
سید ارمغان ظفر-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے رواں مالی سال اپنی 138 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ مالِ تجارت ہینڈل کیا، سرکاری میڈیا نے اتوار کو بتایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ-ایران جنگ سے کئی بحری جہازوں نے اپنا رخ پاکستان کی طرف موڑ لیا۔
اس حوالے سے پاکستان میں بندرگاہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ور کئی جہازوں نے خلیجی ترسیل کے مراکز سے اپنا رخ کے پی ٹی، پورٹ قاسم اور گوادر کی بندرگاہوں کی طرف موڑ لیا۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) نے وزیرِ بحری امور جنید انور چوہدری کے حوالے سے بتایا کہ کے پی ٹی نے رواں مالی سال 54.685 ملین میٹرک ٹن سے زیادہ کارگو ہینڈل کیا اور 2017-18 میں بننے والا اپنا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
پی آئی ڈی نے کہا کہ وزیر نے مؤثر انتظام، بہتر آپریشنل کارکردگی اور بندرگاہ کی صلاحیت میں اضافے کو اس کامیابی کی وجہ قرار دیا۔
پی آئی ڈی کے مطابق چوہدری نے کہا، حکومت بندرگاہوں کو جدید بنانے، ان کی صلاحیت بڑھانے، لاجسٹک انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
کراچی پورٹ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے اور یہ ملک کی سمندری تجارت کا کافی حصہ سنبھالتی ہے۔ کنٹینر کے حجم کو تجارتی سرگرمیوں اور بندرگاہ کی کارکردگی کے اشارے کے طور پر قریب سے دیکھا جاتا ہے جبکہ حکومت انفراسٹرکچر اپ گریڈ میں سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ پاکستان کو ایک علاقائی لاجسٹکس اور جہاز در جہاز ترسیل کے مرکز کا مقام حاصل ہو۔
کے پی ٹی نے کہا کہ اس نے رواں مالی سال میں 2.651 ملین بیس فٹ مساوی یونٹس (ٹی یا یوز) سے زیادہ کو سنبھال کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ تازہ ترین سنگِ میل اس بیان کے ایک ہفتے بعد حاصل ہوا ہے۔



