انٹرٹینمینٹتازہ ترین

پاکستان میں پرندوں کو شدید گرمی سے بچانے کی کوشش

رواں موسم گرما میں اسلام آباد میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔

اے ایف پی کے ساتھ

پاکستان میں شدید گرمی انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اور پرندوں کے لیے بھی مشکلات کا سبب ہے۔ تاہم بعض شہری ان کی حفاظت اور دیکھ بھال کی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، نے 1960 کے بعد 2025 میں اپنا دوسرا گرم ترین سال ریکارڈ کیا۔

رواں موسم گرما میں اسلام آباد میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے ڈائریکٹر سخاوت علی، جو اسلام آباد کے مارگلہ وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر کی نگرانی کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ ماضی میں پتنگ بازی کے باعث پرندوں کے پر دھاگوں سے زخمی ہو جاتے تھے۔

انہوں نے کہا، ”لیکن گزشتہ ایک یا دو سال سے ہمیں زیادہ تر ایسے پرندوں کے کیسز موصول ہو رہے ہیں جو پانی کی کمی اور شدید گرمی کے دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘

یہ تصویر 7 جولائی 2026 کو اسلام آباد کے مارگلہ وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر میں لی گئی، جس میں جنگلی حیات کے اہلکار ظہیر احمد پرندوں کے لیے پانی کی کمی دور کرنے والا مشروب تیار کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں
رواں موسم گرما میں اسلام آباد میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔تصویر: Farooq Naeem/AFP

مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع یہ وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر ماضی میں بدنامِ زمانہ اسلام آباد چڑیا گھر کا حصہ تھا، جہاں نظر انداز کیے گئے ہاتھی اور کمزور شیر پنجروں میں رکھے جاتے تھے۔ یہ چڑیا گھر 2020 میں بند کر دیا گیا تھا۔

اس جگہ پر جہاں آج بھی بڑے ڈائناسور کے مجسمے موجود ہیں، پاکستان بھر سے زخمی اور متاثرہ جنگلی جانوروں کو بحالی کے لیے لایا جاتا ہے، جن میں نجی مالکان کے ہاتھوں بے رحمی کا شکار ہونے والے ریچھ اور بندر بھی شامل ہیں۔

سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہیٹ ویو جیسے شدید موسمی واقعات متعدد مرتبہ اور زیادہ شدت سے رونما ہو رہے ہیں۔

ظہیر احمد کے مطابق موسم گرما میں ریسکیو سینٹر کو روزانہ 30 فون کالز تک موصول ہوتی ہیں جن میں پرندوں اور دیگر وائلڈ لائف کے متاثر ہونے کی اطلاعات دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیحات متاثرہ جانوروں کو طبی امداد، خوراک اور پانی فراہم کرنا ہیں۔

یہ تصویر 10 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں لی گئی، جس میں ایک کبوتر پانی کے پیالے سے پانی پیتا ہوا دکھائی دے رہا ہے
ماہرین نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں کے باہر پانی کے برتن رکھیں تاکہ پرندے پانی پی سکیں، نہا سکیں اور گرمی سے بچ سکیںتصویر: Farooq Naeem/AFP

متاثرہ پرندوں کو کئی ہفتوں تک قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ دوبارہ آزاد ماحول میں چھوڑے جانے کے قابل ہو جائیں۔

احمد نے بتایا کہ جنگلات میں لگنے والی آگ بھی پرندوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، کیونکہ یہ اکثر ان کے افزائش نسل کے موسم کے دوران پھیلتی ہے۔

انہوں نے کہا، ”پرندوں کے گھونسلے بھی جل جاتے ہیں، خود پرندے بھی جزوی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ اس طرح ان کا پورا مسکن تباہ ہو رہا ہے۔‘‘

سخاوت علی نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں کے باہر پانی کے برتن رکھیں تاکہ پرندے پانی پی سکیں، نہا سکیں اور گرمی سے بچ سکیں۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ، جو ایک سرکاری ادارہ ہے، اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا موسمیاتی تبدیلی پرندوں کے افزائش نسل کے اوقات اور خوراک کے ذرائع کو متاثر کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ان کی آبادی میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button