مشرق وسطیٰتازہ ترین

اسرائیلی بربریت پر خاموشی، ایران کے معاملے پر بھارت کی مفاد پرستانہ خارجہ پالیسی عیاں

آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران پر مالی پابندیوں میں نرمی پہلے ہی ایران امریکہ 14 نکاتی معاہدے میں شامل ہے

وائس آف جرمنی اردو نیوز ،نیوز ڈیسک
نئی دہلی: اسرائیلی بربریت پر خاموشی اور جنگ بندی کے بعد ایران کے معاملے پر مفاد پرستی کے باعث بھارت کی منافقانہ خارجہ پالیسی عیاں ہو گئی ہے۔ اسرائیل کے ایران پر حملے سے دو روز قبل مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا اور جنگ کے دوران ایران کے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی۔
ایران پر حملوں کے دوران بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا اور آج توانائی و تجارتی مفادات کے تحت دوبارہ ایران سے قربت اختیار کر رہا ہے۔ بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں مودی نے تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔
اے این آئی کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران پر مالی پابندیوں میں نرمی پہلے ہی ایران امریکہ 14 نکاتی معاہدے میں شامل ہے۔ مودی نے آبنائے ہرمز میں بحری راستوں اور تجارتی آزادی کا تحفظ عالمی و بھارتی مفاد قرار دیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بھارت کا آبنائے ہرمز میں آزادیٔ جہاز رانی پر زور ایران کی حمایت نہیں بلکہ بھارتی تجارت، تیل کی رسد اور معاشی مفادات کا تحفظ ہے۔ بھارت امریکی دباؤ پر ایرانی تیل کی خریداری ترک کر چکا تھا، جس سے واضح ہے کہ امریکی مفادات کے سامنے ایران کے ساتھ اس کے تعلقات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ بھارت نے ایران پر اسرائیلی حملے کی واضح مذمت نہیں کی اور ایران کی خودمختاری کے دفاع میں بھی مکمل خاموشی اختیار کی۔ جنگ سے قبل بھارت کی اسرائیل کے ساتھ شراکت داری، دورانِ جنگ مکمل خاموشی اور جنگ کے بعد ایران سے تیل کی خاطر دوستی، منافقت اور موقع پرستی کی علامت ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button