
ڈی پی اے کے ساتھ
اس بارے میں یورپی پاور جنریشن سیکٹر کے تازہ ترین ڈیٹا کا تجزیہ کر کے یہ بات توانائی کے شعبے کے تھنک ٹینک ‘ایمبر‘ کی طرف سے بتائی گئی۔ ایمبر کی طرف سے شائع کردہ ڈیٹا کے مطابق جون 2026ء سے پہلے یورپی یونین میں شمسی توانائی سے اتنی زیادہ بجلی کبھی پیدا نہیں کی گئی تھی۔
سولر پاور نیوکلیئر پاور سے بھی آگے
جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق پوری یورپی یونین میں گزشتہ ماہ شمسی توانائی سے پیدا کی جانے والی بجلی یا سولر پاور کی پیداوار اتنی زیادہ رہی کہ اس نے رکن ممالک میں تمام جوہری بجلی گھروں کی پیدا کردہ بجلی کے حجم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

یونین میں بجلی کی مجموعی پیداوار میں سولر پاور کے 25 فیصد حصے کے بعد دوسرے نمبر پر جوہری توانائی سے پیدا کردہ بجلی تھی، جس کی شرح 21 فیصد رہی۔
ان دنوں کے بعد 15 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر قدرتی گیس سے پیدا کردہ بجلی رہی، جبکہ ہوا سے 14 فیصد، پانی سے 12 فیصد اور کوئلے سے آٹھ فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
سولر پاور تیسری مرتبہ بجلی کی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ
ستائیس ممالک پر مشتمل یورپی یونین میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے رجحان میں خاص طور پر گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ ماہ ایسا تیسری مرتبہ ہوا کہ یورپی یونین میں سولر انرجی سے سب سے زیادہ بجلی پیدا کی گئی۔ اس سے قبل جون 2025ء اور مئی 2026ء بھی اسی نوعیت کے ریکارڈ مہینے ثابت ہوئے تھے۔
اہم بات لیکن یہ ہے کہ گزشتہ ماہ یورپ میں سولر انرجی پاور جنریشن کا سب سے بڑا ذریعہ بھی رہی اور ساتھ ہی اس ذریعے سے اتنی زیادہ بجلی پیدا کی گئی، جتنی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔
اسکینڈے نیویا سے لے کر قبرص اور مالٹا تک پھیلی ہوئی یورپی یونین میں سولر پاور سیکٹر نے جس حیران کن رفتار سے ترقی کی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صرف پانچ برس قبل 2021ء میں یورپ میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی شرح محض 10 فیصد تھی، جو اب 25 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

جرمنی میں بھی سولر پاور جنریشن کا نیا ریکارڈ
جرمنی دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے اور یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے علاوہ یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھی ہے۔
جرمنی میں بھی شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا رجحان اب بہت زیادہ ہو چکا ہے۔ اس کا ثبوت اسی سال مئی اور جون میں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار کا قومی ڈیٹا ہے۔
مئی میں جرمنی نے اپنے ہاں بجلی کی پیداوار کا 33 فیصد شمسی توانائی سے حاصل کیا، لیکن جون میں یہی تناسب مزید بڑھ کر 36 فیصد ہو گیا۔ اس سے قبل جرمنی میں بجلی کی پیداوار میں سولر پاور کا حصہ اتنا زیادہ کبھی نہیں رہا تھا۔

اس ماحول دوست ذریعہ توانائی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یورپ میں شدید گرمی کی حالیہ لہروں کے دوران جب دیگر ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے نظام اپنی کارکردگی کی حدوں کو چھونے لگے تھے، تو شمسی توانائی بجلی کی بہت زیادہ ہو چکی طلب کو مسلسل پورا کرتے رہنے میں بہت معاون ثابت ہوئی۔



