تازہ ترینکاروبار

یورپی یونین میں بجلی کی پیداوار کا 25 فیصد حصہ سولر انرجی سے

15 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر قدرتی گیس سے پیدا کردہ بجلی رہی، جبکہ ہوا سے 14 فیصد، پانی سے 12 فیصد اور کوئلے سے آٹھ فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

ڈی پی اے کے ساتھ

پوری یورپی یونین میں گزشتہ ماہ بجلی کی مجموعی پیداوار کا نئی ریکارڈ حد تک زیادہ حصہ شمسی توانائی سے حاصل کیا گیا، جو تقریباﹰ 25 فیصد رہا۔ اس سال جون میں اس بلاک میں کسی بھی دوسرے ذریعے سے اتنی زیادہ بجلی پیدا نہ کی گئی۔

بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں 27 رکنی یورپی یونین کے صدر دفاتر سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ اس پورے بلاک میں بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع میں جون میں شمسی توانائی پہلے نمبر پر رہی۔

اس بارے میں یورپی پاور جنریشن سیکٹر کے تازہ ترین ڈیٹا کا تجزیہ کر کے یہ بات توانائی کے شعبے کے تھنک ٹینک ‘ایمبر‘ کی طرف سے بتائی گئی۔ ایمبر کی طرف سے شائع کردہ ڈیٹا کے مطابق جون 2026ء سے پہلے یورپی یونین میں شمسی توانائی سے اتنی زیادہ بجلی کبھی پیدا نہیں کی گئی تھی۔

سولر پاور نیوکلیئر پاور سے بھی آگے

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق پوری یورپی یونین میں گزشتہ ماہ شمسی توانائی سے پیدا کی جانے والی بجلی یا سولر پاور کی پیداوار اتنی زیادہ رہی کہ اس نے رکن ممالک میں تمام جوہری بجلی گھروں کی پیدا کردہ بجلی کے حجم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

اطالوی دارالحکومت روم کے فیومی چینو ایئر پورٹ پر لگے اس سولر پاور پلانٹ کے ایک حصے کی ایک تصویر، جو یورپ کے کسی بھی ہوائی اڈے کی حدود میں کام کرنے والا سب سے بڑا سولر پاور جنریشن پلانٹ ہے
اطالوی دارالحکومت روم کے فیومی چینو ایئر پورٹ پر لگے اس سولر پاور پلانٹ کے ایک حصے کی ایک تصویر، جو یورپ کے کسی بھی ہوائی اڈے کی حدود میں کام کرنے والا سب سے بڑا سولر پاور جنریشن پلانٹ ہےتصویر: Baris Seckin/Anadolu/picture alliance

یونین میں بجلی کی مجموعی پیداوار میں سولر پاور کے 25 فیصد حصے کے بعد دوسرے نمبر پر جوہری توانائی سے پیدا کردہ بجلی تھی، جس کی شرح 21 فیصد رہی۔

ان دنوں کے بعد 15 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر قدرتی گیس سے پیدا کردہ بجلی رہی، جبکہ ہوا سے 14 فیصد، پانی سے 12 فیصد اور کوئلے سے آٹھ فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

سولر پاور تیسری مرتبہ بجلی کی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ

ستائیس ممالک پر مشتمل یورپی یونین میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے رجحان میں خاص طور پر گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے۔

مشرقی فرانس میں فیسن ہائم کے جوہری بجلی گھر کی فضا سے لی گئی ایک تصویر
مشرقی فرانس میں فیسن ہائم کے جوہری بجلی گھر کی فضا سے لی گئی ایک تصویرتصویر: Sebastien Bozon/AFP

گزشتہ ماہ ایسا تیسری مرتبہ ہوا کہ یورپی یونین میں سولر انرجی سے سب سے زیادہ بجلی پیدا کی گئی۔ اس سے قبل جون 2025ء اور مئی 2026ء بھی اسی نوعیت کے ریکارڈ مہینے ثابت ہوئے تھے۔

اہم بات لیکن یہ ہے کہ گزشتہ ماہ یورپ میں سولر انرجی پاور جنریشن کا سب سے بڑا ذریعہ بھی رہی اور ساتھ ہی اس ذریعے سے اتنی زیادہ بجلی پیدا کی گئی، جتنی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔

اسکینڈے نیویا سے لے کر قبرص اور مالٹا تک پھیلی ہوئی یورپی یونین میں سولر پاور سیکٹر نے جس حیران کن رفتار سے ترقی کی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صرف پانچ برس قبل 2021ء میں یورپ میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی شرح محض 10 فیصد تھی، جو اب 25 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

جرمنی میں ماحول دوست ذرائع سے بجلی کی پیداوار: پیش منظر میں سولر پینلز اور پس منظر میں کئی بہت اونچی اونچی ونڈ ملز
جرمنی میں ماحول دوست ذرائع سے بجلی کی پیداوار: پیش منظر میں سولر پینلز اور پس منظر میں کئی بہت اونچی اونچی ونڈ ملزتصویر: Jana Rodenbusch/REUTERS

جرمنی میں بھی سولر پاور جنریشن کا نیا ریکارڈ

جرمنی دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے اور یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے علاوہ یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھی ہے۔

جرمنی میں بھی شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا رجحان اب بہت زیادہ ہو چکا ہے۔ اس کا ثبوت اسی سال مئی اور جون میں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار کا قومی ڈیٹا ہے۔

مئی میں جرمنی نے اپنے ہاں بجلی کی پیداوار کا 33 فیصد شمسی توانائی سے حاصل کیا، لیکن جون میں یہی تناسب مزید بڑھ کر 36 فیصد ہو گیا۔ اس سے قبل جرمنی میں بجلی کی پیداوار میں سولر پاور کا حصہ اتنا زیادہ کبھی نہیں رہا تھا۔

جرمن دارالحکومت برلن میں عام لوگوں کی طرف اسے اپنے گھروں کی بالکونیوں پر لگائے گئے سولر پینلز
جرمن دارالحکومت برلن میں عام لوگوں کی طرف اسے اپنے گھروں کی بالکونیوں پر لگائے گئے سولر پینلزتصویر: Sabine Gudath/IMAGO

اس ماحول دوست ذریعہ توانائی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یورپ میں شدید گرمی کی حالیہ لہروں کے دوران جب دیگر ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے نظام اپنی کارکردگی کی حدوں کو چھونے لگے تھے، تو شمسی توانائی بجلی کی بہت زیادہ ہو چکی طلب کو مسلسل پورا کرتے رہنے میں بہت معاون ثابت ہوئی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button