پاکستاناہم خبریں

سرحد پار مبینہ ڈرون سرگرمی ناکام، پاکستان نے دفاعی تیاری کا بھرپور مظاہرہ کیا

پاکستانی فضائی دفاع نے بلوچستان میں سرحد پار سے آنے والے چار ڈرون تباہ کر دیے، سیکیورٹی فورسز کا بروقت اور مؤثر ردعمل

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان کے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 30 جون کو بلوچستان کے سرحدی علاقے میں سرحد پار سے آنے والے چار ڈرونز کو پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے بروقت نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز پاکستان کی فضائی حدود اور قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ تھے، تاہم سیکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی کے باعث کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

سرکاری مؤقف کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان مسلسل سرحد پار دہشت گردی، غیر قانونی نقل و حرکت اور سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتا آ رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی افواج ہر قسم کی سرحدی دراندازی اور فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔


چار ڈرونز بروقت شناخت کے بعد تباہ کر دیے گئے

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 30 جون کو بلوچستان کے سرحدی علاقے میں ابتدائی نوعیت کے چار ڈرونز کی نقل و حرکت پاکستانی فضائی نگرانی کے نظام نے فوری طور پر شناخت کر لی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے خطرے کا فوری تجزیہ کرتے ہوئے جدید دفاعی نظام اور الیکٹرانک جوابی اقدامات استعمال کیے، جس کے نتیجے میں چاروں ڈرونز کو اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔

حکام کے مطابق اس بروقت کارروائی کے باعث کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا اور ممکنہ خطرے کو آغاز ہی میں ختم کر دیا گیا۔


اعلیٰ آپریشنل تیاری کا مظاہرہ

دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام کی مسلسل نگرانی، تکنیکی صلاحیت اور فوری ردعمل کی صلاحیت کا مظہر ہے۔

بیان کے مطابق:

  • فضائی نگرانی کے نظام نے فوری خطرے کی نشاندہی کی۔
  • سیکیورٹی فورسز نے جدید انسداد ڈرون اقدامات بروئے کار لائے۔
  • تمام ڈرونز کو کامیابی سے بے اثر کر دیا گیا۔
  • کسی فوجی یا شہری تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی دفاعی فورسز ہر وقت مکمل الرٹ رہتی ہیں اور قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کا فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔


افغان طالبان حکومت کی سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی

سرکاری بیان میں افغان طالبان کی حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ سرحد پار سے آنے والے ان ڈرونز کا تعلق ان عناصر سے ہے جو افغانستان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن، استحکام اور باہمی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق افغانستان کی عبوری حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ایسے گروہ کے استعمال کے لیے نہ چھوڑے جو ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائیاں کرتا ہو۔


پرامن بقائے باہمی پر زور

پاکستانی حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات باہمی احترام، خودمختاری اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر استوار ہونے چاہییں۔

بیان میں کہا گیا کہ کشیدگی بڑھانے کے بجائے افغانستان کی عبوری حکومت کو دہشت گردی کی روک تھام، سرحدی سلامتی اور علاقائی تعاون کے لیے مثبت اقدامات کرنے چاہییں۔

حکام کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریق بین الاقوامی ذمہ داریوں اور پڑوسی ممالک کی خودمختاری کا احترام کریں۔


پاکستان کی سخت وارننگ

سرکاری بیان میں واضح کیا گیا کہ اگر پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی سرحد پار اشتعال انگیزی یا جارحانہ کارروائی جاری رہی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ:

  • پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
  • سرحد پار کسی بھی مہم جوئی کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
  • قومی سلامتی کے خلاف ہر اقدام کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کا مقصد صرف اپنے عوام، سرحدوں اور قومی مفادات کا تحفظ ہے۔


مسلح افواج ہر وقت تیار

بیان میں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ افواجِ پاکستان ملک کے ایک ایک انچ کے دفاع کے لیے مکمل طور پر چوکس، منظم اور ہر وقت تیار ہیں۔

حکام کے مطابق جدید دفاعی نظام، مربوط نگرانی اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث پاکستان ہر قسم کے فضائی، زمینی یا سرحد پار خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔


علاقائی سلامتی کے تناظر میں بڑھتے خدشات

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصے سے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، جبکہ افغانستان کی عبوری حکومت مختلف مواقع پر ایسے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مؤثر سفارتی رابطہ، انٹیلی جنس تعاون اور سرحدی سلامتی کے انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو اور دہشت گردی جیسے مشترکہ خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button