یورپتازہ ترین

فرانس: قومی دن کی تقریبات میں یوکرین پر توجہ مرکوز

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کو 'دوگنا‘ کیا جائے۔

ڈی پی اے، اے ایف پی کے ساتھ

فرانس میں آج منگل کو قومی دن کے موقع پر ہونے والی فوجی پریڈ کو یوکرین کے لیے مغربی ممالک کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کے اظہار کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی، جرمن چانسلر فریڈرش میرس اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سمیت اتحادی ممالک کے کئی رہنماؤن نے اس تقریب میں شرکت کی۔

ان رہنماؤں نے پیر کو پیرس میں صدر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کی، جس میں کییف کے لیے مزید فوجی امداد پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس کے دوران یوکرین اور نو دیگر ممالک نے اعلان کیا کہ وہ یورپ کے دفاع کے لیے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔

باستیل ڈے کے موقع پر روایتی طور پر ایک بڑی فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔ رواں سال کی تقریبات میں فرانس کی دفاعی تیاریوں میں اضافے اور یوکرین کے لیے حمایت جیسے موضوعات کو خصوصی اہمیت دی گئی۔

یہ پریڈ صدر ماکروں کی سربراہی میں ہونے والی دسویں اور آخری باستیل ڈے تقریب تھی۔ فرانس میں صدارتی انتخابات اگلے سال اپریل اور مئی میں دو مراحل میں ہوں گے، جبکہ ماکروں آئینی پابندی کے باعث دوبارہ امیدوار نہیں بن سکتے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لائن، لکسمبرگ کے وزیرِ اعظم لوک فریڈن اور جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے پیرس میں منعقد ہونے والی سالانہ باستیل ڈے فوجی پریڈ میں شرکت کی
ایمانوئل ماکروں نے یوکرین کی حمایت کرنے والے ممالک کے تقریباً 30 عالمی رہنماؤں کو باستیل ڈے فوجی پریڈ میں شرکت کی دعوت دیتصویر: Benoit Tessier/AFP

یوکرین کے اتحادیوں کا روس پر دباؤ بڑھانے کا عزم

یوکرین کے اتحادی ممالک کے اجلاس کے اختتام پر فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے کہا، ”ہم یوکرین کی حمایت مزید تیز رفتاری اور زیادہ مضبوط انداز میں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘

ماکروں نے اعلان کیا کہ یوکرین کو 16 رافیل جنگی طیارے فراہم کیے جائیں گے، اس کے علاوہ یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے کییف کو جدید ترین دفاعی نظام بھی مہیا کیے جائیں گے۔

حالیہ ہفتوں میں روس کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملوں میں اضافے کے باعث یوکرین کا فضائی دفاعی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کے پیش نظر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کو ‘دوگنا‘ کیا جائے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں اور فرانسیسی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فابیان ماندوں سالانہ باستیل ڈے فوجی پریڈ کے دوران کمانڈ گاڑی میں سوار ہو کر فوجی دستوں کا معائنہ کرتے ہوئے
یہ پریڈ صدر ماکروں کی سربراہی میں ہونے والی دسویں اور آخری باستیل ڈے تقریب ہےتصویر: Ludovic Marin/AFP

دوسری جانب ماسکو نے پیر کے روز اس اجلاس کو ایسے رہنماؤں کا اجتماع قرار دیا جو ”امن نہیں چاہتے‘‘۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا، ”یہ جنگ پسندوں کا اتحاد ہے۔‘‘

خیال رہے کہ فرانس کا قومی دن ہر سال 14 جولائی کو 1789 میں باستیل جیل پر عوامی حملے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ واقعہ فرانسیسی انقلاب کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا تھا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں فرانس میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور بادشاہ لوئی شانزدہم اور ملکہ میری اینٹونیٹ کے سر قلم کر دیے گئے تھے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button