اہم خبریںپاکستان

سیاسی قیادت نے مولانا فضل الرحمن کے بیان کو شہداء کی قربانیوں کی توہین قرار دے دیا، قومی اتحاد اور افواجِ پاکستان کے احترام پر زور

سیاسی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور شہداء کی قربانیاں پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ ہیں، جن کا احترام ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت پر لازم ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے پاک فوج اور شہداء سے متعلق حالیہ بیان پر حکومتی اتحاد، مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں، وفاقی وزراء، اراکینِ پارلیمنٹ اور دیگر سیاسی شخصیات کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف رہنماؤں نے اس بیان کو شہداء کی قربانیوں کی توہین، قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے والا اور افواجِ پاکستان کے خلاف غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیوں کو کسی بھی سیاسی اختلاف کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔

سیاسی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور شہداء کی قربانیاں پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ ہیں، جن کا احترام ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت پر لازم ہے۔

خواجہ آصف: شہداء کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا اخلاقی بے حسی ہے

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کی دل آزاری کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ وطن کی خاطر جان قربان کرنے والے سپاہیوں کو صرف ملازمت یا تنخواہ کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں، کیونکہ ایک فوجی کی قربانی کے پیچھے وطن سے محبت، فرض شناسی، نظریہ اور قومی ذمہ داری کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق:

"شہداء کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔”

حنیف عباسی: پوری قوم کی دل آزاری ہوئی

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے بیان سے نہ صرف شہداء کے خاندانوں بلکہ پوری قوم کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی اور ملکی دفاع جیسے حساس معاملات پر تمام سیاسی قیادت کو ذمہ داری، احتیاط اور قومی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری: فوج قوم کے وقار اور سلامتی کی علامت ہے

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی فوج محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ملک کی سلامتی، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ:

"شہداء کے لہو سے لکھی گئی تاریخ کسی سیاسی بیان، طنز یا تمسخر سے نہ مٹ سکتی ہے اور نہ ہی ان عظیم قربانیوں کی قدر کم کی جا سکتی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ وطن کے محافظوں کی عزت اور شہداء کے مقدس خون کا احترام پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

رانا ثناء اللہ: شہداء ہماری آزادی کی ضمانت ہیں

سینیٹر رانا ثناء اللہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ اللہ تعالیٰ شہداء کے ورثاء اور غازیوں کو صبرِ جمیل اور استقامت عطا فرمائے کیونکہ انہی قربانیوں کی بدولت پاکستان آزاد، محفوظ اور مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم اپنے شہداء کو ہمیشہ عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی رہے گی۔

عبدالعلیم خان: قومی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی قابلِ مذمت

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاک فوج پاکستان کے دفاع، سلامتی اور استحکام کی ضامن ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کے خلاف ایسے بیانات جو دشمن کے بیانیے کو تقویت دیں، کسی صورت مناسب نہیں۔

انہوں نے مزید کہا:

"سیاست اپنی جگہ، مگر ملک و قوم کے محافظ اداروں کا احترام سب پر لازم ہے۔”

بیرسٹر دانیال چوہدری: شہداء کو سیاست سے بالاتر رکھا جائے

پارلیمانی سیکرٹری بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ افواجِ پاکستان کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیانات ناقابلِ قبول ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ شہداء کی عظیم قربانیوں کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جانا چاہیے کیونکہ وہ پوری قوم کے ہیرو ہیں۔

عظمیٰ بخاری: قربانیوں کو پیسوں میں نہیں تولا جا سکتا

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاک فوج کے جوان روزانہ ملکی دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان عظیم قربانیوں کو مالی معاوضے یا تنخواہ کے تناظر میں دیکھنا انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔

عابد شیر علی: قوم شہداء کے ساتھ کھڑی ہے

مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر عابد شیر علی نے مولانا فضل الرحمن کے بیان کو افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور قومی اتحاد کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم اپنے شہداء، غازیوں اور افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔

ان کے مطابق ایسے بیانات تاریخ میں کبھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھے جائیں گے۔

فیاض الحسن چوہان: ہر محب وطن پاکستانی دکھی ہے

سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اس بیان سے ہر محب وطن پاکستانی کو دکھ پہنچا ہے جبکہ شہداء کے اہلِ خانہ کے جذبات بھی مجروح ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر بات کی جانی چاہیے۔

گورنر سندھ نہال ہاشمی کی اپیل

گورنر سندھ سید نہال ہاشمی نے کہا کہ شہداء کے حوالے سے دیا گیا بیان افسوسناک ہے اور امید ظاہر کی کہ مولانا فضل الرحمن اپنے الفاظ پر نظرثانی کریں گے۔

انہوں نے کہا:

"شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے۔”

سارہ احمد: شہداء کا احترام ہمیشہ مقدم رہنا چاہیے

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کی چیئرپرسن سارہ احمد نے کہا کہ ایسے بیانات جو شہداء کے وقار کو مجروح کریں یا ان کے اہلِ خانہ کے لیے باعثِ دکھ بنیں، انتہائی افسوسناک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے جان قربان کرنے والوں کا احترام ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہونا چاہیے۔

قومی سطح پر ردعمل

مولانا فضل الرحمن کے بیان پر سامنے آنے والے ردعمل سے واضح ہے کہ حکومتی اتحاد اور متعدد سیاسی رہنماؤں نے افواجِ پاکستان اور شہداء کے احترام کو قومی اتفاقِ رائے کا حصہ قرار دیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ملکی سلامتی، قومی اداروں اور شہداء کی قربانیوں کے حوالے سے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

دوسری جانب، اس معاملے پر مولانا فضل الرحمن یا جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے اگر کوئی وضاحتی یا تفصیلی مؤقف سامنے آتا ہے تو اس سے خبر کے تناظر کو مزید واضح کیا جا سکتا ہے۔ صحافتی توازن کے تقاضوں کے مطابق کسی بھی تنازع سے متعلق تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف شامل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button