سائنس و ٹیکنالوجیتازہ ترین

اس طرح موبائل فون آپ کی شکل بدل دیتا ہے اور جسم پر اثر انداز ہوتا ہے:سائنسی انتباہ

اس سے بھی تشویشناک بات یہ ہے کہ ان جسمانی مسائل میں سے کچھ آگے چل کر ذہنی کارکردگی میں کمی یا زیادہ سنگین صحت کے مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔

وائس آف جرمنی اردو نیوز، نیوز ڈیسک

جیسے جیسے ہم روزمرہ زندگی میں الیکٹرانک آلات اور موبائل فونز پر زیادہ انحصار کرتے جا رہے ہیں، مختلف مطالعات کے مطابق انسانی جسم اور اس کی ساخت میں کچھ تبدیلیاں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ بینائی، ہاتھوں اور دیگر اعضا پر بھی اس کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔

حالیہ سائنسی تحقیقات کے مطابق موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز گردن کی ساخت کو متاثر کر سکتی ہیں، بینائی کو کمزور کر سکتی ہیں، موٹر اسکلز (حرکی صلاحیتوں) پر اثر ڈال سکتی ہیں اور پٹھوں کی طاقت میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔

اس سے بھی تشویشناک بات یہ ہے کہ ان جسمانی مسائل میں سے کچھ آگے چل کر ذہنی کارکردگی میں کمی یا زیادہ سنگین صحت کے مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی گردن

ہم میں سے اکثر نے دیکھا ہوگا کہ جب ہم موبائل پر کوئی متن پڑھتے ہیں تو ہم غیر ارادی طور پر سر جھکا لیتے ہیں۔ اس کیفیت کو ”فارورڈ ہیڈ پوسچر” کہا جاتا ہے، جس میں گردن پر 27 کلوگرام تک کا دباؤ پڑ سکتا ہے۔وقت کے ساتھ یہ عادت ریڑھ کی ہڈی کے ڈسکس کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جوڑوں اور پٹھوں کو کمزور کر سکتی ہے اور حتیٰ کہ سانس لینے کی گنجائش میں بھی کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی کیفیت کو عام طور پر ٹیکنالوجی گردن کہا جاتا ہے۔یہ حالت جسم کی ساخت کو مستقل طور پر بھی متاثر کر سکتی ہے، جیسا کہ کئی ماہرین نے بی بی سی کو بتایا۔

اس کا حل کچھ مخصوص ورزشیں ہیں جو ڈاکٹر کے مشورے سے اس مسئلے کو بہتر بنا سکتی ہیں، لیکن ایک آسان قدم یہ ہے کہ موبائل کو آنکھوں کی سطح کے برابر رکھا جائے اور اسکرین کو چہرے سے بازو کے فاصلے پر رکھا جائے۔

یہی اصول کمپیوٹر اسکرین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر آدھے گھنٹے بعد چند منٹ کا وقفہ لینا بھی فائدہ مند ہے۔

گردن کی جھریاں

اس کے علاوہ ”ٹیکنالوجی گردن” گردن کی جھریوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ برطانیہ کی رائل کالج آف فزیشنز کی فیلو اور جلدی امراض کی ماہر جیسٹن ہیکسل نے وضاحت کی ہے کہ نظری طور پر یہ بات منطقی لگتی ہے، کیونکہ بار بار دباؤ اور مسلسل ایک ہی انداز میں گردن کو موڑنا جھریوں کے بننے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی تک اس بات کے حق میں مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں جو اس تعلق کو یقینی طور پر ثابت کریں۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ آن لائن فروخت ہونے والی وہ مصنوعات جو خاص طور پر ”ٹیکنالوجی گردن” کے لیے تیار کی گئی ہیں، ان پر اندھا اعتماد نہ کیا جائے اور غیر ضروری طور پر انہیں خریدنے سے گریز کیا جائے۔

بینائی کی کمزوری

جہاں تک بینائی کے متاثر ہونے کا تعلق ہے، اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی (امریکہ) کے پروفیسر برائے بصریات ڈونلڈ موٹی نے وضاحت کی ہے کہ 20 سال سے زائد عرصے پر مشتمل ایک طویل تحقیق، جس میں بچوں کی آنکھوں کی نشوونما اور قصرِ بصارت (نزدیک بینی) کے خطرات کا جائزہ لیا گیا، اس میں یہ بات سامنے نہیں آئی کہ الیکٹرانک آلات کا آنکھوں پر کوئی مضبوط یا براہِ راست اثر ہوتا ہے۔

تاہم اس تحقیق میں ایک اہم عنصر کی نشاندہی کی گئی ہے: وہ وقت جو انسان کھلی فضا میں گزارتا ہے، آنکھوں کے لیے حفاظتی کردار ادا کرتا ہے۔

موٹی کے مطابق باہر کی تیز روشنی ریٹینا سے ڈوپامین کے اخراج کو متحرک کرتی ہے، اور یہ عمل آنکھ کی نشوونما اور اس کی ساختی ترقی پر اثر انداز ہوتا ہے۔چونکہ ٹیکنالوجی نے طرزِ زندگی بدل دیا ہے اور لوگ زیادہ وقت گھروں یا دفاتر میں گزارتے ہیں، اس لیے بالواسطہ طور پر یہ رجحان آنکھوں کی صحت پر اثر ڈال سکتا ہے۔

ہاتھوں کی کمزوری

اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی ممالک میں، خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان، ہاتھوں کی گرفت (grip strength) میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

جرمنی کی میڈیکل یونیورسٹی بلوزاتس کے طبی سماجیات کے پروفیسر جوہانس بیلر کے مطابق یہ کمی صرف ہاتھوں کی کمزوری نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی مجموعی صحت کے لیے ایک ابتدائی انتباہ بھی ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دفتری کاموں میں اضافہ، طویل وقت تک کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنا اور جسمانی سرگرمی میں کمی نے عمومی فٹنس کو متاثر کیا ہے، جس کا اثر ہاتھوں کی گرفت کی طاقت پر بھی پڑ رہا ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ روزانہ ورزش کو معمول بنایا جائے، چاہے جم میں ہو یا کھلی فضا میں جسمانی سرگرمی کی صورت میں۔

آنکھ اور ہاتھ کا رابطہ

ٹیکنالوجی کے صحت پر اثرات میں ایک پہلو موٹر اسکلز یعنی حرکت سے متعلق صلاحیتوں میں تبدیلی بھی ہے، جو دماغ اور جسم کے درمیان باریک حرکات کو مربوط کرتی ہیں۔

اس حوالے سے جرمنی کی ریگنسبورگ یونیورسٹی کے ترقیاتی نفسیات اور تعلیم کے پروفیسر سیباسٹین سوگات کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی آپ کو اسکرین پر ٹیپ کرنے اور اسکرول کرنے جیسی مہارتوں میں بہتر بنا سکتی ہے، لیکن یہ وسیع سطح پر باریک حرکی صلاحیتوں کی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ان کی تحقیق میں اس بات کا تعلق سامنے آیا ہے کہ اسکرین کے زیادہ استعمال اور موٹر اسکلز کی کمزوری کے درمیان ایک ربط موجود ہو سکتا ہے۔

تاہم سوگات اس بات کے حق میں نہیں کہ اسکرینز کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے، بلکہ وہ روزمرہ زندگی میں ہاتھ سے کیے جانے والے کاموں کو شامل کرنے پر زور دیتے ہیں۔مثلاً کھانا بنانا، دستکاری، فنون، موسیقی کے آلات بجانا، یا دوبارہ ہاتھ سے لکھنے کی عادت اپنانا مفید ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق یہ اثرات مکمل طور پر تباہ کن نہیں بلکہ باریک نوعیت کے ہیں، لیکن اگر یہ اثرات نسلوں تک جمع ہوتے رہیں تو اس سے معاشرے کی مجموعی ذہنی اور عملی صلاحیتوں میں کمی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ ہاتھ انسان اور اس کے ماحول کے درمیان بنیادی رابطے کا ذریعہ ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button