
عرس داتا گنج بخشؒ اور عید میلادالنبیؐ فنڈز میں مالی بے ضابطگیاں ثابت،فنڈز میں خرد برد، قواعد کی خلاف ورزی اور غیرقانونی ادائیگیوں پر محکمانہ کارروائی مکمل
محکمہ اوقاف پنجاب کی بڑی کارروائی؛ تین سابق افسران کو سزائیں، لاکھوں روپے ریکوری کا حکم,اینٹی کرپشن کو بھی ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ
انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
محکمہ اوقاف پنجاب نے عرس حضرت داتا گنج بخشؒ 2025ء اور عید میلاد النبیؐ 2024ء کے فنڈز میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات پر جاری محکمانہ تحقیقات مکمل کرتے ہوئے تین سابق افسران کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کی منظوری سے جاری ہونے والے احکامات کے تحت ایک افسر کو ملازمت سے برطرف جبکہ دو دیگر افسران کو تنزلی کی سزا دینے کے ساتھ لاکھوں روپے کی ریکوری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
محکمہ اوقاف کے مطابق انکوائری میں فنڈز کے استعمال، ٹینڈرنگ، ادائیگیوں، مالی ریکارڈ اور دیگر انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد مختلف مالی اور انتظامی بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر محکمانہ سزائیں سنائی گئیں۔
سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر مذہبی امور برطرف، 64 لاکھ روپے سے زائد ریکوری کا حکم
محکمہ اوقاف کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر مذہبی امور حافظ جاوید شوکت کے خلاف متعدد سنگین الزامات ثابت ہوئے، جن میں:
- فنڈز میں مبینہ خرد برد،
- سرکاری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی،
- غیرقانونی ادائیگیاں،
- ٹیکس کی لازمی کٹوتی نہ کرنا،
- کتاب "کشف المحجوب” کی طباعت کے لیے غیرقانونی طور پر ایڈوانس ادائیگی،
- آئی فون کی مبینہ مشکوک خریداری،
- اور دیگر مالی بے ضابطگیاں شامل ہیں۔
ان الزامات کی بنیاد پر حافظ جاوید شوکت کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے، جبکہ ان سے 64 لاکھ 22 ہزار 116 روپے کی ریکوری کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار کو پانچ سال کے لیے تنزلی
محکمانہ انکوائری میں سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کے خلاف بھی متعدد مالی بے ضابطگیاں ثابت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق ان پر:
- مالی قواعد کی خلاف ورزی،
- ٹینڈر قوانین پر عمل نہ کرنا،
- اوپن چیکس کے ذریعے ادائیگیاں،
- ریکارڈ میں خامیاں،
- اور دیگر انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات ثابت ہوئے۔
محکمہ اوقاف نے انہیں پانچ سال کے لیے نچلے عہدے پر تنزلی کی سزا سنائی ہے، جبکہ 28 لاکھ 7 ہزار 386 روپے کی ریکوری کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔
سابق منیجر داتا دربار کو بھی سزا اور ریکوری کے احکامات
اسی انکوائری کے نتیجے میں سابق منیجر داتا دربار طاہر مقصود کے خلاف بھی مالی بے ضابطگیوں اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات ثابت ہونے پر کارروائی کی گئی ہے۔
انہیں:
- تین سال کے لیے نچلے عہدے پر تنزلی کی سزا دی گئی ہے،
- جبکہ 18 لاکھ 71 ہزار 591 روپے کی ریکوری کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔
ریکوری قانونی طریقہ کار کے تحت وصول کی جائے گی
محکمہ اوقاف نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ تمام واجب الادا رقوم متعلقہ افسران کے واجبات سے وصول کی جائیں، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو قانون کے مطابق دیگر ذرائع سے ریکوری عمل میں لائی جائے۔
حکام کے مطابق سرکاری خزانے کو پہنچنے والے کسی بھی مالی نقصان کا ازالہ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
اوپن چیکس اور مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ اینٹی کرپشن کو بھیجنے کا فیصلہ
محکمہ اوقاف نے محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ بعض معاملات کو مزید فوجداری تحقیقات کے لیے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) کے سپرد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق:
- اوپن چیکس کے ذریعے کی گئی ادائیگیوں،
- اور دیگر مالی بے ضابطگیوں
کے حوالے سے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو الگ ریفرنس بھیجا جائے گا تاکہ اگر کسی فوجداری نوعیت کے جرم کے شواہد سامنے آئیں تو قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جا سکے۔
سابق خطیب داتا دربار کے خلاف الگ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری
محکمہ اوقاف نے سابق خطیب داتا دربار مفتی رمضان سیالوی کے خلاف مبینہ 26 لاکھ روپے کی وصولی کے معاملے پر بھی الگ سے آزادانہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس انکوائری کا مقصد دستیاب شواہد، مالی ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لے کر حقائق کا تعین کرنا ہوگا، جس کے بعد آئندہ قانونی یا محکمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اعلیٰ حکام کے کردار کی بھی تحقیقات ہوں گی
محکمہ اوقاف کے اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وقت کے:
- سابق سیکرٹری اوقاف،
- اور سابق ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور
کے کردار کا تعین کرنے کے لیے بھی الگ محکمانہ انکوائری شروع کی جائے گی۔
حکام کے مطابق تحقیقات میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا اعلیٰ انتظامیہ نے مالی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کیں یا نہیں، اور اگر کسی قسم کی غفلت یا ذمہ داری ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ اوقاف کا مؤقف
محکمہ اوقاف پنجاب کا کہنا ہے کہ سرکاری فنڈز میں شفافیت، مالی نظم و ضبط اور احتساب کو یقینی بنانا ادارے کی اولین ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے تحت محکمانہ انکوائری مکمل کی گئی اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
حکام کے مطابق مالی بے ضابطگیوں کے معاملات میں "زیرو ٹالرنس” کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اور کسی بھی سرکاری ملازم کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
شفافیت اور احتساب کے حوالے سے اہم پیش رفت
سرکاری امور کے ماہرین کے مطابق مذہبی تقریبات، عرس اور قومی سطح کی مذہبی تقریبات کے لیے مختص سرکاری فنڈز عوامی امانت ہوتے ہیں، اس لیے ان کے استعمال میں شفافیت اور احتساب انتہائی اہم ہے۔
ان کے مطابق محکمانہ کارروائی کے ساتھ اگر فوجداری نوعیت کے معاملات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات بھی مکمل کی جائیں تو اس سے سرکاری اداروں میں مالی نظم و ضبط اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اہم نکات
- عرس حضرت داتا گنج بخشؒ 2025ء اور عید میلادالنبیؐ 2024ء کے فنڈز میں مالی بے ضابطگیوں پر محکمانہ کارروائی مکمل۔
- سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر مذہبی امور حافظ جاوید شوکت ملازمت سے برطرف، 64 لاکھ 22 ہزار 116 روپے کی ریکوری کا حکم۔
- سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو پانچ سال کے لیے تنزلی اور 28 لاکھ 7 ہزار 386 روپے کی ریکوری۔
- سابق منیجر داتا دربار طاہر مقصود کو تین سال کے لیے تنزلی اور 18 لاکھ 71 ہزار 591 روپے کی ریکوری۔
- اوپن چیکس اور دیگر مالی بے ضابطگیوں کے معاملے پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) کو ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ۔
- سابق خطیب داتا دربار مفتی رمضان سیالوی کے خلاف مبینہ 26 لاکھ روپے کے معاملے پر الگ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا حکم۔
- سابق سیکرٹری اوقاف اور سابق ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور کے کردار کے تعین کے لیے بھی علیحدہ تحقیقات شروع کی جائیں گی۔



