالر فراڈ کیس: ہالی ووڈ ہدایت کار کارل رنش کو ڈھائی سال قید، کروڑوں ڈالر ضبط کرنے کا حکم

نیویارک کی وفاقی عدالت کا بڑا فیصلہ، فلم ساز کو فنڈز کے غلط استعمال پر سزا

مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز

امریکی فلم "47 رونن” کے ہدایت کار Carl Rinsch کو اسٹریمنگ کمپنی Netflix سے حاصل ہونے والے لاکھوں ڈالر کے مبینہ فراڈ کے مقدمے میں ڈھائی سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عدالت نے قید کے ساتھ ساتھ ان سے ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

وفاقی استغاثہ کے مطابق کارل رنش کو 2020 میں نیٹ فلکس کی جانب سے سائنس فکشن سیریز "White Horse” کی تیاری کے لیے تقریباً 11 ملین ڈالر فراہم کیے گئے تھے، تاہم انہوں نے یہ رقم منصوبے پر خرچ کرنے کے بجائے ذاتی سرمایہ کاری، لگژری خریداریوں اور دیگر غیر متعلقہ مقاصد کے لیے استعمال کی۔


سیریز کی تیاری کے لیے ملنے والی رقم کہاں خرچ ہوئی؟

نیویارک کے وفاقی پراسیکیوٹرز کے مطابق نیٹ فلکس نے کارل رنش کو ایک نئی سائنس فکشن سیریز کی تیاری مکمل کرنے کے لیے اضافی فنڈز فراہم کیے تھے، تاکہ منصوبہ بروقت مکمل ہو سکے۔

استغاثہ کا مؤقف تھا کہ فنڈز موصول ہونے کے بعد رنش نے اس رقم کا بڑا حصہ منصوبے پر استعمال کرنے کے بجائے انتہائی پرخطر مالی سرمایہ کاری میں لگا دیا۔

حکام کے مطابق:

  • رقم کا بڑا حصہ ہائی رسک اسٹاک آپشنز میں لگایا گیا۔
  • لاکھوں ڈالر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیے گئے۔
  • منصوبے کی تکمیل کے بجائے ذاتی اخراجات کو ترجیح دی گئی۔

لگژری گاڑیاں، مہنگے ملبوسات اور قیمتی سامان کی خریداری

عدالتی دستاویزات کے مطابق رنش نے مبینہ طور پر فنڈز سے متعدد قیمتی اشیا بھی خریدیں۔

ریکارڈ کے مطابق ان اخراجات میں شامل تھے:

  • ایک سرخ فیراری،
  • پانچ رولز رائس گاڑیاں،
  • مہنگے ڈیزائنر ملبوسات،
  • قیمتی فرنیچر،
  • اور دیگر لگژری اشیا۔

استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تمام خریداریاں منصوبے کے بجٹ کا حصہ نہیں تھیں اور فنڈز کے غیر مجاز استعمال کے زمرے میں آتی ہیں۔


عدالت کا فیصلہ

وفاقی عدالت نے شواہد اور مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد کارل رنش کو:

  • ڈھائی سال قید،
  • اور تقریباً 11 ملین ڈالر ضبط کرنے کی سزا سنائی۔

عدالت نے قرار دیا کہ منصوبے کے لیے فراہم کیے گئے فنڈز کا استعمال معاہدے کے مطابق نہیں کیا گیا۔


دفاع کا مؤقف: ذہنی دباؤ اور ذاتی مسائل

سماعت کے دوران کارل رنش کے وکلا نے عدالت سے سزا میں نرمی کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مالی بے ضابطگیاں اس وقت ہوئیں جب وہ شدید پیشہ ورانہ دباؤ اور طلاق کے قانونی تنازع سے گزر رہے تھے۔

وکلاء کے مطابق ان حالات نے ان کی فیصلہ سازی کو متاثر کیا، لہٰذا عدالت ان عوامل کو سزا کے تعین میں مدنظر رکھے۔


کیانو ریوز کی رحم کی اپیل

Keanu Reeves، جنہوں نے فلم "47 رونن” میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، نے بھی عدالت کو ایک خط لکھ کر اپنے سابق ہدایت کار کے لیے رحم کی اپیل کی۔

کیانو ریوز نے اپنے خط میں کارل رنش کو:

"غیرمعمولی صلاحیتوں کا حامل فنکار”

قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے باوجود اکثر اپنی ہی غلطیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہوتے رہے ہیں۔

اگرچہ اداکار کی اپیل عدالت کے ریکارڈ کا حصہ بنی، تاہم عدالتی فیصلے میں سزا برقرار رکھی گئی۔


کارل رنش کا فلمی کیریئر

کارل رنش ہالی ووڈ میں اپنی بصری انداز اور اشتہارات کی ہدایت کاری کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ انہیں بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ شہرت 2013 کی فلم 47 Ronin سے ملی، جس میں کیانو ریوز نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

بعد ازاں انہوں نے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے لیے بھی مختلف منصوبوں پر کام شروع کیا، جن میں "White Horse” نامی سائنس فکشن سیریز بھی شامل تھی، تاہم یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔


فلم انڈسٹری میں مالی شفافیت پر نئی بحث

یہ مقدمہ ہالی ووڈ اور اسٹریمنگ انڈسٹری میں پروڈکشن فنڈز کے استعمال، مالی شفافیت اور معاہدوں کی نگرانی کے حوالے سے ایک اہم مثال بن گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق بڑے بجٹ کے منصوبوں میں سرمایہ کار ادارے اب فنڈز کے استعمال پر مزید سخت نگرانی اور آڈٹ کے طریقہ کار اختیار کر سکتے ہیں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے تنازعات سے بچا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button