
ڈی پی اے کے ساتھ
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ملک کی فوجی قیادت میں ’’اتحاد‘‘ پر زور دیا ہے۔ زیلنسکی نے یہ بیان جمعرات کے روز وزیر دفاع میخائیلو فیدوروف کی برطرفی کے بعد اعلیٰ فوجی قیادت کے درمیان طویل عرصے سے جاری اختلافات کے منظر عام پر آنے کے بعد دیا۔
اصلاحات کے حامی وزیر کے طور پر دیکھے جانے والے فیدوروف کے ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد یوکرین میں غیر معمولی احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔ ان کے اور یوکرینی فوج کے سربراہ جنرل اولیکساندر سیرسکی کے درمیان اختلافات کئی عرصے سے جاری تھے۔
ملکی صدر زیلنسکی نے کہا کہ جنگ کے دوران کسی صدر کو ایسی صورتحال میں انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’سچ کہوں تو جنگ کے وقت ایک صدر کو ایسی صورتحال میں کوئی انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔ میں بہت زیادہ اتحاد چاہتا ہوں۔‘‘ فیدوروف نے فوجی سربراہ سیرسکی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے وزارت دفاع کے کئی منصوبوں میں رکاوٹ ڈالی اور مسائل کو براہ راست حل کرنے سے گریز کیا۔
یوکرین میں احتجاجی مظاہرے
فیدوروف نے کہا، ’’روس کو شکست دینے کے طریقے تلاش کرنے کے بجائے، انہوں نے ملک کو تقسیم کرنے کا طریقہ تلاش کر لیا ہے۔‘‘
تجزیہ کاروں کے مطابق زیلنسکی نے جنگ کے ایک اہم مرحلے پر اپنے قابل اعتماد فوجی کمانڈر جنرل سیرسکی کا ساتھ دیا ہے۔
اس سے قبل جب صدر زیلنسکی حکومت میں رد و بدل کے تحت وزیر دفاع کو ہٹانے کی تیاری کر رہے تھے، تو دارالحکومت کییف سمیت دیگر شہروں میں سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔ فیدوروف نے بدھ کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق کی تھی کہ صرف چھ ماہ بعد ہی ان کی وزارت کا دور ختم ہو رہا ہے۔
فیدوروف کو بیوروکریسی کم کرنے، ڈرون وارفیئر میں ملکی جنگی صلاحیتیں بڑھانے اور روسی افواج کے خلاف ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی اپنانے کے حوالے سے سراہا جاتا رہا ہے۔

زیلنسکی کے نامزد کردہ امیدوار نئے وزیر اعظم منتخب
یوکرینی پارلیمان نے جمعرات کے روز صدر وولودیمیر زیلنسکی کے نامزد کردہ امیدوار سیرگئی کوریٹسکی کو ملک کا نیا وزیر اعظم منتخب کر لیا۔ کوریٹسکی اس سے قبل سرکاری توانائی کمپنی نافٹوگاز کے سربراہ تھے۔ وہ یولیا سویریڈینکو کی جگہ وزیر اعظم بنائے گئے ہیں، جنہوں نے اس ہفتے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ حکومت میں ’’ضروری تبدیلیاں‘‘ کی جا رہی ہیں اور کوریٹسکی کو اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ ان کا توانائی کے شعبے کا تجربہ یوکرین کو آنے والے ایک اور مشکل موسم سرما کے لیے تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یوکرین کو روس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملوں کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث سردیوں کے مہینوں میں بجلی کی فراہمی اور ہیٹنگ بڑے چیلنج بن جاتی ہیں۔
بطور وزیر اعظم کوریٹسکی کی تقرری ایسے وقت پر ہوئی ہے، جب صدر زیلنسکی جنگ کے دوران حکومتی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے اور ملکی دفاع اور معیشت کے لیے اقدامات کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔



