صحتتازہ ترین

’فار ایور کیمیکلز‘: صفائی پر لاگت سو بلین یورو، فرق رتی بھر

''ہمیشہ باقی رہنے والے کیمیائی مادوں سے آلودہ ماحولیاتی نظاموں کی مکمل بحالی کی منزل مالیاتی اور لاجسٹکس دونوں بنیادوں پر حاصل کی ہی نہیں جا سکتی۔‘‘

اے ایف پی کے ساتھ

یورپی ممالک میں ماحول کے لیے نقصان دہ ’فار ایور کیمیکلز‘ کی صفائی کے لیے لاگت کا سالانہ تخمینہ تقریباﹰ 100 بلین یورو لگایا جا رہا ہے، مگر اس کے باوجود ان کیمیائی مادوں کا صرف انتہائی معمولی حصہ ہی صاف کیا جا سکے گا۔

سائنسی اصطلاح میں ایسے مادوں کو پرفلوروالکائل یا پولی فلورو الکائل مادے کہا جاتا ہے، جن کے لیے ماہرین PFAS کا مخفف استعمال کرتے ہیں، اور یہی مادے ‘فار ایور کیمیکلز‘ (forever chemicals) کہلاتے ہیں۔

ایسے ماحول دشمن کیمیائی مادوں پر مستقل قابو پانے کی کوششوں کے حوالے سے ایک نئے سائنسی مطالعے کے نتائج پر مبنی ایک رپورٹ میں اب کہا گیا ہے کہ یورپ میں ایسے کیمیکلز کی صفائی کے لیے تقریباﹰ 100 بلین یورو (114 بلین ڈالر) کے جن سالانہ اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، ان ہوش ربا مالی وسائل کے باوجود ایسے نقصان دہ ‘ابدی‘ کیمیکلز کا صرف ایک انتہائی معمولی حصہ ہی صاف کیا جا سکے گا۔

ہمیشہ باقی رہنے والے کیمیائی مادوں سے متاثرہ اور ماحولیاتی آلودگی والے علاقوں کے مکینوں کے خون میں پائے جانے والے ایسے کیمیکلز کی موجودگی کی تصدیق کے لیے لیے گئے اور ایک لیبارٹری میں رکھے ہوئے خون کے نمونے
ہمیشہ باقی رہنے والے کیمیائی مادوں سے متاثرہ اور ماحولیاتی آلودگی والے علاقوں کے مکینوں کے خون میں پائے جانے والے ایسے کیمیکلز کی موجودگی کی تصدیق کے لیے لیے گئے اور ایک لیبارٹری میں رکھے ہوئے خون کے نمونےتصویر: picture alliance/dpa/Belga

‘رتی برابر‘ فرق زیادہ حقیقت پسندانہ توقع

نئے مطالعاتی جائزے کے نتائج کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی رقوم استعمال کر کے بھی ہمیشہ باقی رہنے والے کیمیائی مادوں کا یورپ میں خاتمہ صرف اتنی معمولی مقدار میں ہی ممکن ہو سکے گا کہ اس کے لیے ”عشر عشیر‘‘ یا ”رتی برابر‘‘ کے الفاظ استعمال کرنا زیادہ حقیقت پسندانہ بات ہو گی۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس نئی اسٹڈی کے نتائج ابھی حال ہی میں ماحولیاتی تحقیقی جریدے Environmental Science: Processes & Impacts کے تازہ ترین شمارے میں شائع ہوئے۔

اس موضوع پر ریسرچ رپورٹ کے مصنفین نے لکھا ہے کہ ‘فار ایور کیمیکلز‘ یا پی ایف اے ایس کو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے سے روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسے کیمیائی مادوں کو ماحول اور آب و ہو اکا حصہ بننے ہی نہ دیا جائے۔

اس تصویر میں شیشے کے ایک گلاس میں پانی: انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والے ’ابدی کیمیائی مادے‘ پینے کے پانی تک میں پائے جاتے ہیں
شیشے کے ایک گلاس میں پانی: انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والے ’ابدی کیمیائی مادے‘ پینے کے پانی تک میں پائے جاتے ہیںتصویر: ZDF

اس موضوع پر سائنسی تحقیق کو ‘فارایور پولیوشن پروجیکٹ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس ریسرچ کے دوران سائنسی تجزیہ کاروں نے یورپ بھر میں 12,000 سے زائد مشتبہ طور پر آلودہ مقامات سے حاصل کردہ نمونوں کا مطالعہ کیا۔

‘ناقابل حصول‘ ماحولیاتی منزل

اس تحقیقی مطالعے  کا نتیجہ یہ نکلا: ”ہمیشہ باقی رہنے والے کیمیائی مادوں سے آلودہ ماحولیاتی نظاموں کی مکمل بحالی کی منزل مالیاتی اور لاجسٹکس دونوں بنیادوں پر حاصل کی ہی نہیں جا سکتی۔‘‘

ساتھ ہی اس اسٹڈی کے نتائج میں کہا گیا، ”واحد مؤثر حکمت عملی یہ ہو سکتی  ہے کہ ایسے مادوں کی وجہ سے پھیلنے والی آلودگی کو اس کے بنیادی ذریعے ہی کی سطح پر روک دیا جائے۔ یعنی اگر ایسے کیمیکلز کا استعمال ہی ختم کر دیا جاتے، تو ان کی وجہ سے پھیلنے والی ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ اس حد تک تو کم ہو جائے گا کہ پھر اس میں مزید اضافہ نہیں ہوگا۔‘‘

’فار ایور کیمیکلز‘ کئی طرح سے انسانی صحت کو متاثر کرتے ہیں: بائیں سے دائیں، اشیائے خوراک کے ذریعے، ملبوسات کے باعث اور عام گھروں میں ریفریجریٹرز تک کی وجہ سے بھی
’فار ایور کیمیکلز‘ کئی طرح سے انسانی صحت کو متاثر کرتے ہیں: بائیں سے دائیں، اشیائے خوراک کے ذریعے، ملبوسات کے باعث اور عام گھروں میں ریفریجریٹرز تک کی وجہ سے بھیتصویر: BR

امریکہ کی ریاست منیسوٹا کی سینٹ ٹامس یونیورسٹی کی ماہر اور اس موضوع پر اسٹڈی کے مصنفہ ایلیسن لِنگ کے مطابق، ”ہم بہت تیزی سے بہت سے نئے پی ایف اے ایس مادوں کے وجود میں آنے کی وجہ بن رہے ہیں۔ ایسے مادے ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور وہ حرکت میں بھی رہتے ہیں۔‘‘

ایلیسن لِنگ کے بقول، ”صفائی کا عمل بامعنی اور مؤثر تو تب ہو گا، جب اس کی وجہ سے آلودگی اور صحت کو لاحق خطرات میں واضح طور پر کمی ہو۔ لیکن اتنی زیادہ رقوم استعمال کر کے بھی، جن کی پہلے کبھی کوئی مثال نہیں ملتی، ایسے کیمیکلز کی ماحول میں پہلے سے موجودگی میں کوئی واضح یا قابل ذکر کمی نہیں لائی جا سکے گی۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button