صحتتازہ ترین

کراچی میں بچوں میں ایچ آئی وی کے مبینہ کیسز پر تشویش، کلثوم بائی ولیکا اسپتال تحقیقات کی زد میں، ذمہ دار کون؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسپتال میں انفیکشن کنٹرول کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو اس کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔

 سید ارمغان ظفر-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

کراچی: کراچی کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں بچوں میں مبینہ طور پر ایچ آئی وی (HIV) کے پھیلاؤ کی اطلاعات نے شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق کراچی میں متاثرہ بچوں کی تعداد تقریباً 200 تک پہنچنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تاہم متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے اس تعداد کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ اس معاملے نے صحت کے نظام، اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول، خون کی منتقلی کے طریقہ کار اور طبی عملے کی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق متعدد بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص کے بعد والدین میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ایچ آئی وی کے ممکنہ پھیلاؤ پر تحقیقات کا مطالبہ

صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک ہی طبی ادارے سے متعدد بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آتے ہیں تو یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، جس کی فوری اور جامع تحقیقات ضروری ہیں۔

ان کے مطابق تحقیقات میں درج ذیل پہلوؤں کا جائزہ لیا جانا چاہیے:

  • کیا متاثرہ بچوں کو ایک ہی اسپتال میں علاج یا خون کی منتقلی کی گئی؟
  • کیا استعمال ہونے والی سرنجیں اور طبی آلات مکمل طور پر جراثیم سے پاک تھے؟
  • کیا خون کی اسکریننگ عالمی معیار کے مطابق کی گئی؟
  • کیا اسپتال میں انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر مکمل عمل کیا جا رہا تھا؟
  • کیا کسی قسم کی انتظامی یا طبی غفلت پیش آئی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک تمام حقائق سامنے نہیں آتے، کسی ایک فرد یا ادارے کو ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

ایچ آئی وی کیسے منتقل ہوتا ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق ایچ آئی وی عام میل جول، ہاتھ ملانے، کھانا کھانے، ساتھ بیٹھنے یا سانس لینے سے منتقل نہیں ہوتا۔

یہ وائرس عموماً درج ذیل طریقوں سے منتقل ہو سکتا ہے:

  • متاثرہ خون کی منتقلی
  • آلودہ سرنج یا سوئی کا استعمال
  • غیر محفوظ طبی آلات
  • متاثرہ ماں سے بچے کو حمل، پیدائش یا دودھ پلانے کے دوران
  • غیر محفوظ جنسی تعلق

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسپتال میں انفیکشن کنٹرول کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو اس کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔

والدین میں شدید تشویش

متاثرہ بچوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے علاج کے لیے اسپتال آئے تھے لیکن اب انہیں ایک ایسے مرض کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کا علاج طویل المدتی اور مہنگا ہے۔

متعدد والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ:

  • تمام متاثرہ بچوں کو مفت علاج فراہم کیا جائے۔
  • خاندانوں کو نفسیاتی اور مالی معاونت دی جائے۔
  • مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔
  • تحقیقات کی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے۔

صحت کے ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ماہرین صحت کے مطابق اگر کسی اسپتال میں ایک سے زیادہ مریضوں میں ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آئیں تو صرف انفرادی مریضوں کی جانچ کافی نہیں ہوتی بلکہ پورے نظام کا آڈٹ ضروری ہوتا ہے۔

ان کے مطابق درج ذیل اقدامات فوری کیے جانے چاہئیں:

  • اسپتال کے تمام طبی ریکارڈ کا جائزہ
  • خون کی منتقلی کے نظام کی جانچ
  • لیبارٹریوں کا معائنہ
  • طبی آلات کی جراثیم کشی کے طریقہ کار کا آڈٹ
  • طبی عملے کی تربیت کا جائزہ
  • متاثرہ مریضوں کے درمیان ممکنہ مشترکہ عوامل کی نشاندہی

سندھ حکومت اور محکمہ صحت پر سوالات

اس واقعے کے بعد سندھ کے محکمہ صحت کی نگرانی اور اسپتالوں میں حفاظتی اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کہیں بھی حفاظتی نظام میں خامیاں موجود ہیں تو انہیں فوری طور پر دور کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف ایک اسپتال ہی نہیں بلکہ صوبے بھر کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی ممکن ہے

طبی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ایچ آئی وی کی بروقت تشخیص اور اینٹی ریٹرو وائرل (ART) ادویات کے باقاعدہ استعمال سے مریض ایک طویل اور نسبتاً معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق متاثرہ بچوں کو:

  • فوری علاج،
  • باقاعدہ طبی نگرانی،
  • مناسب غذائیت،
  • نفسیاتی معاونت،
  • اور مسلسل طبی فالو اپ کی ضرورت ہوتی ہے۔

شفاف تحقیقات کی ضرورت

قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا طبی بدانتظامی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد یا اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انداز میں ہونی چاہئیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے اور عوام کا صحت کے نظام پر اعتماد بحال ہو۔

نتیجہ

کراچی میں بچوں میں ایچ آئی وی کے مبینہ کیسز نے صحت کے شعبے میں حفاظتی انتظامات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ مختلف ذرائع متاثرہ بچوں کی تعداد کے بارے میں مختلف دعوے کر رہے ہیں، تاہم حتمی حقائق صرف مکمل اور شفاف تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حساس معاملے میں قیاس آرائیوں کے بجائے سائنسی شواہد، طبی معائنے اور سرکاری تحقیقات کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہیے، جبکہ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو فوری طبی، مالی اور نفسیاتی معاونت فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button